رسائی کے لنکس

logo-print

کوریا فوجی کنٹرول سمجھوتا، امریکہ جنوبی کوریا کے دستخط


دونوں ملکوں نے متنبہ کیا کہ شمالی کوریا کی تنہا حکومت کی کسی جارحیت یا فوجی اشتعال انگیزی ’برداشت نہیں کی جائے گی‘۔۔۔۔۔ اُنھوں نے شمالی کوریا کی جانب سے طویل فاصلے پر مار کرنے والے مزائیل یا چوتھا ایٹمی تجربہ کرنے کے حالیہ اعلان پر بھی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر اور اُن کے جنوب کوریائی ہم منصب، ہان مِن کو نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی کوریا کی تنہا حکومت کی جانب سے کسی جارحیت یا فوجی اشتعال انگیزی ’برداشت نہیں کی جائے گی‘۔

کارٹر اور ہان نے یہ بات پیر کے روز سیئول میں دونوں ملکوں کے تقریباً پانچ دہائیاں پرانے فوجی اتحاد کے سالانہ جائزہ اجلاس کے دوران کہی۔

ایک مشترکہ بیان میں، دونوں نے ’شانہ بشانہ مل کر کام کرنے کے اپنی مشترکہ عزم کے اظہار‘ کا عہد کیا۔

اُنھوں نے شمالی کوریا کی جانب سے طویل فاصلے پر مار کرنے والے مزائیل یا چوتھا ایٹمی تجربہ کرنے کے حالیہ اعلان پر بھی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا۔

دفاعی سربراہان نے ایک سمجھوتے پر بھی دستخط کیے جس کے تحت جنگی کارروائیوں کا کنٹرول امریکہ سے لے کر جنوبی کوریائی افواج کو منتقل کیا جائے گا، تاکہ اُس کی فوجی اور انٹیلی جنس کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے، جس میں شمالی کوریا کے خلاف بھاری توب خانے کے فائر کا جواب دینے کی استعداد بھی شامل ہے۔

دونوں فریق نے اس سے قبل سنہ2007 میں فوجی کنٹرول کی منتقلی پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن، جزیرہ نما خطے میں بڑھے ہوئے تناؤ کے پیش نظر اسے متعدد بار مؤخر کیا گیا، جس میں جنوبی کوریا کے چیونان جنگی جہاز کے ڈوبنے کا واقع بھی شامل ہے، جس کا الزام شمالی کوریا پر دیا گیا تھا۔
پیر کو جس سمجھوتے پر دستخط کیے گئے، اُس میں نظام الاوقات کو 2020ء کے بعد تک بڑھایا گیا ہے۔

بعدازاں، پیر ہی کو کارٹر ملائیشیا پہنچے جہاں وہ جنوب مشرقی ایشیائی خطے کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

XS
SM
MD
LG