رسائی کے لنکس

logo-print

حوثی باغیوں پر امریکی پابندیوں سے یمن میں امدادی کارروائیاں متاثر ہوں گی: اقوامِ متحدہ


یمن کے حوثی باغیوں پر امریکی پابندیاں 19 جنوری سے نافذ ہوں گی۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی بھلائی کے ادارے کے سربراہ مارک لو کُک نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے یمن کے حوثی باغیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو بھوک و افلاس سے متاثرہ ملک یمن میں امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں اور یہ ملک بڑے پیمانے پر قحط میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے پہلے سے تیار شدہ ایک بیان میں کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتائیں گے کہ اس وقت اولین ترجیح یمن میں ممکنہ طور پر بڑے پیمانے میں پیدا ہونے والے قحط کو روکنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق یمن میں اس سال ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کو شدید قحط میں مبتلا ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔

مزید 50,000 افراد پہلے ہی قحط کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں اور پچاس لاکھ مزید افراد اس کیفیت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

لو کُک کا کہنا ہے کہ دنیا کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ان حقائق کو مد نظر رکھنا ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یوں انہیں سرحد پار شہری آبادیوں، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی جہاز رانی کو ہدف بنانے کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت یمن کے قحط زدہ افراد کو خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت یمن کے قحط زدہ افراد کو خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔

وزیر خارجہ پومیو کا کہنا تھا کہ حوثیوں کو 19 جنوری سے دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا جائے گا۔ یہ دن ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار کا آخری دن ہے۔

پومیو کا مزید کہنا تھا کہ ایسے اقدام کا مقصد یمن کو ایک پر امن، خود مختار اور متحد ملک بنانا ہے جو ایرانی مداخلت سے آزاد ہو اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکے۔

یمن اپنی ضرورت کی 90 فیصد خوراک درآمد کرتا ہے اور یہ خوراک فراہم کرنے والے، بینک اور جہاز ران کمپنیاں ممکنہ طور پر امریکی اقدام کے نیتجے میں یمن کے درآمد کنندگان کے ساتھ کاروبار کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی ادارے اس مقصد کیلئے کوئی متبادل راستہ اختیار نہیں کر سکتے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تو نئی آنے والی بائیڈن انتظامیہ آسانی سے اس فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکے گی۔

معروف تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے تجزیہ کار نبیل خوری کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو اس کیلئے کانگریس میں جواز پیش کرنا ہو گا کہ وہ حوثیوں کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے باوجود اسے کیوں تبدیل کرنے کی خواہاں ہے اور یہ کام آسان نہیں ہو گا۔

خوری کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے حوثیوں کے لیڈروں کو امن بات چیت پر آمادہ کرنے میں بھی دشواری ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG