رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا افغانستان میں تشدد میں کمی کا مطالبہ


امریکی نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد (فائل فوٹو)

امریکہ نے افغانستان میں تمام فریقین کی جانب سے تشدد میں لازمی کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تشدد میں کمی لائیں۔ معصوم افغان شہری طویل عرصے سے اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کرتے آ رہے ہیں۔

وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے بات چیت کے بعد بدھ کو کابل پہنچے ہیں۔ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور اعلیٰ مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے ملاقات بھی کی۔

خلیل زاد نے ایک ایسے وقت میں طالبان کے نمائندوں اور افغان سیاسی قیادت سے ملاقات کی ہے جب افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جسے افغان امن عمل کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

خلیل زاد نے اپنی متعدد ٹوئٹس میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کو تعمیری قرار دیا۔

اُن کے بقول، "امریکہ طالبان معاہدے میں کئی معاملات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں جن میں انسدادِ دہشت گردی کی ضمانت، بین الافغان مذاکرات، فوجیوں کا انخلا اور تشدد میں بتدریج کمی شامل ہیں۔"

خلیل زاد کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کو بتایا ہے کہ تمام فریقین کی طرف سے تشدد میں کمی لازمی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران طالبان اور افغان حکومت کی کارروائیوں کی وجہ سے ملک کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

خلیل زاد نے کہا کہ انہوں نے طالبان نمائندوں سے بات چیت کے دوران قندوز، غزنی اور خوست میں طالبان کے حالیہ حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔

ان کے بقول صدر غنی کی طرف سے طالبان کے خلاف جارحانہ حملوں کا حکم دینے سے متعلق طالبان کے تحفظات کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال ہوا ہے۔

یاد رہے کہ کابل میں ایک اسپتال پر ہونے والے حملے کے بعد صدر غنی نے افغان سیکیورٹی فورسز کو طالبان کے خلاف جارحانہ حملوں کا حکم دیا تھا۔ اس حکم پر ردِ عمل کے طور پر طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے مزید کہا کہ انہوں نے افغانستان میں لاپتا ہونے والے دو امریکی شہری مارک فریرکس اور پال اوربی کا معاملہ بھی طالبان کے سامنے اٹھایا ہے جب کہ طالبان نے امن معاہدے پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار کیا اور وہ امریکی شہریوں کو تلاش کرنے کی بھی بھر پور کوشش کریں گے۔

زلمے خلیل زاد کی اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان شراکتِ اقتدار کا معاہدہ طے پانے کے بعد ہونے والی پہلی ملاقات تھی۔ ​

افغان صدارتی دفتر کے ایک بیان کے مطابق اس سے قبل صدر غنی نے سفیر خلیل زاد سے علیحدہ سے ملاقات کی جس میں امن عمل سے متعلق اقدامات کے بارے میں بات چیت ہوئی اور طالبان کے ساتھ براہِ راست بات چیت سے پہلے جنگ بندی اور تشدد میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔

بیان کے مطابق غنی اورخلیل زاد نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے طریقۂ کار سے متعلق بھی گفتگو کی ہے۔ طالبان بین الافغان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ادھر طالبان کے قطر میں واقع دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ خلیل زاد کے ساتھ ملاقات کے دوران ملا برادر نے کہا کہ افغان تنازع کا حل امریکہ طالبان معاہدے پر مکمل نفاذ میں مضمر ہے اور قیدیوں کی رہائی سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں 29 فروری کو طے پانے والے معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے تقریباً پانچ ہزار جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے لگ بھگ ایک ہزار قیدی رہا کرنا تھے جس کے بعد بین الافغان مذاکرات کے مرحلے کا آغاز ہونا تھا لیکن تاحال یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG