رسائی کے لنکس

logo-print

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی اپیل مسترد


وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی اپیل مسترد

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی جانب سے اپنے خلاف جنسی الزامات کے مقدمے کے سلسلے میں انہیں سویڈن بھجوانے سے روکنے کی اپیل نا منظور ہوگئی ہے۔

لندن کی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز ان کی اپیل مسترد کردی۔ سویڈن کے حکام 40 سالہ اسانج سے ایک خاتون کی جانب سے جنسی زیادتی اور ایک دوسری خاتون کی طرف سے چھیڑچھاڑ کے مبینہ الزامات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعات 2010ء میں سٹاک ہوم میں ہوئے تھے۔

اسانج کا دعویٰ ہے کہ ان پر عائد کیے جانے والے الزامات کی وجوہات سیاسی ہیں اور ان کا کہناہے کہ ان دونوں واقعات میں انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

اسانج کے وکیل کا کہناہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اس فیصلے کےخلاف برطانیہ کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ان کے وکلاکے پاس بدھ کے روز ہونے والے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت موجود ہے۔

اسانج ان دنوں برطانیہ میں ضمانت پر ہیں۔

وکی لیکس نے امریکی سفارت کاروں اور فوجی کارروائیوں سے متعلق کمپیوٹر سے چرائی جانے والی ہزاروں خفیہ دستاویزات جاری کرکے دنیا بھر میں کھلبلی مچادی تھی۔

امریکی حکام یہ تحقیات کررہے ہیں کہ آیا اسانج نے کسی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔

دو ہفتے قبل اسانج نے کہاتھا کہ ان کا ادارہ اپنے لیے فنڈز اکٹھے کرنے اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے خفیہ سرکاری دستاویزات کی اشاعت معطل کررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ویزا، ماسٹر کارڈ اور پے پال جیسی امریکی کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی بندشوں کا مطلب یہ ہے کہ وکی لیکس کو اپنے وسائل بڑھانے کے زیادہ توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

XS
SM
MD
LG