رسائی کے لنکس

logo-print

عراق اور شام میں ایران نواز ملیشیا کے خلاف کارروائی کامیاب رہی: امریکہ


وزیرِ دفاع مارک ایسپر کے مطابق صدر ٹرمپ کو حالیہ فضائی کارروائی سے آگاہ کر دیا ہے۔

امریکہ کے حکام کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف کی جانے والی فضائی کارروائی کامیاب رہی۔ خطے میں امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراقی ملٹری بیس پر راکٹ حملے میں امریکی سویلین کنٹریکٹر کی ہلاکت کے جواب میں اتوار کو امریکی فوج نے حزب اللہ ملیشیا کے خلاف کارروائی کی ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شام اور عراق میں کی جانے والی فضائی کارروائی سے متعلق بریفنگ بھی دی ہے۔

اس بریفنگ کے بعد وزیر خارجہ مائیک پومپیو، وزیر دفاع مارک ایسپر اور امریکی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملے نے صحافیوں سے گفتگو بھی کی اور شام اور عراق میں کی جانے والی کارروائی سے متعلق میڈیا کو آگاہ کیا۔

وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ فضائی کارروائی کامیاب رہی ہے اور صدر ٹرمپ کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

اُن کے بقول، "صدر ٹرمپ سے متبادل آپشن پر بھی بات کی ہے۔ ہم نے یہ بھی اخذ کیا ہے کہ ہمیں اپنے دفاع کے لیے اضافی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ملیشیا گروپس یا ایران کے خلاف مزید جارحانہ طریقے سے پیش آئیں گے۔"

صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم ایران کے خلاف ایسا کوئی قدم اٹھانے نہیں جا رہے جس سے امریکیوں کو کوئی خطرہ لاحق ہو۔

عراقی سیکیورٹی اور ملیشیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو عراق میں کی جانے والی امریکی فضائی کارروائی میں کم از کم 25 جنگجو ہلاک اور لگ بھگ 55 زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی فضائی کارروائی میں کم از کم 25 جنگجو ہلاک اور لگ بھگ 55 زخمی ہوئے ہیں۔ (فائل فوٹو)
امریکی فضائی کارروائی میں کم از کم 25 جنگجو ہلاک اور لگ بھگ 55 زخمی ہوئے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ایران نے امریکی فضائی کارروائی کی مذمت کی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباسی موسوی کا کہنا ہے کہ عراق کی سر زمین پر امریکی فورسز کی جارحیت دہشت گردی کی واضح علامت ہے، ایران امریکی کارروائی کی مذمت کرتا ہے۔

رواں مہینے کے آغاز میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران اور ملیشیا گروپ کی جانب سے امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے شام کی سرحد سے متصل مغربی ضلع 'قائم' میں ملیشیا گروپ کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جس میں کتائب حزب اللہ کے کم از کم چار کمانڈرز مارے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق فضائی کارروائی میں شام میں دو اور عراق میں ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا گروپ کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پینٹاگون کے مطابق جن مقامات پر حملے کیے گئے ان میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مقام سمیت کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مرکز بھی شامل ہے جہاں سے غیر ملکی افواج پر حملے کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔

امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ فضائی کارروائی میں ایف 15 لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔

امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کتائب حزب اللہ کے جنگجوؤں نے جمعے کو عراقی شہر کرک میں 30 راکٹ فائر کیے جس کے نتیجے میں ایک امریکی سویلین کنٹریکٹر ہلاک اور چار امریکی اور دو عراقی فورسز کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہف مین کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ امریکی مسلح افواج نے اپنے دفاع میں کتائب حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اُن کے بقول، اس کارروائی کے نتیجے میں کتائب حزب اللہ کی غیر ملکی افواج پر حملوں کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا تھا جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایران پر مزید معاشی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن سے اس وقت تک بات نہیں ہوگی جب تک امریکہ جوہری معاہدے پر واپس نہیں لوٹ آتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG