رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں کرونا وائرس کے 531 کیس رپورٹ: عالمی ادارہ صحت


(فائل فوٹو)

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کرونا کے مریضوں کی تعداد 531 ہو چکی ہے جب کہ ایک ہزار مشتبہ کیسز ہیں۔ ملک بھر میں 15 قرنطینہ مراکز اور 208 اسپتال کام کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں نمائندہ ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر پلیٹھا ماہیپالا نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ دنیا بھر کے کئی ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے۔ اسی لیے ہم نے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ اُن کے بقول اگر اس کے لیے مناسب انتظامات نہ کیے گئے تو یہ مزید پھیل سکتا ہے۔

ڈاکٹر پلیٹھا کے بقول اب تک پاکستان میں 531 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پاکستان میں 208 اسپتال اور 13 لیبز قائم کی گئی ہیں جب کہ اس ضمن میں 1715 بیڈز مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے عام لوگوں میں تشویش پھیل رہی ہے۔ البتہ ڈبلیو ایچ او مکمل ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔

ڈاکٹر پلیٹھا مہیپالا نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او منصوبہ بندی، رابطے اور پاکستان کے داخلی راستوں پر اس وائرس کی روک تھام کے لیے تیکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا کہنا ہے کہ پاکستان کو وائرس سے متاثرہ افراد کو ٹریس کرنے کے لیے ٹیسٹ جاری رکھنے چاہئیں۔ یہ ایک نئی بیماری ہے، ہمیں اس کے بارے میں مکمل آگاہی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ بیمار ہیں تو اپنے خاندان کے دیگر افراد سے الگ تھلگ ہو جائیں۔ اور ڈاکٹر سے رُجوع کریں۔

ڈاکٹر پلیٹھا ماہیپالا کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کی تاحال کوئی ویکسین اور دوا نہیں ہے۔ لیکن دوسری ادویات سے مدد لی جا رہی ہے۔ ہمیں اس وقت انفرادی طور پر کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں مزید اقدامات کرنا پڑیں گے۔ موجودہ صورتِ حال میں صوبوں کے ساتھ روابط مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر پلیٹھا نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 15 مختلف مقامات پر قرنطینہ کی سہولت موجود ہے۔ تفتان میں 2799 پی سی ایس آئی آر میں 545 سکھر میں 303 لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ ادارے نے پاکستان کے اسپتالوں اور لیبارٹریز میں فراہم کی جانی والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے رابطہ کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے ہوائی اڈوں پر انفارمیشن ڈیسکس بھی قائم ہیں۔ تشخیصی سامان کی فراہمی، اسکریننگ اور حفاظتی اقدامات میں تمام ملکوں کے ساتھ کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرض کے لیے اب تک کسی موثر دوائی بننے کے حوالے سے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی اب تک کوئی بھی دوائی تجویز نہیں کی جا سکتی۔

پاکستان کی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے جزوی لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔ البتہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہنا ہے کہ وہ مکمل لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں ہیں۔ کیوں کہ اس سے پاکستان کا عام آدمی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG