رسائی کے لنکس

تشدد کا شکار خواتین کی داد رسی، سلمان صوفی کے لیے عالمی اعزاز

  • بہجت جیلانی

سلمان صوفی نے بتایا ہے کہ ان عورتوں کے معاملات کو حل کرنے والا عملہ بھی خواتین پر مشتمل ہے اور قانونی، طبی اور نفسیاتی مسائل ایک ہی چھت تلے حل کئے جاتے ہیں؛ حتیٰ کہ پولیس رپورٹ کا اندراج بھی یہیں کر دیا جاتا ہے اور انہیں تھانے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی

دنیا کے بہت سے ملکوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں لاتعداد خواتین کو شدید نوعیت کے تشدد کا سامنا رہتا ہے؛ جنھیں اکثر معاشرے میں بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جاتا ہے، اور بڑی حد تک نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

’وائلینس اگینسٹ وومین‘ ایک ایسی تنظیم ہے جس نے اس حوالے سے پاکستان بھر میں عورتوں کیلئے بھرپور کام کیا ہے۔ اس تنظیم کے روح رواں صوبہٴ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ’اسٹریٹجک ریفارمز یونٹ‘ کے سربراہ سلمان صوفی ہیں جنہیں امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن اور اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس کے ہمراہ عورتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو روکنے کیلئے نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں Voices of Solidarity Award 2017 سے نوازا گیا ہے۔ اس اعزاز کے لئے دنیا بھر میں صرف پانچ افراد کا انتخاب کیا گیا تھا۔

سلمان صوفی ’وائس آف امریکہ‘ کے سٹوڈیوز میں تشریف لائے اور اردو سروس کی بہجت جیلانی کے ساتھ اپنے کام کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی۔ اپنے اس ادارے کی خصوصیت بتاتے ہوئے سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے جہاں بد سلوکی اور تشدد کی شکار خواتین کی بہترین انداز میں داد رسی کی جاتی ہے۔

سلمان صوفی خواتین کے خلاف تشدد کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ہاورڈ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی اداروں میں اپنے پروگراموں کے بارے میں بات کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے یونٹ کے تحت 30 منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ انتہائی مسائل کا شکار خواتین کے لئے ان کے ان مراکز میں ایک ہی جگہ متعدد سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

سلمان صوفی کہتے ہیں کہ ان عورتوں کے معاملات کو حل کرنے والا عملہ بھی خواتین پر مشتمل ہے اور قانونی، طبی اور نفسیاتی مسائل ایک ہی چھت تلے حل کئے جاتے ہیں؛ حتیٰ کہ پولیس رپورٹ کا اندراج بھی یہیں کر دیا جاتا ہے اور انہیں تھانے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کسی بھی نوعیت کی صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے ’مائنڈ سیٹ‘ یا پھر ذہنی رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ خواتین کے خلاف اس منفی رویئے کو بدلنے کے لئے ان کے ادارے کی طرف سے کیا جا رہا ہے تو سلمان صوفی نے بتایا کہ اس ضمن میں سکول کی سطح پر نصاب میں ممتاز اور مشہور خواتین کی شخصیت اور اوصاف کے بارے میں مواد شامل کیا گیا ہے، تاکہ بچپن سے عورت کے بارے میں ایک مثبت تصور کو متعارف کرایا جائے۔

سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اس ماڈل کو پورے پاکستان کے علاوہ عالمی سطح پر بھی فروغ دینے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف شکاگو لا سکول میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کلینک کے ساتھ بھی کام کیا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان مراکز میں بین الاقوامی معیار اور ضابطوں کے مطابق کام ہو سکے۔

’وائس آف امریکہ‘ اُردو سروس نے سلمان صوفی سے اس بارے میں خصوصی انٹرویو کیا۔ آئیے اس انٹرویو کےکچھ اقتباسات سنتے ہیں:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG