رسائی کے لنکس

عمران خان کے بغیر لانگ مارچ کا دوسرا مرحلہ کتنا مؤثر ہے؟


پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کا دوسرا مرحلہ بھی ساتویں روز میں داخل ہو چکا ہے جب کہ تاحال عمران خان کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے یا احتجاج کی حتمی کال نہیں دی گئی۔

بعض ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ملک میں نئے آرمی چیف کی تقرری کے تناظر میں عمران خان کسی جانب سے اشارے کے منتظر ہیں۔بعض مبصرین کہتے ہیں کہ صدرِ عارف علوی کے مقتدر حلقوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے باعث عمران خان کو کہا جا رہا ہے کہ وہ کوئی حتمی فیصلہ نہ کریں۔

خیال رہے کہ تین نومبر کو وزیرِ آباد میں عمران خان کے لانگ مارچ پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں عمران خان سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے تھے۔ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ چند روز روکنے کے بعد ایک ہفتہ قبل دوبارہ شروع کیا تھا جس کی قیادت شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور کے پی کے سابق وزیرِ اعلٰی پرویز خٹک کو سونپی گئی تھی۔

شاہ محمود قریشی اور اسد عمر پنجاب سے جب کہ پرویز خٹک خیبر پختونخوا سے مارچ لے کر اسلام آباد کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم یہ قافلے انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔

آخر عمران خان اسلام آباد میں احتجاج کی کال کیوں نہیں دے رہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اب اتنا مؤثر نہیں رہا۔ جب یہ مارچ لاہور سے روانہ ہوا تھا اس میں کافی لوگ تھے۔ لیکن جوں جوں یہ قافلہ آگے بڑھتا گیا لوگ کم ہوتے گئے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ جب وزیرِ آباد میں لانگ مارچ پر حملہ ہوا تو اس کے بعد سے لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کم تعداد میں لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں۔

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ عمران خان چاہتے تھے کہ جس طرح 2014 میں چینی صدر کے دورۂ پاکستان سے قبل اُنہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا۔ اسی طرح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ پاکستان اور آرمی چیف کی تعیناتی کے دوران وہ حکومت اور اداروں پر دباؤ برقرار رکھیں۔ خیال رہے کہ سعودی ولی عہد کو رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں پاکستان آنا تھا، تاہم کچھ وجوہات کی بنا پر اُن کا دورہ ملتوی ہو گیا ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان کو رواں ماہ کے اختتام پر نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اعلان کرنا ہے۔ عمران خان کا مطالبہ ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے اور اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ فوری انتخابات کے بعد نیا وزیرِ اعظم ہی اس تعیناتی کا اعلان کرے۔

البتہ وزیرِ اعظم شہباز شریف یہ واضح کر چکے ہیں کہ آئینِ پاکستان کے تحت اُن کے پاس اختیار ہے کہ وہ افواجِ پاکستان کی جانب سے فراہم کیے گئے ناموں میں سے کسی ایک کو بطور آرمی چیف تعینات کر دیں۔

'پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اب قسطوں میں ہو رہا ہے'

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ اب قسطوں میں ہو رہا ہے۔ کہیں شاہ محمود قریشی کچھ کارکنوں سے خطاب کر رہے ہوتے ہیں تو کہیں اسد عمر ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لہذٰا اس کا حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار چوہدری غلام حسین، سلیم بخاری سے اتفاق نہیں کرتے۔ اُن کے بقول عمران خان کی غیر موجودگی میں بھی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں لوگ آ رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری غلام حسین نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ آباد واقعے کے بعد ایک اعلٰی شخصیت نے عمران خان سے مل کر اُنہیں پیغام دیا کہ وہ لانگ مارچ جاری رکھیں، لیکن اسلام آباد میں داخل ہونے کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہ دیں۔

چوہدری غلام حسین کے بقول اس شخصیت نے عمران خان کو باور کرایا ہے کہ جب تک اُنہیں عام انتخابات کی تاریخ نہیں مل جاتی اور دیگر اُمور طے نہیں ہو جاتے۔ اس وقت تک مارچ کی رفتار آہستہ رکھی جائے۔ لہذٰا عمران خان بھی ان اُمور پر جواب کے منتظر ہیں۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین روز سے زمان پارک میں اسلام آباد میں داخلے کی حتمی تاریخ دیے جانے پر مشاورت جاری ہے جس میں پارٹی رہنما شریک ہوتے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے بیٹوں کی لندن واپسی کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان وزیراعلٰی پنجاب مسرت جمشید چیمہ سمجھتی ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی سست روی اور اسلام آباد کے لیے حتمی کال نہ دینے کی وجہ عمران خان کی صحت ہے۔ وہ اپنے معالجین کے مشورے کے بغیر آزادانہ چہل قدمی نہیں کر رہے۔ اُن کے زخم ابھی تک بھرے نہیں ہیں ۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی طور اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹی اور مقاصد کے حصول تک سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

مسرت جمشید چیمہ نے دعویٰ کیا کہ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہیں۔ لہذٰا یہ تاثر دینا کہ مارچ ناکام ہو رہا ہے، درست نہیں ہے۔

'عمران خان کسی اشارے کے منتظر نہیں'

چوہدری غلام حسین کے بقول عمران خان کسی اشارے کے منتظر نہیں ہیں لیکن اُنہوں نے صدر عارف علوی کو بااثر حلقوں سے مذاکرات کا اختیار دیا ہوا ہے جس کے نتیجے میں عمران خان کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہ کریں۔

اُن کے بقول عمران خان صرف فوری الیکشن کی تاریخ چاہتے ہیں جس کا مطالبہ وہ رواں برس اپریل سے ہی کر رہے ہیں۔

چوہدری غلام حسین کہتے ہیں کہ عمران خان کے لانگ مارچ کا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر بہت دباؤ ہے یہی وجہ ہے کہ عمران خان سے مختلف شخصیات نے بذریعہ فون رابطہ کیا جن کے بارے میں افواہیں بھی ہیں کہ اُن میں سے کچھ لوگ عمران خان سے ملے بھی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس دوران عمران خان کی بااثر حلقوں سے مختلف باتیں ہوئی ہیں، چوں کہ بات چیت چل رہی ہے اِس لیے اُس کے نکات سامنے نہیں آ رہے۔

مسرت جمشید چیمہ کہتی ہیں کہ 19 نومبر کو لانگ مارچ روالپنڈی پہنچ سکتا ہے۔ عمران خان کی صحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے حتمی تاریخ میں ردوبدل بھی ہو سکتا ہے۔عمران خان کو کوئی اشارہ ملنے کے تاثر پر مسرت چیمہ کہتی ہیں کہ ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے جس کا عمران خان کو انتظار ہو بلکہ وہ ایک سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔

سلیم بخاری کے بقول ماضی میں عمران خان اشاروں پر چلتے رہے ہیں اور ماضی میں بھی اُن کو توقع تھی لیکن کسی بھی جانب سے اُنہیں کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ امریکی سازش کا بیانیہ اَب پیچھے چلا گیا ہے۔ اَب اچانک وہ امریکہ کے ساتھ معاملات کو بہتر کرنے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

چوہدری غلام حسین کی رائے میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اپنے حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔

اُن کے بقول جب عمران خان اپنے راولپنڈی میں داخلے کی تاریخ کا اعلان کریں گےتو وہی حتمی مرحلہ ہو گا۔

مسرت جمشید چیمہ سمجھتی ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا حکومت پر دباؤ کا اندازہ صرف اِسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ روزانہ اِس پر بات کرتے ہیں اور اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں پر کنٹینر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان نے 28 اکتوبر کو حکومت مخالف تحریک کا لاہور سے آغاز کیا تھا جسے وہ اسےحقیقی آزادی مارچ کا نام دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG