رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف مہم کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے، وال اسٹریٹ جرنل


دہشت گردی کے خلاف مہم کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے، وال اسٹریٹ جرنل
دہشت گردی کے خلاف مہم کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے، وال اسٹریٹ جرنل

’وال اسٹریٹ جرنل‘ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے القاعدہ کے کئی ممتاز لیڈروں کو یا تو ہلاک کردیا ہے یا گرفتار، اور اب ایسے سینئر لیڈروں کا متبادل تلاش کرنا آسان کام نہیں ہے۔ مگر اِس کے باوجود، القاعدہ اب بھی دہشت گردی کے نئے طریقوں اور حربوں کی تلاش میں ہے

اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ’القاعدہ کے لمبے ہاتھ‘ کے عنوان سے اپنے اداریے کا آغاز اسامہ بن لادن کے ایک قول سے کیا ہے۔اسامہ بن لادن نے کہا تھا کہ، ’ جب لوگ کمزور اور طاقت ور گھوڑے کو دیکھتے ہیں، تو قدرتی طور پر وہ توانا گھوڑے کی طرف مائل ہوجاتے ہیں‘، اور اب اِس وقت القاعدہ کو توانا گھوڑا سمجھنا محال ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جاری دس سالہ مہم کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

امریکہ نے القاعدہ کے کئی ممتاز لیڈروں کویا تو ہلاک کردیا ہے یا گرفتار کر لیا ہے اور اب ایسے سینئر لیڈروں کا متبادل تلاش کرنا آسان کام نہیں ہے۔ مگر اِس کے باوجود، القاعدہ اب بھی دہشت گردی کے نئے طریقوں اور حربوں کی تلاش میں ہے۔

اِس وقت امریکہ کے سامنے القاعدہ کی عرب جزیرہ نما میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں تشویش کا باعث ہیں۔ جس نے جنوبی یمن کے کئی شہروں میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں انسدادِ دہشت گردی کے مشیر جان برینن نے اِس ماہ کہا تھا کہ ہم القاعدہ کے خلاف دنیا میں کہیں بھی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، بشرطیکہ مطلوبہ ملک یا حکومت اِس کے خلاف کارروائی سے گریزاں نظر آئے۔

اِسی طرح، اپنے حلیفوں کی تلاش میں القاعدہ کی نظرصومالیہ کی تنظیم الشباب پر بھی ہے۔مشرقی افریقہ میں اب تک اُن کی پیش رفت کو زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے، کیونکہ الشباب خود بھی باہمی تفرقے کا شکار ہے۔

دوسری طرف، امریکہ، کینیا اور اتھیوپیا کی حوصلہ افزائی کررہا ہے کہ وہ صومالی مہاجرین کو فوجی تربیت فراہم کریں تاکہ وہ الشباب سے نبردآزما ہوسکیں۔

اِسی طرح، افغانستان میں امریکہ کوچاہیئے کہ وہ علاقائی ساتھیوں سےکہے کہ وہ وہاں پر تعمیر ِ نو کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

ضرورت اِس بات کی ہے کہ افغانستان میں کم تعلیم یافتہ، ناپختہ ذہن رکھنے والے نوجوانوں کی نظر میں امریکہ کا تصور مثبت اور تعمیری ہو۔

اگر آئندہ دس برسوں میں امریکہ نے اِس مقصد کو کامیابی سے حاصل کر لیا تو پھر کمزور اور توانا گھوڑے کا سوال فیصلہ کُن طور پر طے پاجائے گا۔

اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ نے روس میں مسٹر پوٹن کے دوبارہ صدارتی امیدوار بننے پر تبصرہ کیا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ موجودہ صدر میدویدیف کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ بطور وزیر اعظم زیادہ مطمئن رہتے ہیں۔

تاہم، صدر اوباما کے لیے شاید یہ اچھی خبر نہ ہو کیونکہ اُنھوں نے مسٹر مدویدیف کے روشن مستقبل کے پیشِ نظر اُن سے بہتر تعلقات استوار کرنے کا خوب خوب جتن کیا تھا۔

اِسی طرح، روس کے بعض پڑوسی ممالک بھی اس خبر پر زیادہ خوش نہیں ہوں گے۔

کمیونسٹ پارٹی کے برخلاف مسٹر پوٹن کی کوئی خاص آئڈیولوجی نہیں ہے۔ تاہم، اُنھیں اپنے قومی ورثے کا شدید احساس ہے۔ بہر حال، اب روس کی صورتِ حال خاصی واضح ہوتی جارہی ہے اور دنیا کے دوسرے ممالک اب روس کے ساتھ زیادہ بہتر طور پر معاملہ طے کر سکتے ہیں۔

اخبار’ نیو یارک ٹائمز‘ نے جاپان میں بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری کے بارے میں اپنے اداریے میں حکومت کی پالیسی کی عمومی طور پر تعریف کی ہے۔

سونامی کے حادثے کے بعد جاپان کے 15ری ایکٹرز بند ہوگئے تھے اور بجلی کی کم پیدوار کے باعث حکومت نے اس کے استعمال کو 15فی صد کم کردیا تھا۔ تاہم، شبانہ روز محنتوں کے بعد اب حکومت نے اِس پابندی کو اٹھا لیا ہے۔ لیکن، یہ سوال اب بھی جاپان میں شدت سے کیا جا رہا ہے کہ کب اور کیسے متاثرہ ایٹمی بجلی گھروں کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG