رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے سبب امریکیوں کی اوسط عمر میں ایک سال کی ریکارڈ کمی


کیلی فورنیا میں ایک ایمرجنسی ورکر ۔ 8 جنوری، 2021 (فوٹو: اے پی)

امریکہ کے صحت سے متعلق ادارے یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی جانب سے جمعرات کے روز اعداد و شمار شائع کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ 2020 کے نصف اول کے دوران امریکی شہریوں کی اوسط عمر ایک سال گھٹ گئی ہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکی شہریوں کی اوسط عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔

جنوری تا جون 2020 کے سی ڈی سی کے نیشنل سینٹر فار ہیلتھ اسٹیٹسٹکس کے مطابق سب سے زیادہ متاثر اقلیتیں ہوئیں۔ سیاہ فام امریکیوں کی اوسط عمر میں تین برس کی کمی دیکھنے میں آئی جب کہ ہسپانوی امریکیوں کی اوسط عمر میں دو برس کی کمی ہوئی۔

طبی حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار کرونا وائرس کی عالمی وبا سے ہونے والے نقصان کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اعداد و شمار منشیات کے استعمال، قلبی امراض اور وبا کے پھیلاؤ سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کی اموات کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔

سی ڈی سی کا ادارہ اوسط عمر کا تعین آج پیدا ہونے والے بچے کی اوسط عمر سے کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2020 کے نصف اول کے بعد امریکیوں کی اوسط عمر 77 اعشاریہ 8 برس تھی۔ یہ اوسط 2019 میں 78 اعشاریہ 8 برس تھی۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں مردوں کی اوسط عمر 75 اعشاریہ ایک برس جب کہ خواتین کی اوسط عمر 80 اعشاریہ 5 برس ہے۔

ادارے کے مطابق اس سے پہلے امریکیوں کی عمر میں ڈرامائی کمی دوسری جنگ عظیم کے دوران ہوئی تھی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اب امریکی اتنی ہی اوسط عمر پا رہے ہیں جتنی 2006 میں اوسط تھی۔

امریکہ میں اوسط عمر بیسیوں صدی کے دوران تسلسل سے بڑھتی رہی ہے جو کسی بھی ملک کی آبادی کے صحت مند ہونے کی نشانی ہے۔ 2020 امریکہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال تھا جس میں 30 لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے ہی عالمی وبا ختم ہو گی، اوسط عمر میں کمی ختم ہونا شروع ہو جائے گی اور اس کی سطح دوبارہ سے بلند ہو جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG