رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: ملزم کا ڈاک کے ذریعے پائپ بم بھیجنے کا اعتراف


عدالتی پیشی کا اسکیچ

فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم نے اس بات کا اقبال جرم کیا ہے کہ سال 2018کے اواخر میں اُنھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی معروف شخصیات اور صدر ٹرمپ کے ناقدین کو ڈاک کے ذریعے ’’پائپ بم‘‘ پوسٹ کیے تھے۔

سزار سیوک نے یہ بات نیویارک میں وفاقی جج کی عدلت میں ’پلی بارگین‘ کے دوران روتے ہوئے کہی۔

اُنھوں نے فرد جرم میں اپنے اوپر لگنے والے 65 الزامات قبول کیے، یہ کہتے ہوئے کہ ’’میں پشیمان ہوں‘‘۔ الزامات میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کرنے اور دھماکہ خیز مواد پوسٹ کرنے کا ذکر تھا، جس میں ارادہ ہلاک کرنے کا تھا۔

اُنھیں عمر قید کی سزا ہونے کا امکان ہے۔

چھپن برس کے سابق پیزا ڈلوری کے ڈرائیور کو 26 اکتوبر کو فلوریڈا کے شہر لوڈرڈیل سے گرفتار کیا گیا تھا، اور اُن پر پانچ وفاقی جرائم عائد تھے۔

سیوک ایک سفید وین میں رہا کرتا تھا جس پر دائیں بازو کے سیاست دانوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ وہ ٹرمپ کے حامی تھے اور ٹرمپ کے ناقدین کی مذمت کرتے تھے۔ کافی دن تلاشی جاری رہنے کے بعد اُنھیں زیر حراست لیا گیا تھا۔

سیوک پر 16 پائپ بم پوسٹ کرنے کا الزام ہے، جن میں چند سابق صدور براک اوباما اور بل کلنٹن؛ سابق نائب صدر جو بائیڈن؛ سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن؛ مالی امداد کرنے والے ارب پتی، جارج سوروز؛ ایکٹر رابرٹ ڈی نیرو؛ کانگریس کے متعدد ارکان، اور نیو یارک اور انٹلانٹا کے سی این این کے دفاتر شامل ہیں۔

پوسٹ کیے گئے بم دھماکے سے نہیں پھٹے، جنھیں قبضے میں لے کر ناکارہ بنایا گیا، اور کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG