رسائی کے لنکس

خیبرپختونخوا: 16 سالہ لڑکی پر تشدد کے ملزمان گرفتار

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

ڈیرہ اسماعیل خان کے ریجنل پولیس آفیسر سید فدا حسن شاہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی ہدایت پر وہ خود اس واقعے کی تحقیقات اور کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ایک نو عمر لڑکی پر سرِ عام تشدد اور اسے برہنہ کرکے گاؤں میں گشت کرانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

حکام کے مطابق صوبے کے جنوبی ضلعے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک دور افتادہ گائوں گرہ مٹ میں چند روز قبل غیرت کے نام پر ایک ہی خاندان کے افراد نے ایک 16 سالہ لڑکی کو سرِ عام بازار میں برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

حکام کے مطابق متاثرہ لڑکی مدد کے لیے چیخ و پکار کرتی رہی مگر کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔ متاثرہ لڑکی کے بھائی پر تشدد کرنے والے خاندان کی ایک لڑکی کے ساتھ تعلقات کا الزام تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس نے واقعے میں ملوث نو میں سے آٹھ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایک مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ریجنل پولیس آفیسر سید فدا حسن شاہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی ہدایت پر وہ خود اس واقعے کی تحقیقات اور کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے خاندان کے خلاف دائر کیے جانے والے فرضی اور جھوٹ پر مبنی مقدمے کو فی الفور منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ متاثرہ لڑکی کی بے عزتی کرنے اور تشدد میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس آفیسر کی سربراہی میں تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور پولیس ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لے گی۔

انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رضاکار رخشندہ ناز نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں اس واقعے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے خواتین کے خلاف تشدد میں ملوث افراد کے خلاف بر وقت کارروائی نہ ہونے کے باعث اس قسم کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جو انتہائی باعثِ تشویش ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG