رسائی کے لنکس

جلسے، احتجاج اور اداروں پر تنقید: عمران خان نے کیا کھویا کیا پایا؟


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے اسمبلیوں سے استعفے کے اعلان پر مبصرین کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ملک میں جاری سیاسی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

اسمبلیوں سے استعفے پر مشاورت کے لیے پی ٹی آئی نے مرکزی قیادت کا اجلاس پیر کو زمان پارک لاہور میں طلب کیا ہے۔ جس میں صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے پر مشاورت ہو گی۔

اجلاس میں صوبۂ سندھ اور بلوچستان اسمبلی سے مستعفی ہونے کی تاریخ پر بھی غور کیا جائے گا۔

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے بعد سے گزشتہ سات ماہ کے دوران پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد کا جائزہ لیا جائے تو اِس میں کئی اتار چڑھاؤ آئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران پی ٹی آئی نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اس سے متعلق پی ٹی آئی رہنما اور مبصرین مختلف رائے رکھتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی ملیکہ بخاری سمجھتی ہیں کہ پی ٹی آئی دو جماعتی نظام کے اندر ایک تیسری متبادل جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

ان کے بقول 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی صورت میں سامنے آئی تھی گو کہ اُن کی عددی اکثریت کم تھی لیکن اُنہوں نے ایک اتحادی حکومت بنائی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کا سیاسی آبادیاتی نظام (پولیٹیکل ڈیموگرفک سسٹم) عمران خان نے تبدیل کیا ہے اور پی ٹی آئی نے اپنی جدوجہد سے نہ صرف بہت کچھ پایا ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط کیا ہے۔

'پی ٹی آئی نے بہت کچھ پایا ہے'

ملکیہ بخاری نے کہا "مقامی میر جعفر اور میر صادق نے تیسری قوت کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ کیا جس کے بعد ایک تحریک بنی جس کے دوران عمران خان نے لگ بھگ 60 جلسے کیے اور اپنا زورِ بازو دکھا دیا کہ وہ ملک کے مقبول لیڈر ہیں۔"

پی ٹی آئی رہنما ملیکہ بخاری کہتی ہیں بطور سیاسی کارکن اُنہیں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی تحریک کے دوران کھونے سے زیادہ بہت کچھ پایا ہے۔

ملیکہ کہتی ہیں ان کی جماعت میں وہ لوگ بھی نمایاں ہوئے جو اقتدار کی سیاست کرتے ہیں اور نظریے کی سیاست نہیں کرتے۔ ان کے بقول ایسے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔

تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد عمران خان نے جتنے بھی جلسے کیے وہ کامیاب رہے لیکن عمران خان نے اس دوران جتنے فیصلے کیے وہ غلط ثابت ہوئے ہیں اور کامیاب جلسوں کے باوجود انہیں بہت ساری باتوں پر ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔

کیا عمران خان اب بھی اسٹیبلشمنٹ کے 'لاڈلے' ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:43 0:00

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ 26 نومبر کو لاکھوں لوگ اسلام آباد میں جمع ہوں گے لیکن ایسا نہ ہونے پر انہیں مایوسی ہوئی اور ہیلی کاپٹر سے جائزہ لینے کے بعد پی ٹی آئی کی ایک مختصر سی میٹنگ کے بعد فیصلہ ہوا کہ اسمبلیوں سے استعفٰی دینے کے اعلان کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

سلیم بخاری کے خیال میں پی ٹی آئی نے حالیہ سیاسی بحران کے دوران پانے کے بجائے بہت کچھ کھویا ہے۔ ان کے بقول عمران خان کی جدوجہد کے بنیادی طور پر تین نکات تھے جس میں مرضی کے آرمی چیف کی تقرری، موجودہ حکومت کا خاتمہ اور نئے انتخابات کا اعلان شامل تھا لیکن ان میں سے ایک بھی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

'مجمع لگا کر باتیں نہیں منوائی جاتیں'

سینئر صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے عدم اعتماد کے بعد سے ایک انتخابی مہم جاری رکھی جس کے درست نتائج کا علم عام انتخابات میں ہی معلوم ہو گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے دو مطالبات سامنے آئے تھے جن میں مرضی کے آرمی چیف کی تعیناتی اور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان لیکن انہیں دونوں مطالبات کی منظوری میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کس بات کا انتظار کر رہے ہیں۔ اُنہیں فوری طور پر اپنا استعفٰی گورنر پنجاب کو بھجوا دینا چاہیے۔

افتخار احمد کے خیال میں عمران خان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پارلیمانی جمہوریت کے اندر پارلیمنٹ کے اندر لڑائی لڑی جاتی ہے۔ مجمع لگا کر یا جلسوں کے ذریعے باتیں نہیں منوائی جاتیں۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں جا کر اپنا ایجنڈا پیش کرنا چاہیے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان کے مطالبے پر قبل از وقت انتخابات ہو بھی جاتے ہیں تو اس صورت میں ایک بدترین اقتصادی صورتِ حال کے تحت انتخابات ہوں گے جس سے مزید بحران بڑھے گا۔

عمران خان کے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی بات پر ملیکہ بخاری کہتی ہیں عمران خان انتشار کی سیاست نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے 26 نومبر کو اسلام آباد جانے کا فیصلہ نہیں کیا۔

ان کے بقول اگر پی ٹی آئی اسمبلیوں سے استعفے دیتی ہے یا دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں تو اس صورت میں 567 نشستوں پر ضمنی انتخابات کرانا پڑیں گے اور یہ عام انتخابات کا سماں ہو گا۔

تجزیہ کار سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی اقتدار میں رہنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں جو ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل گئے تھے او رپھر راتوں رات پی ٹی آئی کے ہو گئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چوہدری پرویز الٰہی شروع سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہے ہیں اور اگر اُن کی طرف سے کوئی اشارہ مل گیا یا مسلم لیگ (ن) نے انہیں وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر رہنے کی پیش کش کر دی تو وہ اسمبلیاں نہیں توڑیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما ملیکہ بخاری کہتی ہیں اُن کی جماعت پر تنقید ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی نے پارلیمان چھوڑ کر پارلیمانی نظام کو کمزور کیا ہے جو کہ صرف ایک نقطۂ نظر ہے، درحقیقت پی ٹی آئی نے یہ محسوس کیا ہے کہ جو پارلیمان اپنا تقدس کھو چکا ہے، جہاں تیسری قوت کے ذریعے مداخلت ہو گئی تو وہ کیسے جمہوری ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول، عمران خان کو اقتدار سےہٹانے کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ہیں ان میں پی ٹی آئی کامیاب رہی ہے جو پارٹی لیڈر کی مقبولیت کی عکاس ہے۔

XS
SM
MD
LG