رسائی کے لنکس

logo-print

بیس سال سزا کاٹنے کے بعد سوڈانی دہشت گرد ملک بدر


امیر عبدالغنی، فائل فوٹو

سال 1993ء کے دہشت گرد حملے کی منصوبہ سازی کے مقدمے میں سزا یافتہ سوڈانی دہشت گرد کو اس ہفتے سوڈان واپس کیا گیا، جو امریکہ میں اقوام متحدہ کی عمارت سمیت متعدد عمارات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے پر 20 برس سے زائد میعاد کی سزا کاٹ چکا تھا۔

59 برس کے امیر عبدالغنی کو 12 اکتوبر کو امریکہ سے روانہ کیا گیا۔

امریکی امیگریشن اور کسٹمز کے نفاذ سے وابستہ اہل کاروں نے جمعےکے روز بتایا کہ ’’انھیں اپنے ملک کے اہل کاروں کے حوالے کیا گیا‘‘۔

انھیں سال 1996ء میں سزا سنائی گئی تھی۔ وہ اس سازش کا حصہ تھا جس میں 10 افراد شامل تھے، جس نے مصر سے تعلق رکھنے والے عالم دین، شیخ عمر عبدالرحمٰن کی سربراہی میں سازش تیار کی کہ نیویارک شہر میں اقوام متحدہ اور ایف بی آئی کے دفاتر اور نیو یارک سٹی دیگر کی تاریخی عمارتوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

فلاڈیلفیا میں تعینات آئی سی اِی (انفورسمنٹ اینڈ رموول آپریشنز) کے فیلڈ ڈائریکٹر، سمونا فلورز لوند نے بتایا ہے کہ ’’ادارے کے اعلان کردہ نصب العین کے عین مطابق، اور عوامی تحفظ اور قومی سیکورٹی کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوتے ہوئے، سزا یافتہ دہشت گرد کو ملک سے باہر بھیجا گیا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اس دہشت گرد کی ملک بدری امریکہ کی کامیابی ہے، جس سے ملک کو محفوظ رکھنے کے ’آئی سی اِی‘ کے کردار کی نشاندہی ہوتی ہے‘‘۔

سال 2001ء میں امیگریشن کے ایک جج نے عبدالغنی کو ملک بدر کرنے کے احکامات صادر کیے تھے۔ تاہم، امیگریشن کے ایجنٹوں نے انھیں جولائی 2019ء میں اس وقت تحویل میں لیا جب وہ وفاقی قیدخانے میں اپنی سزا کاٹ چکے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG