رسائی کے لنکس

رپورٹر کی ڈائری: 'شاپنگ مال پہنچی تو گارڈ نے پوچھا ویکسی نیشن کارڈ ہے؟'


مال کے اندر وہی لوگ آنے میں کامیاب ہو سکے جن کے پاس مکمل ویکسی نیشن کا ثبوت موجود تھا۔

کیا آپ کے پاس ویکسی نیشن کارڈ ہے؟ اگر ہے تو دکھا دیں پھر ہی میں آپ کو اندر فوڈ کورٹ میں جانے کی اجازت دوں گا۔

یہ جملہ میری سماعت سے تب ٹکرایا جب شہرِ کراچی کے سب سے بڑے شاپنگ مال 'لکی ون' میں داخلے کے لیے کئی درجن افراد قطار میں پریشان کھڑے تھے اور اس جملے کو سننے کے بعد دھیمی آواز میں سیکیورٹی گارڈ کی منت سماجت کر رہے تھے جو ناکام ثابت ہو رہی تھی۔ کیوں کہ ان میں سے بیشتر افراد نجی کیب سروس اوبر، کریم یا پھر رکشے کا کرایہ ادا کر کے یہاں تک پہنچے تھے۔ لیکن ان کے پاس ویکسی نیشن کا کوئی بھی ثبوت نہیں تھا تو انہیں واپس جانے کا کہہ دیا گیا تھا۔

جب میرے گھر والوں کی باری آئی تو مجھ سے بھی ویکسی نیشن کارڈ کا مطالبہ کیا گیا۔ میں نے اور میری بہن نے فوراً ہی کارڈ پیش کردیا، مجھ سے میرا نام پوچھا گیا اور نادرا کا جاری کردہ کارڈ دیکھ کر جس پر میری تصویر موجود تھی، جانے کی اجازت دی گئی۔ جب کہ میری بہن جس کے پاس ویکسی نیشن سینٹر کا بنا ہوا کارڈ تھا، جو بنا تصویر کے تھا۔ جس پر انہوں نے تصدیق کے لیے بہن سے شناختی کارڈ مانگا اور پھر اسے بھی جانے کی اجازت دے دی۔

مال کے اندر داخل ہوتے ہی ہمیں ایک لمحے کو یہ محسوس ہوا کہ اب ہمارا شمار ان ذمہ دار شہریوں میں ہو رہا ہے جنہوں نے بر وقت کرونا سے بچاؤ کی مکمل ویکسین لگوائی ہے اور اسی بنا پر ہم بغیر مشکل کے یہاں آگئے ہیں۔

مال کے اندر سناٹے کا منظر تھا۔
مال کے اندر سناٹے کا منظر تھا۔

میں نے اسی لمحے اپنی دوست کو کال ملائی کہ اسے مطلع کرسکوں کے بنا کارڈ کے وہ اندر نہیں آسکتی۔ وہ ہمیں ڈنر پر جوائن کرنے والی تھی، البتہ کسی وجہ سے رابطہ نہ ہوسکا تو میسج لکھ چھوڑا اور وہ بھی اپنا ویکسی نیشن کارڈ دکھا کر اندر آگئی۔

پاکستان میں کرونا وبا کی صورتِ حال کے نگراں ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے احکامات کے مطابق شہر میں اب تمام بڑے شاپنگ مالز اور بازار اتوار کو بند ہوتے ہیں۔ لیکن مال کے اندر فوڈ کورٹ کھلے ہونے کی وجہ سے ہم نے یہاں آکر کھانے کا فیصلہ کیا۔

مال کے باہر گاڑیوں کی طویل قطار موجود تھی لیکن ان میں سے وہی اندر آنے میں کامیاب ہو سکے جن کے پاس مکمل ویکسی نیشن کا ثبوت موجود تھا۔

اب حالات یہ تھے کہ اتوار کے روز اس وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ریستورانوں کی کرسیاں جہاں بیٹھنے کے لیے پہلے کبھی کھبار انتظار بھی کرنا پڑتا تھا وہاں اس سختی اور احکام کی بدولت سناٹے کا منظر تھا۔ ہر فوڈ چین میں تین چار فیملیاں دکھائی دے رہی تھیں اور اوپن ایئر ایریا تو ویران ہی نظر آ رہا تھا۔

ابھی کھانے کا آرڈر دیا ہی تھا تو میرے ایک عزیز جو اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کا ٹیکسٹ آیا کہ وہ آج اپنی فیملی کے ساتھ اسلام آباد کے مال 'سینٹورس' جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم نے انہیں اپنے تجربے کا بتایا تو انہوں نے فوراً ہی بندوبست کرتے ہوئے اہلیہ اور والدہ کو ساتھ کارڈ رکھنے کی تلقین کر ڈالی۔

بعد ازاں رات میں انہوں نے بتایا کہ وہاں بھی ایسی ہی سختی دیکھنے کو ملی۔ گارڈز لوگوں کو سمجھاتے رہے کہ اب یہ ضروری ہے اگر کوئی کارڈ موجود نہیں تو آن لائن دستاویزات کی تصویر یا تصدیقی ایس ایم ایس دکھا کر بھی داخلے کی اجازت مل سکتی ہے۔ لیکن وہاں بھی کئی ایسے لوگوں کو لوٹا دیا گیا جن کے پاس ویکسی نیشن کا ثبوت نہیں تھا۔

اسلام آباد کے رہائشی زاہد اقبال کے مطابق اس طرح کی پابندی سے اب زیادہ سے زیادہ لوگ ویکسی نیشن کی جانب راغب ہوں گے۔ بیرون ملک پابندی پر عمل نہ کرنے پر بھاری جرمانے عائد ہوتے ہیں۔ البتہ پاکستان میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ افراد جعلی ویکسی نیشن کارڈ بنوا لیتے ہیں۔

ان کے بقول، عمومی طور اس طرح کی پابندی کا فائدہ اکثریت کو ہو گا جب انہیں شہر یا ملک سے سے باہر سفر کرنے، کہیں قیام کرنے یا کسی جگہ سے خریداری کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ کیسے ویکسی نیشن کے بغیر یہ تمام امور سر انجام دے پائیں گے۔

این سی او سی کے احکامات کے مطابق ملک بھر میں یکم اکتوبر سے ریستوران، ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز، مسافر خانوں، مالز، ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنز، بسوں اور دیگر اہم مقامات کے لیے اب ویکسی نیشن کارڈ کے بنا داخلہ ممکن نہیں ہو پائے گا۔

ملک بھر میں اب جہاں کرونا کیسز میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے وہیں یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ لوگوں کی جانب سے احتیاط نہیں کی جا رہی۔

اگر ملک میں ویکسی نیشن کے سرکاری اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اب تک تین کروڑ 16 لاکھ سے زائد افراد مکمل ویکسی نیشن کرا چکے ہیں جب کہ چھ کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد نے ایک ڈوز لگوائی ہے۔

حکومت نے حال ہی میں بارہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے لوگوں کو فائزر کی ویکسین لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔

دوسری جانب کراچی کے وہ بازار جہاں گہما گہمی معمول کی بات ہے وہاں اس حکومتی پابندی کا اطلاق نظر نہیں آتا۔ خریدار ہو یا دکاندار کسی کو معلوم نہیں کہ کس نے ویکسین لگوائی ہے کس نے نہیں کیوں کہ وہاں کوئی اس طرح پوچھنے یا تصدیق کرنے والا نہیں ہے۔

کراچی کی رہائشی شیما صدیقی کے مطابق مجھے یقین ہی نہیں آ رہا کہ اتوار کے روز رش نہیں ہے جو یہ ثابت کر رہا ہے کہ کتنے کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے ساتھ ویکسی نیشن کارڈ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اب اپنے پاس ویکسی نیشن کارڈ رکھتے ہیں اور میرے والٹ میں اے ٹی ایم کارڈز، شناختی کارڈ کے ساتھ ایک اور کارڈ کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اس طرح کی سختی سے شاید اب وہ لوگ بھی ویکسی نیشن کی اہمیت کو سمجھ سکیں جو ان مشکلات سے گزریں گے اور انہیں بہت سے سہولتیں دستیاب نہیں ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG