رسائی کے لنکس

حوثی باغیوں کے لیے میزائل پرزہ جات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام


امریکی جنگی جہاز نے کشتی کو تحویل میں لیا — فائل فوٹو
امریکی جنگی جہاز نے کشتی کو تحویل میں لیا — فائل فوٹو

امریکہ کی بحری فوج نے ایران ساختہ میزائل کے پرزہ جات کی یمن اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ میں امریکی حکام کا حوالے دے کر بتایا گیا ہے کہ امریکی نیوی کے جنگی جہاز نے ایک کشتی قبضے میں لی ہے جس میں 'ایڈوانس میزائلز' کے پرزہ جات تھے۔

پینٹا گون کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی جہاز نے جدید میزائلز کے پرزہ جات کی ایک کشتی کو قبضے میں لیا ہے اور اس کشتی کا کسی ریاست یا ملک سے تعلق نہیں ہے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات میں یہ سامنے آئی ہے کہ کشتی میں موجود پرزہ جات ایرانی ساختہ ہیں۔

امریکی حکام خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ بحیرۂ عرب میں قبضے میں لی گئی کشتی کا تعلق ایران سے ہے۔

رواں برس کے آغاز میں باغیوں نے یمن میں فوجی پریڈ پر حملہ کیا تھا — فائل فوٹو
رواں برس کے آغاز میں باغیوں نے یمن میں فوجی پریڈ پر حملہ کیا تھا — فائل فوٹو

پینٹاگون کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مزید تحقیقات کے ذریعے حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق امریکی حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ نیوی کے گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے امریکی بحری جہاز 'فوریسٹ شرمن' پر سوار عملے نے ایک چھوٹی کشتی کو تحویل میں لیتے ہوئے میزائلز کے پرزہ جات تحویل میں لے لیے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ چھوٹی کشتی میں موجود عملے کو حراست میں لے کر یمن منتقل کیا گیا جہاں ان کو یمنی کوسٹ گارڈ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پرزہ جات یمن میں حوثی باغیوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں اور ایران ان حوثی باغیوں کا حامی ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ کے بحری جنگی جہازوں نے کئی مواقع پر ایرانی ساختہ ہتھیار تحویل میں لیے ہیں۔ تاہم اس بار جو ہتھیار تحویل میں لیے گئے ان کی نوعیت مختلف ہے کیوں کہ یہ جدید میزائلز کے پرزہ جات ہیں۔

دو ماہ قبل ایران کے ایک تیل کے جہاز پر مبینہ طور پر دو میزائل داغے گئے تھے — فائل فوٹو
دو ماہ قبل ایران کے ایک تیل کے جہاز پر مبینہ طور پر دو میزائل داغے گئے تھے — فائل فوٹو

اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ایران پر کسی بھی قسم کے ہتھیار فروخت کرنے، ان کی کسی اور ملک منتقلی یا فراہمی پر پابندی عائد ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے منظوری کے بعد ایران کسی اور ملک کو ہتھیار فراہم یا فروخت کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک اور قرار داد کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں کو کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق حوثی باغی مقامی سطح پر ہتھیار بنا رہے ہیں جس کے لیے اُنہیں بیرونی مدد حاصل ہے اور ہتھیار بنانے کے لیے ایران سے پرزہ جات اسمگل کیے جاتے ہیں۔

یمن میں جاری تنازع کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان چپلقش کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور سعودی عرب نے یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

پنٹا گون کے حکام نے ایران کی جانب سے جارحانہ اقدامات کے خدشات ظاہر کیے ہیں — فائل فوٹو
پنٹا گون کے حکام نے ایران کی جانب سے جارحانہ اقدامات کے خدشات ظاہر کیے ہیں — فائل فوٹو

پینٹاگون کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایسی اطلاعات موجود ہیں ہیں مستقبل میں ایران جارحانہ اقدامات کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ عرب ریاستوں کے قریب تیل کے ٹینکرز پر میزائل حملے کیے گئے ہیں جبکہ سعودی عرب میں تیل کے سب سے بڑی ذخائر پر بھی ڈرون حملے ہوئے ہیں۔

امریکہ نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا تھا تاہم تہران نے اس کی تردید کی تھی۔

خطے میں ایران کے اقدامات کے تدارک کے لیے امریکہ نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران خطے میں اضافی 14 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں۔

حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں مزید فوج تعینات کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل در آمد نہیں کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG