رسائی کے لنکس

روائتی مذہبی جماعتوں کا پاپولر ووٹ کم سے کم ہو رہا ہے: رسول بخش رئیس

  • شہناز عزیز

کامران بخاری نے کہا ہے کہ '’میرا خیال ہے کہ پاکستان پر جو دباؤ ہے اور جو پاکستان اپنے آپ کو پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے، یہ حالات مزید کشیدہ ہونگے، کیونکہ وہ (جماعت الدعوہ) اپنے آپ کو سیکیور کہہ رہے ہیں۔ ایک لیگل فریم ورک کے اندر خود کو 'کیموفلاج' کرنے کی کوشش کر رہے ہیں''

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق، امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی جانے والی پاکستانی تنظیم، 'جماعت الدعوہ' کے سربراہ حافظ سعید نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے گی۔

انہوں نے یہ بات لاہور میں کالم نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے، جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے 'سینٹر فار گلوبل پالیسی' سے منسلک، کامران بخاری کہتے ہیں کہ جماعت الدعوہ نے کئی سالوں سے پاکستان کے اندر خود کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کاروائیوں، خیراتی کاموں اور طبی سہولتوں کے ذریعے پھیلایا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ وہ تعلیمی ادارے، اسکول اور کالج بھی چلاتی ہے''

اُنھوں نے کہا کہ ''اور اب حال ہی میں ملی مسلم لیگ کا اعلان ہوا ہے''، جو بقول کامران بخاری، ''اُن کا سیاسی 'آرم' ہے۔ یہ پاکستان کے اندر ان کا اثر و رسوخ ہے۔ تو یہ پاکستان کے لئے آسان مسئلہ نہیں ہے‘' ۔

کامران بخاری نے کہا ہے کہ '’میرا خیال ہے کہ پاکستان پر جو دباؤ ہے اور جو پاکستان اپنے آپ کو پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے، یہ حالات مزید کشیدہ ہونگے، کیونکہ وہ (جماعت الدعوہ) اپنے آپ کو سیکیور کہہ رہے ہیں۔ ایک لیگل فریم ورک کے اندر خود کو 'کیموفلاج' کرنے کی کوشش کر رہے ہیں''۔

حافظ سعید نے کہا ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے معاملے کو اجاگر کرنا ہے۔ کیا ان کا یہ موقف الیکشن میں ان کی کامیابی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے، سیاسی امور کے ماہر، پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں ''میرا خیال ہے کہ اگر ہم پچھلے دو، تین انتخابات کا جائزہ لیں، تو کسی بھی 'مین اسٹریم' یا مذہبی جماعت نے انڈیا یا کشمیر کے مسئلے کو عوام کے سامنے نہیں رکھا ہے''۔

پروفیسر رئیس نے مزید کہا کہ ''پاکستان میں روائتی مذہبی جماعتوں کا پاپولر ووٹ کم سے کم ہو رہا ہے''۔

تفصیل کے لیے منسلک آڈیو رپورٹ سنئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG