رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ طالبان معاہدہ، کیا خطے میں بنیاد پرستی کے فروغ کا باعث بنے گا؟


فائل

امریکہ اور طالبان کے درمیان متوقع امن معاہدے اور افغان حکومت کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی فارمولے کے بعد، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں اور خصوصی طور پر پاکستان میں پہلے سے موجود بنیاد پرستی کو مزید تقویت ملنے کا خطرہ ہے۔

اگر طالبان کو کسی بھی صورت اقتدار میں شرکت کا موقع ملتا ہے تو اس سے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہونگے، اور کیا پاکستان میں مذہبی جماعتوں اور تحریک طالبان پاکستان جیسی شدت پسند تنظیموں کے موقف کو مزید تقویت حاصل ہوگی؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے، امریکہ میں قائم تھنک ٹینک، ’مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ سے وابستہ ڈاکٹر مارون وائین بوم کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’شراکت اقتدار ہونا اور خود اقتدار میں ہونا‘‘ دو مختلف باتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’اگر تو صرف شراکت اقتدار ہوگا، تو پھر طالبان کی زیادہ تر توجہ افغان سیاست پر رہے گی۔ لیکن، شاید ایسا نہ ہو؟‘‘

ان کے خیال میں، طالبان، افغانستان میں موجود سیاستدانوں کے اقتدار میں شریک ہونے کی بجائے، خود کو موجودہ حکومت کی جگہ لیتے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن، بقول ان کے، ’’مجھے جس بارے میں تشویش ہے وہ یہ کہ اگر وہ بلا شرکت غیرے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، تو پھر وہ اس مقام پر ہونگے کہ پاکستان کے اندر شدت پسند قوتوں کو تقویت دے سکیں۔ اور، نہ صرف پاکستان میں بلکہ خطے بھر میں وہ ایسا کریں گے‘‘۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے، ’سٹی یونیورسٹی‘، نیو یارک سے وابستہ، جہانگیر خٹک کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس کے کسی نہ کسی حد تک اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے الفاظ میں ’’میرے خیال میں، اس کا ضرور اثر ہو گا، کیونکہ وہ 18 سال سے جنگ لڑ رہے ہیں؛ اور ان کی ایک سوچ اور نظریہ ہے جس سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں۔ لیکن، ظاہر ہے کہ جب وہ بات کریں گے تو ان ہی نکات پر کریں گے جن پہ وہ یقین رکھتے ہیں، اور جس کا وہ پرچار کرتے رہے ہیں۔ اس لیے، کہیں نہ کہیں تو ایسا نظر آئے گا‘‘۔

افغان امور کے ماہر، ڈاکٹر حسین یاسا کہتے ہیں کہ طالبان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ موجودہ حکومت کے ساتھ تو کوئی مشترک سیٹ اپ نہیں بنائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسا سیٹ اپ بنتا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی ہو یا بین الاقوامی برادری کی سرپرستی میں ہو، تو وہ بہرحال ایک عارضی سیٹ اپ ہوگا۔ اور اگر طالبان خود حکومت میں آئے یا کابُل ان کے حوالے کر دیا گیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف افغانستان اور پاکستان میں بلکہ پورے خطے میں انتہا پسندی کی لہر میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ اور، اس کے اچھے نتائج نہیں ہو نگے۔

اگرچہ طالبان نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک میں اپنے حکومتی نمونے کو برآمد نہیں کریں گے۔ لیکن اس کے اثرات ہر صورت پڑیں گے۔

تاہم، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر وائین بوم نے کہا کہ اگر طالبان اقتدار میں آتے ہیں، اور اگر وہ اپنی پالیسیاں نافذ کرتے ہیں، جن کے بارے میں ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسا ہی کریں گے، تو پھر جیسا کہ ہم نے اسی کی دہائی میں دیکھا، ملک کی ایک تہائی آبادی یعنی پانچ سے دس ملین پناہ گزیں، پاکستان سمیت ارد گرد کے علاقوں میں پناہ کی تلاش میں ہونگے، اور اس کا سب سے زیادہ بار پاکستان کو اٹھانا پڑے گا۔ اس لیے، جو کچھ افغانستان میں ہوگا، پاکستان کا اس میں سب سے بڑا سٹیک ہے۔

ماہرین کا کہنا کہ متوقع امن معاہدے تک پہنچنا پاکستان اور امریکہ دونوں کیلئے ہی سود مند ہے، کیونکہ پاکستان کے نزدیک طالبان کے آنے سے افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ کم ہو جائے گا؛ جبکہ امریکہ اپنی افواج واپس بلانے میں کامیاب رہے گا، جس سے ماہرین کے خیال میں اسے نہ صرف ایک خطیر رقم کی بچت ہوگی بلکہ آئندہ صدارتی انتخابات میں بھی موجودہ حکومت کو فائدہ ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG