رسائی کے لنکس

دوسری جنگ عظیم کا سپاہی کرونا کے خلاف جنگ کے محاذ پر کمر بستہ


ننانوے سالہ ٹام مور۔

ننانوے سالہ ٹام مور دوسری جنگ عظیم کے سابق فوجی ہیں۔ اب یہ کرونا کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کی قومی ہیلتھ سروس کے لیے فنڈ جمع کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔

یہ دراصل ان ڈاکٹروں اور نرسوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جو کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ وہ ڈاکٹروں اور نرسوں کے شکر گذار ہیں جنہوں نے عشروں پہلے ان کے ٹوٹے ہوئے کولہوں کو جوڑا تھا۔

ان کے گھر والوں نے سوشل میڈیا پر ان کے نام سے اپیل کی ہے کہ مور ہیلتھ ورکرز کے لیے فنڈ جمع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سے مدد کی درخواست ہے۔

پچھلے ہفتے تک، ان کا اور گھر والوں کا خیال تھا کہ تیس اپریل تک ایک ہزار پاونڈ جمع ہو جائیں گے۔ تیس اپریل کو مور ایک سو سال کے ہو جائیں گے۔

سوشل میڈیا پر عوام و خواص کا رد عمل غیر معمولی تھا۔ چند ہی دنوں میں پچھتر لاکھ پاوںڈ کے وعدے کیے ہیں۔

مور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس کو دی جانے والی ایک ایک پائی ان ہیلتھ ورکرز کا حق ہے۔

مور کی اس مہم میں شو بز کی شخصیات، سابق فوجیوں، ہیلتھ ورکرز اور عام لوگوں نے حصہ لیا۔

مور فوج میں بھرتی ہونے سے قبل سول انجینیر تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے موقعے پر یہ فوج میں بھرتی ہوگئے اور انہوں نے ہندوستان اور برما میں خدمات سر انجام دیں۔ یہ کیپٹن کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔

بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کی بیٹی نے کہا کہ لوگوں کا ردعمل ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر نکلا۔

انہوں نے کہا کہ ''میرے والد نے ہمیشہ با مقصد اور حوصلہ مند زندگی گذاری۔ جب وہ اٹھانوے سال کے ہوئے تو یہ گر پڑے اور ان کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اب یہ وہیل چیر کے سہارے نقل و حرکت کرتے ہیں''۔

مور کی بیٹی نے کہا کہ ''ہم برطانوی عوام کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے ہمارے والد کو ایک نیا مقصد اور حوصلہ دیا''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG