رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ میں احتجاج شدت اختیار کرنے لگا، سرکاری عمارتوں پر حملے


پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا

ہانگ کانگ میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاج اب شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے سرکاری عمارتوں پر حملوں اور پولیس اہلکاروں سے جھڑپوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ہفتہ اور اتوار کو ٹرین اسٹیشنز پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ دوسری جانب مظاہرین نے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے۔

پولیس نے لاتعداد افراد کو حراست میں بھی لیا ہے تاہم ان کی حتمی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

اتوار کو مظاہرین کی بڑی تعداد ایئر پورٹ کے بس ٹرمینل پر جمع ہوئی۔ جس کے بعد انتظامیہ نے ایئر پورٹ آنے والی ایکسپریس ٹرین معطل کر دی ہے۔

مظاہرین کی بڑی تعداد ایئر پورٹ کے باہر پہنچی تاکہ ہوائی اڈے جانے والے راستے بند کیے جا سکیں
مظاہرین کی بڑی تعداد ایئر پورٹ کے باہر پہنچی تاکہ ہوائی اڈے جانے والے راستے بند کیے جا سکیں

مظاہرین نے کچھ روز قبل بھی ایئر پورٹ پر فلائٹ سروس معطل کر دی تھی بعد ازاں عدالتی حکم پر سروس بحال ہو سکی تھی۔ تاہم اب ایک بار پھر احتجاج کرنے والے افراد ایئرپورٹ کا رخ کر رہے ہیں۔

قبل ازیں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ہانگ میں متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔

مظاہرین نے کئی شاہراہوں اور گلیوں میں آگ لگائی
مظاہرین نے کئی شاہراہوں اور گلیوں میں آگ لگائی

مظاہرین کے ایک گروہ نے شہر کے قانون ساز ادارے کے باہر بھی احتجاج کیا اور اس دوران عمارات پر پتھراؤ کی کوشش کی جبکہ پولیس کی جانب ےسے عمارت سے کچھ دور لگائی گئی رکاوٹوں کو آگ لگا دی۔ فائر بریگیڈ کی آمد سے قبل آگ کے شعلے کافی بلند ہو چکے تھے تاہم بعد ازاں آگ کو بجھا دیا گیا تھا۔

پولیس ہیڈ کوارٹرز کے قریب بھی مختلف رکاوٹوں کو نذر آتش کیا گیا جس سے سیاہ دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے پولیس میٹرو اسٹیشن کے اندر مظاہرین پر آہنی ڈنڈوں سے تشدد کر رہی ہے جس سے کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ اور ان کے سر سے خون نکل رہا ہے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے لیے آنسو گیس استعمال کی
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے لیے آنسو گیس استعمال کی

پولیس اہلکار مظاہرین کو ساتھ ہی ساتھ گرفتار بھی کرتے جا رہے تھے اور ہتھکڑیاں لگا کر ان کے ہاتھ پیچھے باندھ رہے تھے۔

برطانوی اخبار 'گارجین' کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بیان جاری کیا کہ مظاہرین نے میٹرو اسٹیشن پر مسافروں کو معلومات فراہم کرنے والے بوتھ میں توڑ پھوڑ کی تھی جبکہ ٹکٹ مشین کو بھی نقصان پہنچایا تھا جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

پولیس نے میٹرو اسٹیشن سے 40 افراد کو گرفتار کرنے کی بھی تصدیق کی۔

پابندی کے باوجود مظاہرین کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی
پابندی کے باوجود مظاہرین کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اسپتال حکام نے کہا ہے کہ احتجاج میں زخمی ہونے والے 31 افراد کو طبی امداد کے لیے لایا گیا۔

حکام کے مطابق کئی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا جبکہ پانچ مظاہرین کو شدید چوٹیں آئی جن کا علاج جاری ہے۔

خیال رہے کہ انتظامیہ نے مظاہرین کے احتجاج پر پابندی عائد کی تھی اس کے باوجود ہفتے کو سیکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور ریلیوں میں شامل ہوئے۔

یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں مظاہرے اُس وقت شروع ہوئے جب پارلیمان میں ایک قانونی مسودہ پیش کیا گیا، جس میں ایسے افراد کو چین بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا، جن پر مجرمانہ اقدامات میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔

دوسری جانب احتجاج کرنے والے مظاہرین یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ اُنہیں ہانگ کانگ کے نئے سربراہ کے انتخاب کے سلسلے میں منصفانہ اور آزادانہ طور پر ووٹ دینے کا اختیار دیا جائے۔

ہانگ کانگ پر چین کا کنٹرول ہے تاہم اسے معاہدے کے تحت کچھ آزادیاں حاصل ہیں گو کہ حکومت نے ملزمان کی چین حوالگی کا بل پارلیمان میں متعارف کروانے کے بعد واپس لے لیا تھا تاہم اس کے باوجود مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آ سکی۔

کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے باعث چین اضافی فورسز ہانگ کانگ کے قریب تعینات کر چکا ہے۔ جب کہ متعدد جمہوریت پسند کارکنوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

جمہوریت کے حق میں مظاہرے کرنے والے سرگرم کارکن 'جوشوا وونگ' کو مظاہروں کی منصوبہ بندی کرنے کے شبہ میں دو روز قبل گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن بعد ازاں ان کو ضمانت پر رہائی دے دی گئی۔ جوشوا وونگ جمہوریت کے حق میں ہونے والے 2014 مظاہروں کے روحِ رواں ہیں۔

امریکہ نے بھی احتجاج کرنے والوں سے نرمی برتنے پر زور دیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر چین تجارتی مذاکرات میں پیش رفت چاہتا ہے تو اسے ہانگ کانگ میں مظاہرین کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ہو گا۔

دوسری جانب چین نے مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ کو چین کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے پر متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان مظاہروں سے سختی سے بھی نمٹ سکتا ہے۔

علاوہ ازیں بیجنگ نے دو روز قبل ہی اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے 70 ویں یومِ آزادی پر یکم اکتوبر 2019 کو چین کی تاریخ کی بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کرنے جا رہا ہے جس میں جدید ترین ہتھیاروں کی نمائش بھی کی جائے گی۔

اس پریڈ کے حوالے سے چین کی فوج کے جنرل اسٹاف ممبر جنرل کیف زہجن نے کہا ہے کہ چین کی اس پریڈ کا مقصد کسی کو کوئی خاص پیغام دینا نہیں ہے۔

امبریلا موومنٹ

گزشتہ سال ستمبر میں بھی مظاہرین کی 'آکو پائی سنٹرل' احتجاجی تحریک نے ہانگ کانگ کی ایک مرکزی شاہراہ کو ڈھائی ماہ تک بند رکھا تھا۔ اس دوران ایک وقت میں مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی جو بیجنگ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج رہا۔

بیجنگ میں حکام نے ان احتجاجی دھرنوں کو غیر قانونی قرار دیا اور بالآخر پولیس کی مدد سے ان کے مطالبات مانے بغیر مظاہروں کو ختم کرا دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG