رسائی کے لنکس

میانمار کے جنرل اور ایک پاکستانی سرجن سمیت 52 افراد پر تعزیرات عائد


بنگلہ دیشی مہاجر کیمپ

امریکہ نے جمعرات کے روز میانمار فوج کے سربراہ پر تعزیرات عائد کی ہیں، جن پر روہنگا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کی مہم کی قیادت کا الزام ہے۔

میانمار کے جنرل مونگ مونگ سوئی دنیا بھر میں انسانی حقوق کی انحرافی کرنے والے 52 افراد میں شامل ہیں، جن پر امریکی محکمہٴ خزانہ نے تعزیرات عائد کی ہیں۔

اِن میں گیمبیا کے سابق صدر، یحیٰ جمیع شامل ہیں، جن کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے قتل کرانے کے لیے ایک دستہ تیار کیا جنہیں ہدایات دی گئیں کہ اُن افراد کو راستے سے ہٹایا جائے جو اُن کی نظروں میں اُن کی قیادت کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔

ایک پاکستانی سرجن، مختار حامد شاہ کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ ٴمالیات نے بتایا ہے کہ سرکاری پولیس کا خیال ہے کہ مختار حامد شاہ انسانی اعضاٴ کی چوری اور اسمگلنگ میں ملوث رہا ہے۔

گلنارہ کریموف، ازبکستان کے سابق مطلق العنان کی بیٹی ہیں، جن پر بھی تعزیرات لگائی گئی ہیں۔ اُن پر الزام ہے کہ وہ ایک منظم تنظیم سے مل کر جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں، جن کے اثاثوں کی مالیت 1.3 ارب ڈالر ہے۔

یہ تعزیرات عالمی ’میگنسکی‘ ہیومن رائٹس اکاؤنٹ ایبلٹی ایکٹ کے تحت لاگو کی گئی ہیں، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدعنوانی کے ضمن میں امریکی حکومت کو غیر ملکی افراد پر تعزیرات لاگو کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس سے امریکہ کو اجازت ملتی ہے کہ وہ غیر ملکی افراد کا احتساب کرے۔

امریکی وزیر مالیات اسٹیون منوشن نے کہا ہے کہ ’’آج امریکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدعنوانی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے، جس کے لیے بد دیانت عناصر کو امریکی مالیاتی نظام سے دور رکھنا ہے۔ محکمہ اُن کے اثاثے منجمد کر رہا ہے اور اُن کی جانب سے منظر عام پر آنے والی قابلِ اعتراض حرکات کی کھلے عام مذمت کی جا رہی ہے، جس سے یہ پیغام بھیجنا مقصود ہے کہ اِن غلط کاریوں کی سنگین قیمت چکانی پڑتی ہے‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ تعزیرات کی مدد سے امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے، اور اس سے اس بات کا بھی پتا چلتا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق کا تحفظ کرنے اور بدعنوانی کو اکھاڑ پھینکنے کے اصول کا پختہ عزم رکھتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG