رسائی کے لنکس

75 ویں یوم فتح پر یورپ میں کوئی عوامی تقریب نہیں ہوئی


دوسری جنگ عظیم جتنے کی 75 ویں سالگرہ پر لندن کے کئی علاقوں میں لوگ 1940 کے عشرے کا لباس پہن کر باہر نکلے اور سماجی فاصلے کے اصول کی پابندی کی۔

8 مئی کو دوسری جنگ عظیم کے اختتام کو 75 سال مکمل ہو گئے۔ یہ دن یورپ میں وکٹری ڈے یا یوم فتح کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن، اس سال کرونا وائرس کے باعث کوئی عوامی اجتماع نہیں ہوا۔

آج سے 75 سال پہلے 8 مئی کو ہٹلر کی نازی فورسز نے اتحادی فورسز کے آگے ہتھیار ڈالے تھے۔ اس اتحاد میں امریکہ بھی شامل تھا۔

دوسری جنگ عظیم دنیا بھر میں بڑی تباہی لے کر آئی۔ یورپ کے کئی اہم شہر کھنڈر اور ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئے۔ فضائی حملوں، بم دھماکوں، گولیوں کی بارشوں اور قتل و غارت گری نے لاکھوں افراد کو ابدی نیند سلا دیا۔ اور جنگ کے نتیجے میں جنم لینے والی معاشی بدحالی نے برسوں تک دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔

ہر سال 8 مئی کو یوم فتح بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں حصہ لینے والے فوجی، جو اب چند ہی زندہ رہ گئے ہیں، خصوصی تقریب میں شامل شرکت کرتے ہیں۔ اس موقعے پر فوجی بینڈ فتح کی دھنیں بجاتا ہے۔ قومی لیڈر امن کو فروغ دینے اور غریبی مٹانے کے وعدے کرتے ہیں۔

لیکن، اس بار یوم فتح پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یورپ بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہے۔ جن علاقوں میں پابندیاں نرم کی گئی ہیں، وہاں بھی اجتماعات کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے آج کا دن بڑے محدود پیمانے پر منایا گیا۔

موقع کی مناسبت سے پہلے سے طے شدہ تقریبات یا تو مکمل طور پر منسوخ کر دی گئی تھیں یا ان کی سطح بہت کم کر دی گئی تھی اور لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ نجی سطح پر یہ دن منائیں اور آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کریں۔

یورپ بھر میں اس موقع پر کوئی عوامی اجتماع نہیں ہوا۔ البتہ، بلفاسٹ اور برلن میں بہت محدود پیمانے پر تقریبات ہوئیں، جن میں دوسری جنگ عظیم لڑنے والے ان چند فوجیوں نے شرکت کی جو زندہ ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نرسنگ ہومز میں رہ رہے ہیں اور کرونا وائرس کے خطرے اور ان کی معمری کے باعث انہیں خصوصی نگہداشت میں رکھا جا رہا ہے۔ 8 مئی 2020 کا یوم فتح یا یوم آزادی ماضی کے سارے دنوں سے یکسر مختلف رہا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ یہ اہم دن دوسری عالمی جنگ سے براہ راست متاثر ہونے والے یورپی ملکوں میں کس طرح منایا گیا۔

برطانیہ

برطانیہ نے اس سال یوم فتح منانے کے لیے عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر کئی لوگ 1940 کے عشرے کے ملبوسات پہن کر گھر سے باہر نکلے اور سماجی فاصلے کی پابندی کے ساتھ گلیوں میں کھڑے ہو گئے۔ ایسا ہی منظر لندن میں 10 ڈاؤنگ سٹریٹ پر دیکھنے میں آیا جہاں برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ ہے۔

لوگوں نے گھروں کے باہر کھڑے ہو کر جنگ کے زمانے کا مشہور ترانہ گایا جس کے بول ہیں 'وی ول میٹ اگین' یعنی ہم دوبارہ ملیں گے۔ کرونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں کے پس منظر میں یہ ترانہ آج کے حالات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

فرانس

فرانس میں یوم فتح کے موقع پرعام تعطیل ہوتی ہے اور لوگ یہ دن بڑے جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔ لیکن، اس بار ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ فرانس میں لاک ڈاؤن کی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ اس لیے کوئی پریڈ اور کوئی پرچم کشائی نہیں کی گئی۔

جرمنی

جرمنی میں یوم فتح کو یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر برلن میں مختصر سی تقریب ہوئی جس میں چانسلر آنگلا مرخیل اور چند عہدے داروں نے جنگ اور تشدد کا نشانہ بننے والوں کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ بگل بجایا گیا اور مرنے والوں کے احترام میں چند لمحوں کی خاموشی اختیار کی گئی۔ لیکن اس موقع پر ماضی کے برعکس کوئی اجتماع نہیں ہوا، اور میدان مکمل طور پر خالی تھا۔

پولینڈ

پولینڈ ان ملکوں میں شامل ہے جو دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کا شدید نشانہ بنے۔ پولینڈ کی ساڑھے تین کروڑ کی آبادی میں سے 60 لاکھ افراد مار دیے گئے تھے جن میں نصف یہودی تھے۔ یوم فتح کے موقع پر پولینڈ کے شہر وارسا میں نامعلوم سپاہی کی یادگار پر پھول چڑھائے گے۔ تاہم، اس موقع پر کوئی بڑی تقریب نہیں ہوئی۔

دوسری جنگ عظیم یکم ستمبر 1939 کو شروع ہوئی تھی۔ اس روز نازی فوجیں اوڈلف ہٹلر کے حکم پر پولینڈ میں داخل ہوئی تھیں اور اسے روند ڈالا تھا۔ پولینڈ دوسری جنگ عظیم کا براہ راست ہدف بننے والا پہلا ملک تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG