رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کا مواخذہ: سینیٹ میں ٹرائل کیسے ہو گا؟


امریکی سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کے لئے آنے والے منتظمین (9 فروری 2021 )

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ ایوانِ نمائندگان نے ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد اب یہ معاملہ سینیٹ میں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی تاریخ کے پہلے صدر گزرے ہیں جنہیں دوسری بار مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل 2016 کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت پر کانگریس کی تحقیقات روکنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات پر 2019 میں ٹرمپ کا مواخذہ کیا گیا تھا۔ لیکن امریکی سینیٹ نے گزشتہ سال کے آغاز میں اُنہیں بری کر دیا تھا۔

البتہ اس سال چھ جنوری کو امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے کے لیے اپنے حامیوں کو اُکسانے کے الزام میں ٹرمپ کو ایک بار پھر مواخذے کا سامنا ہے۔

ٹرمپ کے حامیوں کے کیپٹل ہل پر حملے کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی اور تشدد کے باعث پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ اراکینِ کانگریس کو ان کی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔

یہ ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی تھی جب اراکینِ کانگریس موجودہ صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی باضابطہ توثیق کے لیے جمع تھے۔

سینیٹ میں مواخذے کی کامیابی کے لیے ایوان کے دو تہائی اراکین کا اس کے حق میں رائے دینا ضروری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 100 رکنی سینیٹ کے کم از کم 67 ارکان کو مواخذے کی حمایت کرنا ہوگی جو کہ ممکن نظر نہیں آتا۔

اس لیے امکان یہی ہے کہ سینیٹ ٹرائل میں اس بار بھی سابق صدر مجرم قرار نہیں پائیں گے۔ البتہ سینیٹ میں سادہ اکثریت رکھنے والی ڈیموکریٹ پارٹی کی کوشش ہے کہ مواخذے کے لیے زیادہ سے زیادہ ری پبلکن ارکان کی حمایت حاصل کی جائے۔

سابق صدر ٹرمپ کے وکلا کا اصرار ہے کہ اب اُن کے مؤکل کا مواخذہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ وہ اب عہدے پر نہیں رہے بلکہ ایک عام شہری ہیں۔

ٹرمپ کے وکلا کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے کے لیے نہیں اُکسایا تھا بلکہ اُنہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ وہ انتخابی نتائج بدلنے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔

سینیٹ میں مواخذے کا ٹرائل کس طرح ہوتا ہے؟

امریکی آئین کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی منظوری کے لیے ووٹنگ ہوتی ہے جب کہ سینیٹ میں آرٹیکلز آف امپیچمنٹ یعنی الزامات کی فہرست پیش کی جاتی ہے جس کے بعد اس کی باقاعدہ سماعت ہوتی ہے۔

ٹرائل کے لیے ایوانِ نمائندگان نے اپنے نو اراکین کو امپیچمنٹ مینیجرز مقرر کیا ہے جو سینیٹ میں ہونے والی کارروائی کے دوران سابق صدر کے خلاف دلائل دیں گے۔

سابق صدر ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کو بھی دفاع کا برابر موقع دیا جائے گا اور صدر کے وکلا کو بھی جوابی دلائل کے لیے امپیچمنٹ مینیجرز کے برابر ہی وقت ملے گا۔

عام طور پر امریکی چیف جسٹس سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کی صدارت کرتے ہیں۔ لیکن چوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں لہذٰا اس بار اجلاس کی صدارت ریاست ورمونٹ سے منتخب ڈیموکریٹ سینیٹر پیٹرک لیہی کریں گے جو سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے سب سے سینئر سینیٹر ہونے کے ناتے سینیٹ کے غیر رسمی سربراہ ہیں۔

سینیٹ میں ٹرائل مکمل ہونے پر تمام آرٹیکلز آف امپیچمنٹ یعنی الزامات پر ووٹنگ ہو گی اور تمام 100 سینیٹر باری باری اپنی نشست پر کھڑے ہو کر سابق صدر کو مجرم قرار دینے یا نہ دینے سے متعلق اپنی رائے دیں گے۔

اس بار سابق صدر کے خلاف آرٹیکل آف امپیچمنٹ صرف ایک الزام 'بغاوت پر اکسانے' پر مشتمل ہے۔

ٹرائل کب تک چلے گا؟

امکان ہے کہ اس بار مواخذے کا ٹرائل ایک ہفتے چلے گا۔ سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی سے متعلق ری پبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اتفاقِ رائے کے تحت استغاثہ اور وکلائے صفائی کو دلائل کے لیے زیادہ سے زیادہ 16 گھنٹے کا وقت ملے گا۔

تاہم ایک دن میں زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹے دلائل دینے کی اجازت ہو گی۔ فریقین کے دلائل کے بعد اراکینِ سینیٹ سوالات کر سکیں گے۔

سینیٹ رہنماؤں کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ منگل کو مواخذے کی کارروائی کے آغاز پر چار گھنٹے یہ بحث ہو گی کہ یہ ٹرائل آئینی ہے یا نہیں۔ اس کے بعد سینیٹ میں ووٹنگ ہو گی کہ آیا کہ ٹرمپ کے خلاف الزامات کو مسترد کر دیا جائے۔

غالب امکان یہی ہے کہ اس ووٹنگ میں الزامات کو مسترد نہیں کیا جائے گا جس کے بعد ایوانِ نمائندگان کے امپیچمنٹ منیجرز بدھ کو دلائل دیں گے جو جمعرات کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

امکان ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے وکلا جمعے اور ہفتے کو دلائل دیں گے جس کے بعد توقع ہے کہ آئندہ ہفتے ہی سابق صدر کو مجرم ٹھیرانے یا نہ ٹھیرانے سے متعلق حتمی ووٹںگ ہو سکے گی۔

سابق صدر ٹرمپ کے خلاف پہلے مواخذے کے لیے سینیٹ میں ٹرائل تین ہفتے تک جاری رہا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس وقت الزامات زیادہ پیچیدہ تھے۔ تاہم اب یہی امکان ہے کہ یہ ٹرائل جلد ہی مکمل ہو جائے گا کیوں کہ بیشتر اراکینِ سینیٹ الزامات کی تفصیلات سے پہلے ہی آگاہ ہیں۔

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی سینیٹ میں سابق صدر کے ٹرائل کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتی کیوں کہ جب تک سینیٹ میں ٹرائل مکمل نہیں ہو جاتا اس وقت تک ایوان میں دیگر قانون سازی یا صدر جو بائیڈن کی جانب سے اہم عہدوں پر ہونے والی نامزدگیوں کی توثیق سمیت کوئی اور کارروائی نہیں ہو سکے گی۔

کیا ٹرائل کے دوران گواہوں کو بھی پیش کیا جائے گا؟

اس بار گواہوں کو پیش کیے جانے کا امکان بظاہر کم نظر آتا ہے۔ گو کہ ٹرائل کے دوران ہو سکتا ہے کہ کسی کو گواہی کے لیے طلب کر لیا جائے۔

صدر ٹرمپ کے گزشتہ ٹرائل کے دوران اس وقت ڈیموکریٹس کا اصرار تھا کہ گواہوں کو بھی بلایا جائے۔ تاہم سینیٹ میں اکثریت رکھنے والے ری پبلکنز نے ایسا نہیں ہونے دیا تھا۔

اب سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو کنٹرول حاصل ہے۔ تاہم ڈیمو کریٹس کا مؤقف ہے کہ اس مرتبہ کسی کو گواہی کے لیے بلانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ جو کچھ چھ جنوری کو ہوا، اسے بیشتر سینیٹرز نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا جب کہ ٹی وی چینلز نے بھی واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر نشر کیں۔

اب جب ٹرمپ صدر نہیں رہے تو مواخذہ کیوں ہو رہا ہے؟

امریکی آئین کے تحت کیے جانے والے مواخذے کا بنیادی مقصد کسی سرکاری عہدے دار کو کسی جرم کی پاداش میں معزول کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے ری پبلکن پارٹی کے اراکین اور ٹرمپ کے وکلا کا یہ مؤقف ہے کہ مواخذے کی یہ کارروائی غیر آئینی ہے کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب صدر کے منصب پر فائز نہیں۔ لہذا انہیں عہدے سے ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

لیکن ڈیموکریٹس اس معاملے پر ان آئینی ماہرین کی رائے کا حوالہ دیتے ہیں جن کے خیال میں کسی سابق عہدے دار کا مواخذہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

سابق صدر ٹرمپ کے خلاف اس مواخذے کے دوران امریکہ کے سابق وزیرِ جنگ ولیم بیلنیپ کے مواخذے کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے جنہوں نے 1876 میں مواخذے کی کارروائی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ اُن پر رشوت خوری کا الزام تھا۔

ولیم بیلنیپ کے استعفے کے باوجود سینیٹ نے اُن کا ٹرائل مکمل کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں اس ٹرائل کے نتیجے میں الزامات سے بری کردیا گیا تھا۔

ڈیموکریٹس کا یہ بھی مؤقف ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ اس لیے بھی آئینی ہے کیوں کہ ایوانِ نمائندگان نے اُن کے مواخذے کی منظوری اس وقت دی تھی جب وہ صدر تھے اور اس مواخذے کی منظوری کے سات روز بعد ان کے عہدے کی مدت ختم ہوئی تھی۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹ اکثریتی قائد چک شومر واضح کر چکے ہیں کہ اگر سینیٹ نے ٹرمپ کو مجرم ٹھیرایا تو اس کے بعد اُنہیں کسی بھی وفاقی عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کی قرارداد ایوان میں پیش کی جائے گی۔

ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے جو کچھ کیا، اس کی انہیں سزا ضرور ملنی چاہیے اور چوں کہ اب انہیں عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں رہا تو بطور سزا ان کے آئندہ کوئی انتخاب لڑنے پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔

ڈیموکریٹ رہنماؤں کا یہ مؤقف بھی ہے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف صرف اس بنیاد پر مواخذہ نہیں روکا جاسکتا کہ وہ صدر نہیں رہے۔ ان کے بقول ان کا مواخذہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ آنے والے صدور کو یہ پتا ہو کہ اگر وہ اپنے آخری ایام میں بھی کوئی قابلِ مواخذہ جرم کریں گے تو اُنہیں اس کا حساب دینا ہوگا چاہے وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں۔

یہ ٹرائل گزشتہ ٹرائل سے کتنا مختلف ہے؟

صدر ٹرمپ کا پہلا ٹرائل اس الزام پر ہوا تھا کہ انہوں نے موجودہ صدر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالا تھا اور یوں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تھا۔

اس ٹرائل کے لیے ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان کی کمیٹیوں میں کئی ماہ تک ہونے والی سماعتوں کے نتیجے میں سامنے آنے والے شواہد کو مرتب کیا تھا جو صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کے درمیان ہونے والی ایک نجی فون کال اور اس سے پہلے اور بعد میں ہونے والی بند کمرہ ملاقاتوں سے متعلق تھے۔

البتہ اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے پر اُکسانے کا الزام ہے جو نہ صرف براہِ راست ٹی وی چینلز پر نشر ہوا بلکہ بہت سے سینیٹرز نے خود حملہ آوروں کا سامنا کیا۔

لہذا اس بار امپیچمنٹ مینیجرز کے لیے اس واقعے کی تفصیلات بیان کرنا نسبتاً آسان ہوگا کیوں کہ اس کی یاد تاحال لوگوں اور خود سینیٹرز کے ذہن میں تازہ ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صدر سینیٹ سے مجرم بھی قرار پاجائیں گے۔

صدر ٹرمپ کے ایک سال قبل ہونے والے مواخذے کے ٹرائل کے دوران صرف ایک ری پبلکن سینیٹر (یوٹا سے منتخب مٹ رومنی) نے سابق صدر کو مجرم قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ مواخذے کے ٹرائل کا نتیجہ اس بار بھی کچھ زیادہ مختلف آنے کی امید نہیں۔

سو رکنی سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹس اور ری پبلکن کی تعداد برابر ہے اور دونوں جماعتوں کے 50، 50 سینیٹر ہیں۔ صدر کو مجرم قرار دینے کے لیے ایوان کے ارکان کی دو تہائی اکثریت درکار ہوگی جس کا مطلب ہے کہ اگر تمام 50 ڈیموکریٹس صدر کے خلاف ووٹ دیں تو بھی اُنہیں کم از کم 17 ری پبلکن سینیٹرز کا ووٹ چاہیے ہوگا جو بظاہر ممکن نظر نہیں آ رہا۔

ٹرمپ کے وکلا کا متوقع مؤقف کیا ہو گا؟

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلا کی جانب سے پیر کو سینیٹ میں جمع کرائے گئے ابتدائی دلائل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کچھ غلط نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے مظاہرین کو کیپٹل ہل پر حملے پر اُکسایا۔

ڈیموکریٹس کا الزام ہے کہ صدر ٹرمپ تنِ تنہا کیپٹل ہل حملے کے ذمے دار ہیں جب کہ ٹرمپ کے وکلا کا مؤقف ہے کہ مظاہرین نے کسی کے اُکسانے پر نہیں بلکہ اپنے طور پر سب کچھ کیا۔

اپنے تحریری دلائل میں سابق صدر کے وکلا نے الزام لگایا ہے کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ سے خوف زدہ ہیں اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ان کا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں۔

اگر ٹرمپ الزامات سے بری ہوئے تو؟

الزامات سے بری ہونے کی صورت میں سابق صدر کو ایک طرح سے اخلاقی فتح حاصل ہو گی جس سے یہ بھی ظاہر ہوگا کہ اُنہیں اب بھی ری پبلکن حلقوں میں اثر و رسوخ حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG