رسائی کے لنکس

logo-print

کیا مشرف کی سزا پر عملدرآمد ہو پائے گا؟


فائل فوٹو

پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کو ایک خصوصی عدالت نے غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے منگل کے روز سزائے موت سنائی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف پر یہ الزامات اس لیے عائد کیے گئے کیونکہ انہوں نے ملک میں ہنگامی صورت حال نافذ کی تھی، ناکہ اس بات پر کہ انہوں نے منتخب حکومت کو برخواست کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

پاکستان کی خصوصی عدالت کے اس فیصلے سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک فوجی حکمران پر مقدمہ چلایا گیا اور انہیں سزا دی گئی۔

مشرف آج کل دبئی میں زیر علاج ہیں۔ وہ 1999 میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار میں آئے تھے۔ ان کے ابتدائی اقدام کو پہلے عدلیہ نے اور پھر پارلیمان نے قانونی تحفظ فراہم کیا تھا۔ تاہم، ان پر مقدمہ 2007 میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے باعث چلایا گیا۔

یہ مقدمہ 2014 میں قائم کیا گیا تھا مگر یہ طوالت اختیار کرتا گیا۔ انہیں 2016 میں علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے یہ اجازت ملک کی طاقتور فوج کی طرف سے دباؤ کے تحت دی تھی۔

منگل کے روز خصوصی عدالت کی طرف سے موت کی سزا سنائے جانے کے بعد مشرف کے وکیل اختر شاہ نے کہا کہ مشرف کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہی نہیں جانا چاہئیے تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیس ہی غلط تھا اور اس پر ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل حامد خان نے رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ عدالت کا یہ فیصلہ حتمی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ 1976 کے قانون کے مطابق چلایا گیا جس کی رو سے پاکستان کی سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی موجودہ حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فوج کے بہت قریب ہے۔ حکومت نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں فوج بہت طاقتور ادارہ ہو، اس سزا پر عملدرآمد کرنا آسان نہیں ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG