رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں پولیس اہل کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا کیوں مشکل ہے؟


(فائل فوٹو)

سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی گزشتہ ماہ پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ کیا اس واقعے میں ملوث پولیس افسران کو سزا دی جا سکے گی اور کیا اس کیس میں انصاف کا حصول ممکن ہو سکے گا؟

اس بحث کی وجہ امریکی تاریخ ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ڈیوٹی کے دوران پولیس افسروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شہریوں کے مقدمات میں اہلکاروں کو قصور وار ٹھیرانے کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ واقعے کی واضح ویڈیوز، عینی شاہدین اور دیگر شواہد کے باوجود پولیس اہلکار ایسے مقدمات سے بچ نکلنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

لیکن جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ سمیت دُنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

امریکہ میں پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے افراد کا ڈیٹا مرتب کرنے والے ریسرچ سینٹر 'میپنگ پولیس وائلنس' کے مطابق 2013 سے لے کر اب تک 99 فی صد واقعات میں کسی پولیس اہلکار پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

امریکہ میں احتجاج کے دور رس اثرات
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:03 0:00

ریاست منی سوٹا جہاں فلائیڈ کی ہلاکت ہوئی وہاں کی 165 سالہ تاریخ میں صرف ایک پولیس افسر کو اس نوعیت کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا۔

جولائی 2017 میں 40 سالہ آسٹریلین نژاد امریکی شہری جسٹن ڈیمنڈ کو ایک صومالی نژاد امریکی پولیس اہلکار محمد نور نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

محمد نور نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ جسٹن ڈیمنڈ نے اپنے گھر کے قریب خاتون کی چیخ و پکار کی آواز پر 911 پر کال کی جب وہ موقع پر پہنچے تو اندھیرے میں ایک خاتون کو اپنی جانب بھاگتے دیکھا اور وہ سمجھے کہ یہ اُن پر حملہ ہے۔ لہذٰا اُنہوں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کر دی جس سے جسٹن ڈیمنڈ ہلاک ہو گئیں۔

عدالت نے محمد نور کو ساڑھے 12 سال قید کی سزا سنائی لیکن اُنہوں نے اس کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

ریاست منی سوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن نے جارج فلائیڈ کی موت کے بعد پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے دوران پیچیدگیوں کا اعتراف کیا تھا۔

جارج فلائیڈ کیس: پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کیا ہے؟

ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس کے ایک سُپر اسٹور کے باہر 20 ڈالر کا مبینہ جعلی نوٹ استعمال کرنے کی پاداش میں پولیس اہلکاروں نے جارج فلائیڈ کو حراست میں لیا تھا۔

پولیس کا موقف تھا کہ دورانِ حراست فلائیڈ نے مزاحمت کی اور قریب کھڑی ایک گاڑی کی چھت پر چڑھ گئے۔

فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھنے والے پولیس اہلکار ڈیرک چاون پر ابتداً تھرڈ ڈگری چارج لگایا گیا تھا یعنی ڈیرک نے فلائیڈ کو مارنے کی نیت نہیں کی تھی۔ بعد ازاں احتجاج کے بعد اُن پر سیکنڈ ڈگری چارج یعنی غیر ارادی قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔

کیا امریکی پولیس میں اصلاحات ہو سکیں گی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:03 0:00

فلائیڈ کے ہمراہ موجود دیگر تین پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی ڈیرک چاون کی معاونت کے الزامات کے تحت کارروائی جاری ہے۔

واقعے میں ملوث چاروں پولیس اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا تھا۔

منی سوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن نے اعتراف کیا تھا کہ یہ مقدمہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔ اُن کے بقول اُنہیں اعتماد ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں ٹھیک ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے مقدمات سے نمٹنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔

منی ایپلس کے ایک وکیل پیٹر وولڈ کہتے ہیں کہ پراسیکیوٹر کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ڈیرک چاون نے فلائیڈ کو جسمانی طور پر شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس سے متاثرہ شخص کی موت ہوئی۔

اگر استغاثہ اس الزام کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ڈیرک نے دوسرے درجے کے قتل کا ارتکاب کیا۔

اس ضمن میں ایک راہ گیر کی جانب سے بنائی گئی لگ بھگ نو منٹ کی ویڈیو ایک بڑے ثبوت کے طور پر اس کیس میں استعمال ہو سکتی ہے۔

منی سوٹا کے قانون کے مطابق دوسرے درجے کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر 40 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

نیو یارک یونیورسٹی سے وابستہ وکیل ٹیرین مرکل کہتی ہیں کہ یہ ویڈیو ایسے واقعات میں عموماً سامنے آںے والی ویڈیوز سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔

اُن کے بقول یہ ویڈیو اس طرح مختلف ہے کہ جب چاون جائے وقوع پر پہنچے تو جارج فلائیڈ کو پہلے ہی ہتھکڑی لگائی جا چکی تھی اور اُنہوں نے سرنڈر کر دیا تھا۔

اُن کے بقول اس ویڈیو کے تین منٹ کا حصہ وہ ہے جب فلائیڈ بے ہوش ہو چکے تھے اور اس کے باوجود ان کی گردن پر پولیس اہلکار کا گھٹنا تھا۔

ٹیرین مرکل کے بقول اس صورتِ حال میں اگر کوئی پولیس افسر موقع پر پہنچتا ہے تو طریقہ کار کے مطابق وہ حالات کنٹرول میں کرتا ہے۔ لیکن ڈیرک چاون نے اس کے برعکس فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھ دیا۔

پولیس افسروں کا دفاع

امریکی عدالتیں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ پولیس افسروں کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اور لوگوں کے دفاع کے لیے خطرناک مشتبہ افراد کے خلاف طاقت استعمال کر سکیں۔

امریکہ کے ایک سابق وفاقی جج پال کیسل کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ پولیس افسر صبح اُٹھ کر یہ ارادہ کرتے ہیں کہ وہ آج کوئی جرم کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے واقعات میں پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔

امریکی نظامِ انصاف میں عدالتوں کے علاوہ معزز شہریوں پر مشتمل جیوری کا بھی اہم کردار ہے۔ عام طور پر یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اگر پولیس اہلکاروں پر فردِ جرم عائد ہو بھی جائے تو جیوری اںہیں مجرم ٹھہرانے سے انکار کر دیتی ہے۔

99 فی صد پولیس اہلکار عظیم لوگ ہیں: صدر ٹرمپ
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:38 0:00

پال کیسل کے مطابق وکیل صفائی دلائل دے سکتے ہیں کہ ڈیرک چاون نے جارج فلائیڈ پر قابو پانے کا ایسا تیکنیکی طریقہ اپنایا جو محکمہ پولیس نے اسے سکھایا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو پتا ہوتا ہے کہ وہ چاہے جو بھی کر لیں بچ نکلیں گے۔ کیوں کہ اُنہیں کمزور نظامِ انصاف اور طاقت ور پولیس یونیز کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو اس طرح کے واقعات کے بعد ان کی معاونت کرتی ہے۔

پولیس کے خلاف کارروائی، قانونی پہلوؤں اور طاقت کے استعمال پر بحث کے علاوہ اس بات کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے کہ بلاشبہ پولیسنگ ایک مشکل اور پرخطر شعبہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 48 پولیس اہلکار دورانِ ڈیوٹی ہلاک جب کہ 41 مختلف حادثات میں ہلاک ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG