رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سینیٹر جان مکین انتقال کر گئے


فائل فوٹو

جان مکین کو امریکی سیاست میں ان کے دلیرانہ مؤقف اور نکتۂ نظر کی وجہ سے 'میورک' یعنی باغی کے طور پر جانا جاتا تھا۔

ری پبلکن جماعت کے رہنما اور امریکی سینیٹ کے سینئر رکن جان مکین انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 81 برس تھی۔

سینیٹر مکین گزشتہ ایک برس سے دماغ کے سرطان میں مبتلا تھے اور ریاست ایریزونا میں زیرِ علاج تھے۔ وہ اپنی علالت کے باعث گزشتہ سال دسمبر سے واشنگٹن ڈی سی سے غیر حاضر تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام ایریزونا میں واقع اپنے گھر میں گزارے۔

سینیٹر مکین کے انتقال کا اعلان ہفتے کو ان کےد فتر سے جاری ایک بیان میں کیا گیا جس کے مطابق ان کا انتقال ہفتے کی شام ساڑھے چار بجے ہوا۔

امریکی ریاست ایریزونا سے منتخب سینیٹر مکین کے دماغ کے سرطان کی ایک قسم 'گلیو بلاسٹوما' میں مبتلا ہونے کی تشخیص گزشتہ سال جولائی میں ہوئی تھی جس کے بعد سے ان کا علاج جاری تھا۔

تاہم جمعے کو ان کے اہلِ خانہ نے اعلان کیا تھا کہ سینیٹر مکین نے اپنا علاج مزید جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جان مکین کو امریکی سیاست میں ان کے دلیرانہ مؤقف اور نکتۂ نظر کی وجہ سے 'میورک' یعنی باغی کے طور پر جانا جاتا تھا۔

ری پبلکن پارٹی کے رکن ہو کر بھی وہ اپنی پارٹی کی پالیسیوں پر کھل کر اپنے اختلافی مؤقف کا اظہار کرتے رہے۔ ان کا شمار صدر ٹرمپ کے کڑے ناقدین میں ہوتا تھا۔

سینیٹر مکین پہلی بار 1986ء میں امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اس کے بعد سے مسلسل سینیٹ کے رکن منتخب ہوتے آ رہے تھے۔

ان کا شمار کانگریس کے سرگرم اور فعال ترین ارکان میں ہوتا تھا۔ تاہم ان کے ناقدین کا خیال تھا کہ جان مکین سفارت کاری پر جنگ کو ترجیح دینے والے سیاست دان تھے اور ان کا خیال تھا کہ محاذ آرائی سے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

وہ 2008ء کے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن جماعت کے امیدوار بھی تھے لیکن وہ یہ انتخاب امریکہ کی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر براک اوباما سے ہار گئے تھے۔

سینیٹر مکین ایک امریکی ایڈمرل کے بیٹے اور خود بھی سابق فوجی تھے جو امریکہ کی طرف سے ویتنام کی جنگ میں بھی شریک رہے تھے۔ اس جنگ کے دوران وہ پانچ سال تک قیدی بھی رہے تھے۔

'گلیو بلاسٹوما' کی تشخیص ہونے سے قبل بھی مکین جلد کے سرطان کی سب سے خطرناک قسم میلانوما سمیت مختلف عارضوں کا شکار رہ چکے تھے جن کی بڑی وجہ ڈاکٹروں کے مطابق 1967ء سے 1973ء کے دوران ویتنام میں جنگی قیدیوں کے کیمپ میں ان کا حراست میں رہنا تھا جہاں انہیں سخت مشکل حالات سے گزرنا پڑا تھا۔

سینیٹر مکین کے انتقال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ اور ری پبلکن – دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی سینیٹر مکین کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر سینیٹر جان مکین خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعاون کے حامی تھے اور پاکستان میں ان کی کمی محسوس کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG