رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور اقوام متحدہ کی امن دستوں پر حملے کی شدید مذمت


فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یہ حملہ اقوام متحدہ کی طرف سے مالی کے عوام کی مدد اور امن کے قیام کی کوششوں کے عزم کو تبدیل نہیں کرے گا۔

امریکہ نے مالی میں جمعرات کو اقوام متحدہ کے امن مشن کے اہلکارون کے قافلے پر گھات لگا کر کئے جانے والے حملے کی "شدید الفاظ " میں مذمت کی ہے۔ اس حملے میں چھ افراد ہلاک جبکہ پانچ دوسرے زخمی ہو گئے تھے۔

یہ حملہ مالی کے شمال میں شورش زدہ علاقے ٹمبکٹو کے قصبے سے 45 کلومیٹر جنوب مغرب میں ایک سڑک پر ہوا۔ القاعدہ سے منسلک افریقہ کے اسلامی مغربی خطے کے انتہا پسند گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

جمعرات دیر گئے جاری ہونے والے ایک بیان میں اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمنتھا پاور نے اس حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد کے اہل خانے اور برکینافاسو کی حکومت سے تعزیت کا اظہار کیا۔

اس حملے میں ہلاک ہونے افراد کا تعلق برکینو فاسو سے تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یہ حملہ اقوام متحدہ کی طرف سے مالی کے عوام کی مدد اور امن کے قیام کی کوششوں کے عزم کو تبدیل نہیں کرے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کا خیال ہے کہ امن دستوں پر حملہ بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آسکتا ہے۔

شمالی مالی میں فرانس کی قیادت میں 2013 کے اوائل میں شروع ہونے والی فوجی مہم میں اس خطے کو القاعدہ سے منسلک باغیوں سے آزاد کروایا گیا تھا تاہم اب بھی یہاں تشدد جاری ہے۔

مالی کی حکومت، اس کے اتحادیوں اور شمالی علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کے معاہدے پر گزشتہ سال دستخط ہوئے تھے تاہم اس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG