رسائی کے لنکس

logo-print

کیا سندھ کے بااثر کاشتکاروں کو ہی پانی دستیاب ہے؟


فائل فوٹو

دریائے سندھ سے ملحقہ اضلاع کے کسانوں نے پانی کی کمی کے خلاف احتجاجاً پیدل مارچ کیا ہے، شرکاء کا کہنا ہے کہ پانی کی شدید کمی کے باعث نہ صرف زراعت بلکہ معمولات زندگی بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

ضلع ٹھٹہ میں دریائے سندھ کے ڈیلٹائی علاقے کھاروچھان سے شروع ہونے والا یہ احتجاجی پیدل لانگ مارچ سات روز میں 120 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مکلی پہنچا۔

مکلی میں پانی کانفرنس کے انعقاد کے دوران شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین ہو چکا ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پیدل مارچ کے آرگنائزر امداد بروہی نے کہا کہ پانی کا مسئلہ سندھ کے بڑے شہروں کے علاوہ دوردراز کے دیہات میں بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ نہری پانی صرف با اثر زمینداروں کو فراہم کیا جارہا ہے جبکہ غریب کسانوں کی زمینیں پانی کی کمی کے باعث بنجر ہو رہی ہیں۔

امداد بروہی کا کہنا تھا کہ سندھ میں بارشوں کی کمی سے زیر زمین پانی کی سطح بھی کم ہو رہی ہے، جس سے چاول اور گندم کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ سندھ میں بااثر زمینداروں کو پانی دستیاب ہے۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ سندھ میں بااثر زمینداروں کو پانی دستیاب ہے۔

امداد بروہی نے الزام لگایا کہ علاقے میں پانی کی یہ کمی مصنوعی ہے، پانی چوری کے واقعات عام ہیں اور اس چوری میں محکمہ آب پاشی کے بعض افسران بھی ملوث ہیں۔

مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حال ہی میں مرمت کی گئیں واٹر کورسز کی تعمیر میں تیکنیکی خرابی ہونے کے باعث پانی نہروں کے آخری سروں تک نہیں پہنچ پاتا جس کی وجہ سے فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

مظاہرین کے مطابق ٹھٹہ اور بدین میں بعض زمیندار بڑے پیمانے پر مچھلی کی فارمنگ بھی کر رہے ہیں۔ ایسے بااثر زمینداروں کو تو پانی باآسانی فراہم کر دیا جاتا ہے لیکن غریب کسان پانی سے محروم رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فش فارمنگ کے لیے فی ایکڑ پانی زراعت کے مقابلے میں زیادہ درکار ہوتا ہے۔

حکام ان اضلاع میں پانی کے مسئلے کو دریائے سندھ میں پانی کی کمی قرار دیتے ہیں۔ سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی کے ترجمان حزب اللہ منگریو نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں پانی کی کمی مئی کے مہینے سے شروع ہوجاتی ہے اور پھر چاول کی کاشت کے ماہ یعنی جون، جولائی اور اگست تک پانی کی قلت برقرار رہتی ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے نہری نظام میں نقائص بھی پانی کی کمی کی وجہ بن رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے نہری نظام میں نقائص بھی پانی کی کمی کی وجہ بن رہے ہیں۔

حزب اللہ منگریو کے مطابق ضلع بدین اور ضلع ٹھٹہ کے علاوہ کراچی کو بھی پانی کی فراہمی دریائے سندھ پر واقع کوٹری بیراج سے کی جاتی ہے۔ لیکن چاول کی کاشت کے موسم میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد کم ہوجاتی ہے جس کے باعث ان علاقوں میں پانی کی فراہمی میں کمی آتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے حال ہی میں ایک سو دس ملین ڈالرز کے مختلف منصوبوں کے ذریعے بدین اور ٹھٹھہ کے اضلاع کی مختلف نہروں کو پختہ کیا ہے۔

حزب اللہ منگریو نے کہا کہ کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ نہروں کی پختگی کے دوران بعض تکنیکی مسائل پیدا ہوئے ہوں لیکن حکومت سندھ انہیں حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جلد ہی بدین کو پانی فراہم کرنے والی واراہ کینال کی مرمت اور پختگی پر بھی محکمہ آبپاشی کام شروع کردے گا۔

حکام کے مطابق اس وقت ضلع بدین اور ٹھٹھہ کو زرعی اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے لگ بھگ یومیہ 50 ہزار کیوسک پانی کی ضرورت ہے لیکن صرف 15 سے 16 ہزار کیوسک فراہم کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کو اس وقت 50 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر عوامل کی بنیاد پر صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان پانی کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہیں۔

پاکستان میں پانی کی کمی کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2025ء تک پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی صرف اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہے اگر بڑے آبی ذخائر تعمیر کیے جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG