رسائی کے لنکس

مئی 2020 گرم ترین مئی کا مہینہ قرار، سائبیریا کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ


(فائل فوٹو)

ماہرین موسمیات نے انکشاف کیا ہے کہ سائیبریا میں مئی میں گرمی زوروں پر رہی اور وہاں کے درجہ حرارت میں 10 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا جب کہ رواں سال مئی میں اس مہینے پڑنے والی گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

'یورپین یونین کلائمٹ مانیٹرنگ نیٹ ورک' نے جمعے کو ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں مئی کے مہینے میں پڑنے والی گرمی کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے 1981 سے 2010 کے مقابلے میں گزشتہ مئی کا مہینہ 0.63 سینٹی گریڈ زیادہ گرم تھا۔

نیٹ ورک سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرۂ ارض کے سرد ترین مقامات میں شامل سائبیریا کے کئی علاقوں کے درجہ حرارت میں پچھلے کئی ماہ سے غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ادارے سے منسلک سائنس دان فریجا ویمبرگ کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ جنوری سے نوٹ کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبیریا کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو 1981 سے 2010 تک ریکارڈ کیے جانے والے اوسط درجہ حرارت سے زیادہ ہے۔

دریائے او بی اور یناسائی کے قرب و جوار کے علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں برف پگھلنے کے علاوہ 500 میل شمال میں تیل کے ذخیرے سے بہنے والا 21 ہزار ٹن ڈیزل بھی نارلسک شہر کے دریا کو آلودہ کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 مہینوں کے دوران مئی 2020 تک زمین کا اوسط درحہ حرارت 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

سن 2015 میں طے پانے والے پیرس معاہدے کے تحت 200 ممالک نے زمین کے اوسط درجہ حرارت کو 1.5 یا 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق سائبیریا اور الاسکا کے کچھ حصوں میں جاری گرمی کی لہر ان علاقوں میں خاص طور پر خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے مئی 2020، مئی 1981 سے لے کر مئی 2010 تک مئی میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت سے 0.63 فی صد زیادہ گرم تھا۔ اس عرصے کے دوران الاسکا، یورپ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ اور انٹارکٹکا کے مختلف حصوں کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین کے مطابق 19 ویں صدی کے وسط کے بعد سے لے کر اب تک دنیا کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ ایندھن اور فضلات جلانا بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطب شمالی کے علاقوں میں اس عرصے کے دوران درجہ حرارت میں دو ڈگری سیلسیس اضافہ ہوا۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیاتی سائنس نے بھی رواں صدی میں برف پگھلنے کے عمل میں تیزی کی پیش گوئی کر رکھی ہے جس سے لامحالہ درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ سائیبریا، الاسکا اور شمالی کینیڈا کے لیے سخت نقصان دے اور روس کے صنعتی ڈھانچے کو بھی اس سے خطرہ ہے۔

XS
SM
MD
LG