رسائی کے لنکس

logo-print

بسنت منائی جائے یا نہیں، ابھی فیصلہ نہیں ہوا


لوگ بسنت منانے کے حق میں بھی ہیں اور مخالف بھی لیکن لاہوریوں کی اکثریت یہ  چاہتی کہ بسنت جسے رفتہ رفتہ ایک تہوار کی سی حیثیت حاصل ہو رہی ہے، اسے پھر سے منایا جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گِل نے بسنت منانے کا عندیہ دیا تو بسنت منانے کے حامی اور مخالف میدان میں آ گئے۔ کسی نے اسے خوش آئند قرار دیا تو کسی نے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

پاکستان میں بسنت فروری کے آخری ہفتے یا مارچ کے شروع میں منائی جاتی ہے۔ بسنت کے ساتھ پتنگ بازی کو جوڑ دیا گیا اور یوں وقت کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی گویا بسنت کا لازمی حصہ بن گئی۔

بسنت کی مناسبت سے پیلے رنگ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ پیلے رنگ کی پتنگیں، پیلے رنگ کی ہی ڈوریں۔ ملبوسات بھی خاص طور پر اسی رنگ کے تیار کئے جاتے ہیں۔

بسنت پہلے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں منائی جاتی تھی لیکن جب سے اس نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کا رخ کیا تو پتنگ بازی کی صنعت نے گویا نیا جنم لے لیا۔ بہت سے لوگ اس صنعت منسلک ہو گئے۔۔ لیکن ڈور میں کیمیکل اور دھات کے استعمال نے اسے انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنا دیا ہے جس کے باعث ماضی میں درجنوں افراد ڈور پھرنے سے ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے اور دھاتی تاروں کے استعمال کی وجہ سے واپڈا کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جس کے بعد صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے دس سالہ دور اقتدار میں پتنگ بازی پر پابندی لگی رہی۔

صوبائی حکومت نے 2009 میں پتنگ بازی کو روکنے کے لیے ایک قانون بھی منظور کیا تھا جس کے مطابق پتنگ اڑانے اور ڈور میں استعمال ہونے والے کیمیکل، شیشے اور دھاتی ڈور بنانے اور بیچنے پر پابندی ہو گی۔ اس قانون کے مطابق ضلع ناظم حکومتِ پنجاب کی اجازت کے ساتھ بہار کے موسم میں پندرہ روز کے لیے پتنگ بازی کی اجازت دے سکتا ہے۔

ڈاکٹر شہباز گل کے مطابق حکومت رواں سال فروری کے مہینے میں بسنت منانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا’ وزیراعلیٰ نے بہت سے سماجی حلقوں کی خواہش پر بسنت کو واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کی سربراہی میں آٹھ رکنی کمیٹی بنا ئی گئی ہے جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حفاظتی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر بسنت کا ’تہوار‘ منانے کا جائزہ لے۔ یہ کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو دے گی اور وہ فیصلہ کریں گے کہ بسنت کس طرح سے منائی جائے۔

کیمیکلز لگا کر پتنگ اڑانے کے لیے تیز دھار کی ڈور تیار کی جا رہی ہے۔
کیمیکلز لگا کر پتنگ اڑانے کے لیے تیز دھار کی ڈور تیار کی جا رہی ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کے عندیے کے ساتھ ہی بسنت کے مخالفین اسے لاہور ہائی کورٹ لے گئے جس پر عدالت نے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں کہ اگر عدالت بسنت کی اجازت نہیں دے گی تو وہ نہیں منائیں گے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ عدالت کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے بہت سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔

لوگ بسنت منانے کے حق میں بھی ہیں اور مخالف بھی لیکن لاہوریوں کی اکثریت یہ چاہتی کہ بسنت جسے رفتہ رفتہ ایک تہوار کی سی حیثیت حاصل ہو رہی ہے، اسے پھر سے منایا جائے۔ بقول فیاض الحسن چوہان ’ہماری کوشش ہے کہ دھاتی اور کیمیکل والی ڈور پتنگ بازی میں استعمال نہ ہو۔ عدالت اِس پر جو فیصلہ کرے گی وہ قبول کریں گے ۔‘

ڈپٹی کمشنر لاہور صالحہ سعید جو بسنت کمیٹی کی رکن بھی ہیں، انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بسنت منانے یا نہ منانے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ حکومتی کمیٹی نے ابھی کوئی سفارشات نہیں دیں اور ویسے بھی یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔‘

بسنتی رنگ کے کپڑے پہن کر پتنگ اڑانا، بو کاٹا کا شور مچانا اور بھنگڑہ ڈالنا، بسنت کے تہوار کا ایک حصہ بن چکا ہے۔
بسنتی رنگ کے کپڑے پہن کر پتنگ اڑانا، بو کاٹا کا شور مچانا اور بھنگڑہ ڈالنا، بسنت کے تہوار کا ایک حصہ بن چکا ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں ’آج کی تاریخ تک بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی برقرار ہے۔ میں نے اپنے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایات دے رکھی ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں ایس پیز کی مدد سے اس پابندی کو یقینی بنائیں۔ کوئی بھی پتنگ اڑائے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔‘

بسنت منانے کی حمایت کرنے والوں میں پتنگ باز ایسوسی ایشن پیش پیش ہے جس کے مطابق اگر پولیس ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرے تو محفوظ طریقے سے بسنت منائی جا سکتی ہے۔

ڈسٹرکٹ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن لاہور کے صدر شیخ محمد شکیل نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کام میں کوئی مسئلہ آتا ہے تو اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے نہ کہ اس کام کو بند کر دیا جائے۔ بسنت منانے سے گزشتہ دس سال سے اس کاروبار سے جڑے افراد کے بند کاروبار پھر سے چل پڑیں گے ۔‘

ان کے بقول’2009 میں جس سال بسنت پر پابندی لگی تھی اس سال پانچ چھ ارب روپے کا کاروبار ہوا تھا۔ اگر اسے منایا جائے تو بہت سا کاروبار ہو گا۔ موٹرسائیکل پر دو دنوں کے لیے پابندی لگائی جا سکتی ہے یا اس پر ایریل لگا لیا جائے۔ دو دنوں کی بات ہے۔ دو دنوں میں اگر کسی کو کوئی تکلیف ہو گی تو ہم اس سے معذرت کر لیں گے ۔‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG