رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: کنٹینر میں 39 افراد کی ہلاکتوں کے شبے میں گرفتار تین افراد ضمانت پر رہا


پولیس اہل کار اس ٹرک کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں سے 39 چینی باشندوں کی نعشیں برآمد ہوئی تھیں۔ 23 اکتوبر 2019

برطانیہ کی پولیس لندن کے قریب ایک کنٹینر میں 39 افراد کی ہلاکتوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ٹرک سے برآمد ہونے والی نعشیں چینی باشندوں کی ہیں۔

ایسیکس پولیس نے بتایا ہے کہ ان ہلاکتوں کے شبہے میں گرفتار تینوں افراد کو ضمانت پر ہرا کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے بیان کے مطابق شمالی انگلینڈ کے شہر وارنگٹن سے گرفتار ہونے والے ایک مرد ایک عورت کو 11 نومبر تک ضمانت پر رہا کیا گیا ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی 13 نومبر تک ضمانت منظور کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹرک کے ڈرائیور سے بھی اس حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ ہلاکتوں میں ملوث ہو سکتا ہے۔

ڈرائیور کی عمر 25 سال بتائی گئی ہے۔ وہ ایک ایسا ٹرک چلا رہا تھا جس میں منجمد چیزوں کی ترسیل کی جاتی ہے اور اس کا درجہ حرارت نقطہ انجماد پر رکھا جاتا ہے۔ ریفریجیریٹر ٹرک کے ذریعے 39 غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر چوری چھپے برطانیہ لایا جا رہا تھا جو خیال ہے کم درجہ حرارت کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر چین کے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو سخت سزائیں دے۔

پولیس نے جمعے کے روز بتایا کہ انہوں نے جن دو افراد کو گرفتار کیا ہے ان میں ایک مرد اور دوسری عورت ہے۔ دونوں کی عمریں 38 سال ہیں اور وہ شمال مغربی برطانیہ کے شہر وارنگٹن کے رہائشی ہیں۔

اس سے قبل خبروں میں اسیکس پولیس کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ برآمد ہونے والی نعشوں میں 31 مرد اور آٹھ خواتین شامل ہیں۔ تاہم اموات کی وجہ کا تعین اور شناخت کا عمل مکمل کرنے میں وقت درکار ہو گا۔

بدھ کو پولیس نے لندن کے صنعتی پارک سے شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ کنٹینر ڈرائیور مورس رابن سن کو حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں کنیٹنر سے 39 لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق وہ مورس کے والد سے بھی رابطے میں ہیں۔ پولیس نے شمالی آئرلینڈ کے دو گھروں پر چھاپہ بھی مارا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ کنٹینر منگل کو بیلجیم سے روانہ ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ کنٹینر منگل کو بیلجیم سے روانہ ہوا تھا۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے واقعے کو ہولناک قرار دیتے ہوئے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ برطانوی پارلیمان کے بعض اراکین نے بھی واقعے کو انسانی اسمگلنگ کا نتیجہ قرار دیا تھا۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کے مطابق یہ کنٹینر بیلجیم کی بندرگاہ زی برگ سے برطانیہ پہنچا تھا۔ حکام کے مطابق بیلجیم اور برطانوی حکام مشترکہ طور پر واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بیلجیم کے حکام کے مطابق بندرگاہ سے لندن کے صنعتی پارک تک سفر کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ یہ کنٹینر منگل کو بیلجیم کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ متاثرہ افراد کو بیلجیم میں کنیٹنر میں بٹھایا گیا یا برطانیہ میں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں چین کے سفارت خانے کے اراکین تحقیقات میں معاونت کے لیے اسیکس جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG