رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: غیر قانونی تارکین وطن کے ڈی این اے لینے کا فیصلہ


فائل فوٹو

امریکہ کی حکومت نے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے ڈی این اے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے گفتگو میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (ڈی ایچ ایس) ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے جس کے تحت ہر اس سرحد پار کرنے والے فرد کا ڈی این اے لیا جائے گا جس کے حوالے سے دستاویزات دستیاب نہیں ہوں گی۔

حکام کے بقول، غیر قانونی تارکین وطن کے ڈی این اے کا پروفائل جرائم سے متعلق قومی ڈیٹا بیس کا حصہ بنایا جائے گا۔

ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی کے حکام کے مطابق نئی پالیسی سے امریکہ ہجرت کر کے آنے والے افراد اور سرحدی نگرانی سے متعلق ایک وسیع خاکہ سامنے آئے گا جس سے ہجرت اور زیر حراست افراد سے متعلق صورت حال بھی واضح ہو گی۔

حکام کا کہنا تھا کہ ڈی این اے کی معلومات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈیٹا بیس میں محفوظ ہوں گی جس سے دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی استفادہ کر سکیں گے۔

حکام نے بتایا کہ مذکورہ فیصلے سے امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو شناخت کرنے میں مزید بہتری آئی گی، جبکہ دیگر اداروں کی بھی معاونت ہو گی کہ وہ لوگوں کی شناخت بہتر انداز سے کر سکیں۔

سرحدی گشتی فورس غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والوں کو روکنے کا کام سرانجام دیتی ہے۔ (فائل فوٹو)
سرحدی گشتی فورس غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والوں کو روکنے کا کام سرانجام دیتی ہے۔ (فائل فوٹو)

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنے سے متعلق 2006 اور 2010 کے قوانین موجود ہیں تاہم ان پر عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والوں کے ڈی این اے کے نمونے لینے کے لیے نظام بنایا جا رہا ہ۔ے تاہم، فوری طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ نظام کب سے نافذ العمل ہوگا۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے ایسے افراد کے ڈی این اے کی معلومات کے حصول پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے جو کسی جرم میں ملوث نہ ہوں اور انہیں صرف حراست میں لیا جائے۔

'سول لبرٹیز یونین' سے وابستہ وکیل ویرا ایڈلمن کا کہنا ہے کہ کسی کے ڈی این اے کی معلومات کا زبردستی حاصل کیا جانا لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت اور ان کی بنیادی آزادیوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی پہلے ہی انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) کے ذریعے لوگوں کی معلومات محفوظ کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس کے آغاز میں امریکہ کی سرحدی گشتی فورس نے ایسے افراد کے تیزی کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کیے تھے جو خاندان کی صورت میں امریکہ میں داخل ہو رہے تھے۔

ان ڈی این اے معلومات کے حصول کی وجہ حکام نے یہ بتائی تھی کہ اس طرح امریکہ میں خاندان کی صورت میں داخل ہونے والے افراد کسی قسم کی جعل سازی نہیں کر سکیں گے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے نظام سے ڈی این اے کی مزید تفصیلات بھی حاصل کی جا سکیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG