رسائی کے لنکس

logo-print

تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی پر پاک امریکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس


ذرائع کے مطابق، دونوں فریق نے تسلیم کیا کہ ’یو ایس پاکستان نالج کوریڈور ‘ دونوں ملکوں کے تعلقات کو پائیدار بنیاد فراہم کرتا ہے، اور یہ کہ اس سے طویل مدتی معاشی افزائش کے ہدف کو فروغ دینے میں مدد ملے گی

پاکستان امریکہ اسٹریٹجک ڈائلاگ کے اجلاس کے حوالے سے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کے لیے قائم باہمی ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں گذشتہ سال حاصل ہونے والی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، جس میں قابلِ عمل میگا منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں پبلک سفارتکاری اور عوامی امور کے امریکی معاون وزیر، رچرڈ اسٹینگل اور پاکستانی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقیات اور اصلاحات، احسن اقبال نے اپنے ملکوں کی نمائندگی کی۔

ساتھ ہی، ورکنگ گروپ، ’امریکہ پاکستان نالج کوریڈور‘ کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مابین تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ ایک پریس رلیز میں بتایا گیا ہے کہ ورکنگ گروپ کا دھیان تدریسی نیٹ ورکس، پارٹنرشپ اور تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر موکوز رہا۔

اس موقع پر رچرڈ اسٹینگل اور احسن اقبال نے ایک بیان پر دستخط کیے جِس میں پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے عزم کو تسلیم کیا گیا، جو اس بات کی خواہاں ہے کہ ’فلبرائٹ پروگرام‘ کے تحت اگلے پانچ برس کے دوران مزید 125 پاکستانی طالب علموں کو امریکہ میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تعلیم دی جائے گی۔

رقوم کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے، اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ’فلبرائٹ پروگرام‘ کو مکمل کرنے کے لیے مزید امریکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جب کہ یہ تسلیم کیا گیا کہ فلبرائٹ پروگرام میں سب سے زیادہ طالب علم پاکستان سے آتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق نے تسلیم کیا کہ ’یو ایس پاکستان نالج کوریڈور ‘ دونوں ملکوں کے تعلقات کو پائیدار بنیاد فراہم کرتا ہے، اور یہ کہ اس سے طویل مدتی معاشی افزائش کے ہدف کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس جون 2015ء میں اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق، اجلاس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے رسرچ گرانٹس میں شراکت میں فنڈ کو دوگنا کرنے؛ توانائی، پانی اور زراعت/غذائی سکیورٹی کے میدان میں اعلیٰ مطالعے کے امریکہ پاکستان مراکز کے قیام پر بات ہوئی، جو دونوں ملکوں کے مابین یونیورسٹی پارٹنرشپس کے مجموعی طور پر 23منصوبوں کا ایک حصہ ہے۔ ساتھ ہی، لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں مشترکہ منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

ورکنگ گروپ میں امریکی معاون وزیر نے یونیورسٹی آف میساچیوسٹس اور بلوچستان کی یونیورسٹیوں کے کنسورشیم کے مابین نئی یونیورسٹی پارٹنرشپ قائم کرنے کا اعلان کیا۔

احسن اقبال نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ سال 2025ء تک امریکی یونیورسٹیوں میں 10000 پاکستانی ’پی ایچ ڈی‘ کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس ضمن میں دونوں فریق نے اتفاق کیا کہ تیسری سطح پر امریکہ میں پاکستانی طالب علموں کے لیے تعلیمی مواقع میں توسیع کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔

دونوں فریق نے بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری جاری رکھی جائے، جس میں ’لیٹ گرلز لَرن اِنی شئیٹو‘ شامل ہوگا؛ جس کی بدولت اعلیٰ تعلیم کی حامل ایک اہل ’ورک فورس‘ تیار ہوگی جو جدت، جنسی مساوات اور دانش کی بنیاد پر معیشت کو فروغ دینے میں معاون ہوگی۔

سنہ 2013 سے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ کو دوگنا کرنے پر امریکہ نے پاکستان کے اقدام کو سراہا، جس کا مقصد بچیوں اور خواتین کی تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے کی کوشش کرنا ہے؛ اور 2018ء تک مجموعی قومی پیداوار میں تعلیم پر دو فی صد سے چار فی صد تک اضافہ کیا جائے گا، اور تعلیم پر اخراجات میں اضافے کا عہد کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG