رسائی کے لنکس

logo-print

تیل کی وافر پیداوار، رجحان آئندہ سال بھی جاری رہے گا: رپورٹ


پیرس میں قائم تیل درآمد کنندہ ملکوں کے اِس 29 رکنی گروپ نے تیل کی طلب میں خاصی سست روی کی پیش گوئی کی ہے، جب کہ ساتھ ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اگلے سال کے لیے عالمی معاشی افزائش میں محض معتدل اضافے کے امکان کا اندازہ لگایا ہے

توانائی کے عالمی ادارے نے منگل کے روز بتایا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی وافر پیداوار کے نتیجے میں خام تیل کے نرخ گر گئے ہیں، اور بتایا جاتا ہے کہ 2016ء میں یہی صورت حال جاری رہنے کا امکان ہے۔

پیرس میں قائم تیل درآمد کنندہ ملکوں کے اِس 29 رکنی گروپ نے تیل کی طلب میں خاصی سست روی کی پیش گوئی کی ہے، جب کہ ساتھ ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اگلے سال کے لیے عالمی معاشی افزائش میں محض معتدل اضافے کے امکان کا اندازہ لگایا ہے۔

توانائی کے عالمی ادارے نے طلب اور افزائش کی پانچ برس کی سطح 18 لاکھ بیرل یومیہ میں خاصی کمی کا اندازہ لگایا ہے، جو آئندہ سال 12 لاکھ بیرل یومیہ کی عام شرح پر رہے گی۔

ادارے نے اگلے برس کی عالمی کھپت کی شرح نو کروڑ 57 لاکھ بیرل یومیہ پر رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو گذشتہ ماہ کے اندازوں کے مقابلے میں ایک لاکھ کم سطح ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اگلے سال کی طلب میں خاصی کمی اور اضافی ایرانی بیرل کے منڈی میں آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، اگر بین الاقوامی تعزیرات میں نرمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے بعد، 2016ء بھر کے دوران، منڈی میں زیادہ رسد میسر ہوگی۔

چند معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی سست روی کی شکار معیشت کے باعث اگلے برس کی مجموعی عالمی طلب میں کمی کا سبب بنے گی، حالانکہ توانائی کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران چین کی تیل کی کھپت میں اضافہ جاری رہا ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران، تیل کے عالمی نرخ 50 ڈالر فی بیرل سے کم رہے ہیں، جب کہ 15 ماہ قبل یہ دوگنا قیمت پر دستیاب تھا۔
اس کے باعث کچھ ملکوں میں موٹرکار چلانے والوں کے لیے تیل کے نرخ بہت کم ہیں۔ تاہم، اس کے نتیجے میں، تیل کی صنعت کے کچھ حصوں میں کارکنان کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے، ایسے میں جب تیل کی عالمی طلب میں کمی آتی گئی۔



XS
SM
MD
LG