رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: پانی کا مسئلہ اب ’جل سہیلی‘ دور کرے گی


بھارت ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پانی کا بحران سالوں سے شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتیں مختلف انتظامات کرتی رہی ہیں۔ وہیں بھارت کے ایک گاؤں بنڈیل کھنڈ کی خواتین نے اپنے طور پر اس مسئلے کا منفرد طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کا کہنا ہے کہ یہ گاؤں وسطی بھارت میں واقع ہے۔ یہاں کی خواتین نے اپنے طور پر ایک تنظیم تشکیل دی ہے جسے ’جل سہیلی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

جل ہندی زبان میں پانی کو کہتے ہیں اور اسی مناسبت سے اس تنظیم میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی خواتین کو 'جل سہلیاں' کہا جاتا ہے۔

جل سہیلیاں آس پاس کے 200 سے زیادہ دیہات میں بارش کا پانی جمع کرنے، کنویں کھودنے، تالابوں کو ختم کرنے، چیک ڈیم بنانے اور ہینڈ پمپسں کی مرمت کا کام انجام دے رہی ہیں۔

کرن آہروال بھی ایک جل سہیلی ہیں۔ وہ اور ان جیسی سیکڑوں جل سہیلوں نے گاؤں میں واقع ڈیم کو اپنی مدد آپ کے تحت بارش کے پانی سے بھرنے کی مہم شروع کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہاں سالوں سے خشک سالی ہے۔ پانی کی قلت اس قدر شدید ہے کہ بچے پیاسے مرنے پر مجبور ہیں اور پورے بنڈیل کھنڈ کی ندیاں، آبی ذخائر اور کنویں خشک ہوچکے ہیں۔

جل سہیلی مہم کا مقصد اس صورت حال میں تبدیلی لانا ہے۔ اس وقت تقریباً 600 جل سہیلیاں اس مہم کا حصہ بن چکی ہیں۔

جل سہیلی تنظیم میں شامل خواتین کا کہنا ہے کہ اُن کی کاوشوں کے نتیجے میں بہتر آبپاشی، صحت مند فصلوں کی کٹائی اور پینے کے پانی میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس کے ذریعے ایک قدیم مسئلہ بھی آسان ہوگیا ہے کہ خواتین کو پانی کی تلاش میں میلوں نہیں چلنا پڑتا۔

کرن نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ اُنہیں پانی بھرنے کے لیے پہلے پانچ کلو میٹر دور جانا پڑتا تھا جس میں کافی وقت لگتا تھا۔ یہاں تک کہ کھانا بنانے میں بھی خاصی تاخیر ہوجاتی تھی مگر جل سہیلی کی بدولت فاصلہ کم اور وقت بچ گیا ہے۔

کرن اگروتھا نامی گاؤں کی رہائشی ہیں اور اپریل میں انہوں نے جل سہیلی بننا منظور کیا تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ جل سہیلی کی وجہ سے ہماری فصلوں کو دوبارہ سے سیراب ہونے کا موقع مل رہا ہے۔

موسم کی پیشن گوئی کرنے والی ایک نجی ایجنسی، اسکائمیٹ ویدر کے مطابق یہاں 2014 تک اچھی بارشیں ہوئیں لیکن پھر بعد کے سالوں میں ان کی تعداد گھٹتے گھٹتے نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔

بارش نہ ہونے کے سبب فصلیں سیراب نہیں ہوسکیں جس کے سبب کسانوں کو دوسرے علاقوں کو ہجرت کرنا پڑی۔

ماہرین کے مطابق پانی کی کمی سے سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ گھروں میں ذہنی تناؤ کی پہلی وجہ پانی بنتی ہے۔ آگے چل کر یہ مسائل اتنے سنگین ہوجاتے ہیں کہ بچوں کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے اور بیشتر شادیاں ہو ہی نہیں پاتیں۔

بھارت کی دیہی زندگی میں پانی بھرنے کی بنیادی ذمے داری عورت کی ہوتی ہے جو اپنے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی پانی بھرنے لے جاتی ہے۔

دیہات کی خواتین کو دن میں کئی بار پانی لانے کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ میلوں پیدل چلنا ایک عام بات ہے جبکہ پانی کی کمی کے باعث روز نہ نہانا، کپڑے ہفتے یا 15 دن میں ایک بار دھونا بھی وہاں کے لوگوں کا معمول تھا۔ مگر جل سہیلیوں نے اسے بھی کسی حد تک آسان بنا دیا ہے۔

اب خواتین کنویں کھدواتی اور ہینڈ پمپس نصب کرتی ہیں۔ ایک جل سہیلی گیتا کے مطابق اب برتن دھونے، کھانا پکانے، کپڑے دھونے، کھیتی باڑی کرنے اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا " اگر پانی ہے تو سب کچھ ہے، پانی نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے۔

متعدد جل سہیلیوں نے بتایا کہ پانی کی دستیابی میں بہتری آنے کے بعد ان کے شوہر اور سسرال سے تعلقات اچھے ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی گھریلوں ذمے داریاں پوری کرنے کے بعد جل سہلیاں دو گھنٹے کام کرتی ہیں جن میں گاؤں کے لیے آبی ذخائر کی منصوبہ بندی، مقامی کونسل سے معاملات طے کرنا، سرکاری عہدیداروں سے ملنا اور کنویں و ہینڈ پمپسں کو ٹھیک کرنے کے لیے آلات کا استعمال سیکھنا شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG