رسائی کے لنکس

مشرف فیصلے پر میرے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی: چیف جسٹس کھوسہ


چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ انہیں اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔ غداری کیس کے تفصیلی فیصلے کے بعد تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جمعے کو اپنے اعزاز میں دیے گئے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے خطاب میں عدالتی اصلاحات، نظامِ انصاف اور سازشوں کا ذکر کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خصوصی عدالت کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ان کے اور عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔

ان کے بقول مشرف کیس پر میرے اثر انداز ہونے سے متعلق باتیں تضحیک آمیز ہیں۔ مجھے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی فیصلے میں نا انصافی ہوئی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ مشرف کیس پر اثر انداز ہونے کا جو الزام مجھ پر عائد کیا گیا، وہ بے بنیاد اور غلط ہے۔ سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ سچ کا ہمیشہ بول بالا ہو گا۔

انہوں نے اپنے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بطور چیف جسٹس سب سے پہلے اپنے گھر کو درست کرنے کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے ویڈیو لنک اور جدید ریسرچ سینٹر قائم کیا۔

چیف جسٹس کھوسہ کے بقول انہوں نے 25 سال سے زیرِ التوا فوجداری مقدمات کو نمٹایا اور آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق دینے کی تجویز دی۔

چیف جسٹس نے دیگر ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جج کا شیر جیسا دل اور لوہے جیسے اعصاب ہونے چاہیئں۔ آج ضمیر 100 فی صد مطمئن ہے۔

جسٹس کھوسہ نے خطاب میں فہمیدہ ریاض کی ایک نظم کا کچھ حصہ بھی پڑھا کہ:

کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
وہ تم کو خوف دلائیں گے
تم اپنی کرنی کر گزرو
جو ہو گا دیکھا جائے گا

اس پر کمرہ عدالت نمبر ایک تالیوں سے گونج اٹھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا خطاب

اٹارنی جنرل انور منصور خان کے بیرونِ ملک ہونے کے باعث ان کی جگہ ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے فل کورٹ میں شرکت کی اور اپنے خطاب میں چیف جسٹس پر الزامات عائد کیے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے صحافیوں سے گفتگو میں خصوصی عدالت کے مختصر فیصلے کی حمایت کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے خطاب میں کہا کہ چیف جسٹس نے خصوصی عدالت کے فیصلے کی ایسے وقت حمایت کی جب تفصیلی فیصلہ آنا باقی تھا۔

انہوں نے پشاور ہائی کورت کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی جانب سے پرویز مشرف کی سزا پر عمل درآمد کے طریقے کو غیر قانونی، غیر انسانی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

عامر رحمٰن نے کہا کہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد کے فیصلے میں عداوت اور انتقام واضح ہے۔ فیصلہ فوجداری نظام کی روایت کے بھی خلاف ہے۔ ایسے کنڈکٹ والا جج منصب پر نہیں رہ سکتا۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق کیس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ فیصلے میں سخت آبزرویشنز دی گئیں۔ ماضی میں کئی ایڈیشنل اور ایڈہاک ججز کو بھی توسیع ملتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی نظر سے شاید ججز کی توسیع کے عدالتی فیصلے آرمی چیف کے مقدمے کے دوران نہیں گزرے۔

نامزد چیف جسٹس گلزار کا خطاب

نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی اور آئین کے تحفظ کی ضامن ہے۔ سپریم کورٹ آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان ایک زندہ جاوید دستاویز ہے اور عوام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین پاکستان بار و صدر سپریم کورٹ بار کے خطاب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین پاکستان بار امجد شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آئین کی بالادستی اور قانون کی عمل داری کا غماز ہے۔ پاکستان بار کونسل جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزا دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ کسی طالع آزما کو آئین شکنی اور جمہوری حکومت کو گرانے کی جرأت نہیں ہو گی۔ جسٹس وقار اور ان کے ساتھی ججوں کو ہمیشہ عزت و تکریم سے یاد رکھا جائے گا۔

ان کے بقول مشرف فیصلے پر حکومتی حلقوں کا ردعمل توہین آمیز ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار قلب حسن شاہ نے سپریم کورٹ سے بھٹو ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ عدلیہ کو اکثر ایگزیکٹو اور اداروں کے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ سپریم کورٹ بار مشرف کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو سراہتی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کیرئیر

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا عدالتی سفر آج بروز جمعہ کو اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ ان کے 337 روزہ دور میں سپریم کورٹ بڑے فیصلوں کے باعث نہ صرف میڈیا بلکہ پوری قوم کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے رواں سال 18 جنوری کو چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے اپنے دور میں کوئی از خود نوٹس نہیں لیا۔

جسٹس کھوسہ کے دور میں کیے جانے والے کئی فیصلوں پر خاصی بحث ہوئی جن میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

جسٹس کھوسہ نے دہشت گردی کی جامع تعریف اور حسین حقانی کیس سے متعلق مقدمات میں بھی فیصلے دیے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ 20 سال وکالت کے بعد 1998 میں لاہور ہائی کورٹ اور پھر 2010 میں سپریم کورٹ کے جج منتخب ہوئے تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نواز شریف سے متعلق پاناما کیس اور یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں نااہل قرار دینے والے بینچوں کا بھی حصہ رہے۔

جسٹس کھوسہ نے بطور چیف جسٹس ماتحت عدلیہ میں زیرِ التوا مقدمات نمٹانے کے لیے ماڈل کورٹس بھی قائم کیں۔ لیکن ان کے دور میں سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 38 ہزار سے بڑھ کر 48 ہزار تک جا پہنچی۔

جمعے کو اپنے آخری کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس میں سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

نئے چیف جسٹس گلزار احمد کون ہیں؟

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس گلزار احمد کل چیف جسٹس آف پاکستان ‏کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ جسٹس گلزار دو سال، ایک ماہ تک چیف جسٹس کے عہدے ‏پر فائز رہیں گے۔

نامزد چیف جسٹس گلزار احمد فروری 1957 کو کراچی میں پیدا ‏ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اور ایل ایل بی کی ڈگری کراچی سے ہی مکمل کی۔

وہ 18 جنوری 1986 کو ‏بطور وکیل، 4 اپریل 1988 کو بطور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور 15 ستمبر 2001 کو ‏بطور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ان رول ہوئے۔

جسٹس گلزار احمد 1999-2000 کے دوران سندھ ‏ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری بھی رہے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد کو سول، لیبر، بینکنگ، کمپنی اور کارپوریٹ سیکٹر لاء ‏پر عبور حاصل ہے۔

‏جسٹس گلزار 27 اگست 2002 کو سندھ ہائی کورٹ اور 16 نومبر 2011 کو سپریم ‏کورٹ کے جج بنے۔

جسٹس گلزار احمد فیصلے اوپن کورٹ میں سناتے ہیں اور کیس جلد نمٹانے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔

ان کے بڑے فیصلوں میں پاناما کیس اور کراچی میں چائنہ کٹنگ قبضہ مافیا کے خلاف فیصلے قابلِ ذکر ہیں۔

جسٹس گلزار احمد یکم فروری 2022 تک بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف ‏پاکستان میں فرائض انجام دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG