رسائی کے لنکس

logo-print

دنیا میں کروڑوں پناہ گزینوں کی حالتِ زار، آخر مسئلے کا حل کیا ہے؟


روہنگیا مہاجرین (فائل)

حالیہ چند عشروں میں دنیا کے مختلف حصے بڑے پیمانے پر خانہ جنگی، مسلح تصادم اور قتل و غارت گری کی آماجگاہ رہے ہیں۔ ان کے نتیجے میں نہ صرف لاکھوں کی تعداد میں جانیں ضائع ہوئی ہیں، بلکہ املاک کی تباہی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ شہر کے شہر کھنڈر بن چکے ہیں۔ سماجی اور معاشرتی زندگی کے تانے بانے بکھر چکے ہیں۔

ایک بڑا انسانی مسئلہ مقامی آبادیوں کا دربدر ہوجانا ہے۔ جنگ و جدل کے نتیجے میں کروڑوں کی تعداد میں بے خانماں افراد کو، جن میں بڑی تعداد میں عورتیں اور بچے شامل ہیں، محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے اور وہ اب بھی دیار غیر میں کیمپوں اور کچی بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اسی تناظر میں پناہ گزینوں کے مسائل اور مصائب کو اجاگر کرنے اور ساتھ ہی ان کی کامیابیوں کی کہانیوں کو سامنے لانے اور ان کی ان خدمات پر توجہ دلانے کے لئے جو انھوں نے اپنے نئے اختیار کردہ وطن میں انجام دیں، اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پناہ گزینوں کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

سنیچر بیس جون کو منایا جانے والا پناہ گزینوں کا عالمی دن اس حوالے سے مسائل کا احاطہ کرنے کا انیسواں موقع ہوگا۔

اس سال کووڈ نائٹنین کی عالم گیر وبا نے اسے ایک نئی جہت دیدی ہے۔ وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار عرش ارباسادی نے اسی پس منظر میں چیلنجوں اور اگلے محاذوں اور اس سے پرے دوسرے شعبوں میں پناہ گزینوں کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ آج بین الاقوامی برداری ان کا اعتراف کر رہی ہے۔

ابتلا کے اس دور میں جن ملکوں کے بے گناہ لوگ اپنی سرزمین چھوڑ کر بے دخل ہونے پر مجبور ہوئے ان میں افغانستان، شام، عراق، یمن، برما اور افریقہ کے کئی ممالک شامل ہیں۔ یاد رہے کہ برما میں نسلی فسادات کی وجہ سے تقریباً دس لاکھ برمی مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر میں اطلاعات کے عالمی شعبے سے منسلک ایک عہدیدار، جون ویلیمز کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر ہم اس موقع پر نہ صرف پناہ گزینوں کی حالت زار اور ن کے لئے بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، بلکہ ان کی خدمات اور اس تنوع کی بھی نشاندہی کرتے ہیں جس سے دنیا کے مختلف حصے مالامال ہو رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نےاس جانب بھی توجہ دلائی کہ کرونا وائرس نے پہلے ہی سے مشکلات میں گھرے ہوئے بے خانماں لوگوں کو ایک اور چیلنج سے دوچار کردیا ہے۔ اب یہ ہو رہا ہے کہ اس عالمگیر وبا کی وجہ سے بین الاقوامی تنظیمیں ان سے زیادہ رابطہ پیدا نہیں کر پا رہی ہیں۔ ایسے علاقوں میں یمن بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کریس بویان بتاتے ہیں کہ جنگ کے شکار اس ملک میں اسی فیصد لوگ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

انھوں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ جنگ و جدل نے دنیا بھر میں تقریباً سات کروڑ دس لاکھ لوگوں کو ان کے گھر بار سے محروم کردیا ہے۔ ان کی ضروریات کو پورا کرنے اور قتل و غارت گری سے پاک ماحول میں، انھیں اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر بین الااقوامی کوششیں درکار ہوں گی۔

مبصرین کے مطابق، اس انسانی المیے کے پائیدار حل کے لئے باہمی تنازعات کا سیاسی حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG