رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں ایک روز کے دوران ریکارڈ کیسز، ٹیکساس کو کھولنے کا فیصلہ ملتوی


امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ ٹیسٹس کی استعداد بڑھانے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ میں ایک روز کے دوران کرونا وائرس کے ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد بعض ریاستوں نے معمولاتِ زندگی بحال کرنے کا عمل روک دیا ہے۔

امریکہ میں جمعرات کو 39 ہزار 818 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایک روز کے دوران نئے کیسز کی یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

بدھ کو بھی امریکہ میں 36 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس سے قبل آخری مرتبہ 24 اپریل کو امریکہ میں 36 ہزار 426 کیسز کی ریکارڈ تعداد نوٹ کی گئی تھی۔

رواں ہفتے ریاست ایریزونا، کیلی فورنیا، فلوریڈا، میزوری، نیواڈا، جنوبی کیرولائنا، اوکلاہوما اور الاباما میں ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ ٹیسٹس کی استعداد بڑھانے کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ حکومت کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق امریکی عوام میں پائے جانے والے خدشات کو کم کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ لیکن ایک درجن سے زائد ریاستوں میں نئے کیسز کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافے سے ملک میں کاروبارِ زندگی کی بحالی کی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔

امریکہ میں صحت اور انسانی بہبود کے وزیر الیکس آزار نے 'فاکس نیوز' کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ حکومت ریاستوں کے گورنروں اور مقامی رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ لیکن امریکیوں کو یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ حالیہ کیسز مقامی سطح پر پھیلے ہیں۔

امریکہ میں ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لگ بھگ دو کروڑ امریکی شہری کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد حکومتی اعداد و شمار سے دس گنا زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق بہت سے ایسے افراد بھی کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں جن میں کرونا وائرس کی بظاہر کوئی علامات نظر نہیں آتیں۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ایسے افراد جن میں کرونا کی علامات موجود نہیں ہوتیں، وہ بھی دوسرے افراد کو متاثر کرکے وبا کو پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔

ٹیکساس کو کھولنے کا فیصلہ ملتوی

کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ٹیکساس کے گورنر نے ریاست میں معمولاتِ زندگی بحال کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔

کاروبارِ زندگی کی بحالی اور شہروں کو کھولنے کی مہم میں ریاست ٹیکساس سب سے آگے تھی۔ لیکن پیر کو ریاست بھر میں چھ ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ریاستی حکام نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کردی ہے۔

گورنر کریگ ایبٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ معمولاتِ زندگی کی عارضی بحالی ملتوی کرنے سے وبا کا مزید پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔

ان کے بقول ایسا اس وجہ سے کیا جا رہا ہے تاکہ ریاست کو کاروبار کے لیے کھولنے کے اگلے مرحلے میں محفوظ طریقے سے داخل ہوا جائے۔

گورنر ایبٹ نے ہیوسٹن، ڈیلس، آسٹن اور سین انتونیو کے مختلف اسپتالوں میں معمول کے آپریشنز کو منسوخ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ مذکورہ علاقوں کے اسپتالوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے بستروں کو خالی رکھا جائے۔

کیلی فورنیا میں بجٹ ایمرجنسی کا اعلان

ریاست کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث بجٹ ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

ریاست میں گزشتہ 24 گھںٹوں کے دوران 5350 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ بدھ کو ریکارڈ 7149 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

نیویارک، نیوجرسی اور کنکٹی کٹ کی حکومتوں نے بدھ کو آٹھ دیگر ریاستوں سے آنے والے شہریوں پر دو ہفتے قرنطینہ میں گزارنے کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مذکورہ ریاستوں نے فلوریڈا، شمالی و جنوبی کیرولائنا، ٹیکساس، الاباما، ایریزونا، آرکنسا، فلوریڈا اور یوٹا کے شہریوں پر ریاست آمد پر قرنطینہ کو لازمی قرار دیا ہے۔ ان تمام ریاستوں میں حالیہ چند روز میں کرونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG