رسائی کے لنکس

ْوہ دن بہت وحشت ناک تھے، اپنے کمرے سے بھی خوف آتا تھا'

حفصہ طيب
حفصہ طيب

چین میں پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ حفصہ طیب بھی ان میں شامل ہیں جو کرونا وائرس پھیلنے کے سبب چین میں پھنس گئی تھیں اور وطن واپس نہیں آسکی تھیں۔

اس دوران ان پر کیا گزری اس کا احوال انہوں نے وائس آف امریکہ کو بیان کیا۔

حفصہ طيب نے بتایا کہ ہ بہت وحشت ناک دن تھے، مجھے اپنے کمرے تک سے خوف آتا تھا۔

ان کے بقول وہ ووہان يونيورسٹی آف سائنس اينڈ ٹيکنالوجی ميں ايم بی بی ايس تھرڈ ايئر کی طالبہ ہیں۔

ووہان شہر 23 جنوری سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وائرس پھیلنے سے قبل ہمارے فائنل امتحانات ہو چکے تھے اور بہت سارے طلباء نئے سال کی چھٹيوں پر جا چکے تھے۔ ميرے کچھ دوست لاک ڈاؤن سے قبل پاکستان جارہے تھے ليکن اس سے پہلے انھوں نے ايک پارٹی کا اہتمام کیا۔ شہر جا کر بہت سارے لوگوں کے ماسک پہنتے ديکھا تو پتہ چلا کہ کوئی نيا وائرس دریافت ہوا ہے اور اسی وجہ سے شہریوں نے احتياطی تدابير اختيار کی ہوئي ہيں مگر ہم نے اس تمام واقعے کو زيادہ سنجيدہ نہيں ليا۔

انہوں نے کہا کہ اس دن بہت عرصہ بعد باہر کے حالات ديکھنے کا موقع ملا۔ بہت رش تھا کيونکہ لوگ چھٹيوں پر جا رہے تھے اور خريداری ميں مصروف تھے۔ مجھے گھر سے آئے ايک سال ہو چکا تھا اور ميری والدہ مجھے بہت یاد کر رہی تھيں لیکن ميں امتحان کی وجہ سے اپنے دوستوں کے ساتھ پاکستان نہ جا سکی۔ ميرا ارادہ جنوری کے آخر ميں آنے کا تھا۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر میں اقدامات

چین کے صوبے سنکیانگ میں رضاکاروں نے اپنے طور پر رہائشی علاقوں میں وائرس سے بچاؤ کے لیے اسپرے کرنا شروع کر دیا ہے۔ سڑکوں اور گلی محلوں کے ساتھ گھروں میں بھی رضا کار اسپرے کرتے نظر آتے ہیں۔
1/14 چین کے صوبے سنکیانگ میں رضاکاروں نے اپنے طور پر رہائشی علاقوں میں وائرس سے بچاؤ کے لیے اسپرے کرنا شروع کر دیا ہے۔ سڑکوں اور گلی محلوں کے ساتھ گھروں میں بھی رضا کار اسپرے کرتے نظر آتے ہیں۔
اٹلی کے شہر وینس میں سیاحوں نے حفاظتی ماسک پہننا شروع کر دیے ہیں۔ شہر میں سیاحوں کی بڑی تعداد ماسک لگائے گھومتی ہے۔
2/14 اٹلی کے شہر وینس میں سیاحوں نے حفاظتی ماسک پہننا شروع کر دیے ہیں۔ شہر میں سیاحوں کی بڑی تعداد ماسک لگائے گھومتی ہے۔
سری لنکن ایئر لائن کا عملہ بھی حفاظتی ماسک استعمال کر رہا ہے۔ بندرا نائیکے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر ہوسٹس ہوں، پائلٹ یا دوسرا عملہ، سب کے لیے ماسک پہننا ضروری ہے۔
3/14 سری لنکن ایئر لائن کا عملہ بھی حفاظتی ماسک استعمال کر رہا ہے۔ بندرا نائیکے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر ہوسٹس ہوں، پائلٹ یا دوسرا عملہ، سب کے لیے ماسک پہننا ضروری ہے۔
چین کے شہر ووہان سے واپس آنے والے پرتگالی شہریوں کو لسبن ملٹری ایئرپورٹ پر اتارا گیا اور ان کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا۔ اس دوران انہیں الگ تھلگ رکھا گیا۔
4/14 چین کے شہر ووہان سے واپس آنے والے پرتگالی شہریوں کو لسبن ملٹری ایئرپورٹ پر اتارا گیا اور ان کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا۔ اس دوران انہیں الگ تھلگ رکھا گیا۔
چین کے صوبہ ژیانگچی میں محلہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جاکر مقامی افراد سے سفری معلومات اکٹھی کر رہی ہیں تاکہ کرونا وائرس کی روک تھام میں مدد مل سکے۔ یہ کمیٹیاں کسی بھی شخص میں مرض کی ابتدائی علامات پائے جانے پر اسے اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات بھی کرتی ہیں۔
5/14 چین کے صوبہ ژیانگچی میں محلہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جاکر مقامی افراد سے سفری معلومات اکٹھی کر رہی ہیں تاکہ کرونا وائرس کی روک تھام میں مدد مل سکے۔ یہ کمیٹیاں کسی بھی شخص میں مرض کی ابتدائی علامات پائے جانے پر اسے اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات بھی کرتی ہیں۔
ہانگ کانگ میں بھی حفاظتی ماسک بڑے پیمانے پر استعمال کیے جارہے ہیں۔ بیشتر اسٹورز نے بورڈز آویزاں کردیے ہیں کہ تمام ماسک فروخت ہو چکے ہیں۔
6/14 ہانگ کانگ میں بھی حفاظتی ماسک بڑے پیمانے پر استعمال کیے جارہے ہیں۔ بیشتر اسٹورز نے بورڈز آویزاں کردیے ہیں کہ تمام ماسک فروخت ہو چکے ہیں۔
چین میں روز بروز بڑھتے متاثرین کے علاج کے لیے صرف 10 دن میں ایک اسپتال تعمیر کیا گیا ہے جس نے کام شروع کر دیا ہے۔
7/14 چین میں روز بروز بڑھتے متاثرین کے علاج کے لیے صرف 10 دن میں ایک اسپتال تعمیر کیا گیا ہے جس نے کام شروع کر دیا ہے۔
اسپین میں بھی حفاظتی ماسک کا استعمال بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ ایئر پورٹس، اسپتال، پارک، مارکیٹس اور دیگر عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ 
8/14 اسپین میں بھی حفاظتی ماسک کا استعمال بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ ایئر پورٹس، اسپتال، پارک، مارکیٹس اور دیگر عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ 
پیرس کا ایفل ٹاور ہو یا کوئی اور سیاحتی مقام، اس کی سیر کے لیے آنے والے سیاح حفاظتی ماسک سے اپنے چہرے ڈھانپے نظر آ رہے ہیں۔
9/14 پیرس کا ایفل ٹاور ہو یا کوئی اور سیاحتی مقام، اس کی سیر کے لیے آنے والے سیاح حفاظتی ماسک سے اپنے چہرے ڈھانپے نظر آ رہے ہیں۔
عراق کے مختلف ایئرپورٹس پر اترنے والے مسافروں کے طبی معائنے کے لیے وزارت صحت نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ ہر مسافر کا مخصوص آلات سے باڈی ٹمپریچر چیک کیا جا رہا ہے۔
10/14 عراق کے مختلف ایئرپورٹس پر اترنے والے مسافروں کے طبی معائنے کے لیے وزارت صحت نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ ہر مسافر کا مخصوص آلات سے باڈی ٹمپریچر چیک کیا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد تمام فضائی مسافروں نے حفاظتی ماسک پہن لیے ہیں۔ عرب امارات کی وزارت صحت ملک میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کر چکی ہے۔
11/14 متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد تمام فضائی مسافروں نے حفاظتی ماسک پہن لیے ہیں۔ عرب امارات کی وزارت صحت ملک میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کر چکی ہے۔
نیپال میں بچوں کے اسکولوں میں بھی ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وہاں بھی کرونا وائرس کا ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔
12/14 نیپال میں بچوں کے اسکولوں میں بھی ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وہاں بھی کرونا وائرس کا ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔
جنوبی کوریا میں چین سے آنے والے مسافروں کی خصوصی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ ان کا جسمانی درجہ حرارت نوٹ کیا جا رہا ہے۔ مرض کی ابتدائی علامات میں بخار، نزلہ اور زکام شامل ہیں۔ 
13/14 جنوبی کوریا میں چین سے آنے والے مسافروں کی خصوصی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ ان کا جسمانی درجہ حرارت نوٹ کیا جا رہا ہے۔ مرض کی ابتدائی علامات میں بخار، نزلہ اور زکام شامل ہیں۔ 
تھائی لینڈ کی قومی ایئر لائن کے طیاروں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اسپرے لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔
14/14 تھائی لینڈ کی قومی ایئر لائن کے طیاروں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اسپرے لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔
Previous slide
Next slide

حفصہ طیب نے بتایا کہ ميں نے نئے سال کی چھٹيوں کی مناسبت سے کچھ سامان پہلے سے ہی خرید ليا تھا۔ لاک ڈاؤن شروع ہوا تو مجھے لگا کہ بس چند دنوں ميں ہی سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ تب جا کہ پتا چلا کہ کچھ عرصہ قبل جس وائرس والی خبر کو ہم مذاق سمجھ رہے تھے در حقيقت يہ وہی مہلک وائرس ہے جس نے پورے شہر کو اپنی لپيٹ ميں لے ليا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی خبر کے بعد ميں مارکيٹ گئی ليکن وہاں کچھ بھی موجود نہيں تھا۔ تمام چینی شہری نئے سال کی چھٹيوں پر جا چکے تھےاور مارکيٹ کے باہر نوٹس آويزاں تھا کہ آج مارکيٹ نہيں کھلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران مجھے سانس لينے ميں کچھ دشواری ہوئی۔ جس کے بعد ميں سيدھا اپنے ہاسٹل آئی۔ باہر کا موسم کافی ٹھنڈا تھا۔ ميں نے واپسی پر موجود سامان چيک کيا تو ديکھا کہ وہاں صرف چند ہی چيزين باقی ہيں۔ آٹا ميرے پاس بہت کم مقدار ميں رہ گيا تھا۔ سبزياں بھی ناکافی تھيں۔ دل کو يہی تسلی دی کہ لاک ڈاؤن جلد ہی ختم ہو جائے گا اورسامان لے آؤں گی ليکن ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات مزيد سنگين ہوتے چلے۔ مجھے سانس کی تکليف سے وہم ہونے لگا اور ڈر کے مارے باہر جانے سے اجتناب کيا۔ اس کے بعد پتا چلا کہ کچھ ممالک نے اپنے طلباء کو ووہان سے بلوا ليا ہے ليکن ہم سے پاکستان ميں کسی نے بھی رابطہ نہيں کيا تھا۔

حفصہ کے مطابق سارے مناظر بہت تيزی سے تبديل ہونے لگے۔ اشياء خور و نوش ميں کمی کی خبريں ہر طرف پھيلنے لگيں۔ ميں بہت ڈر گئی تھی کيونکہ کھانے پينے کی چيزيں بہت کم رہ گئيں تھيں اور باہر وائرس کی وجہ سے نہيں نکل سکتی تھی۔ پاکستان ميں والدين بہت پريشان تھے۔ ميں ان کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھی ليکن ميری والدہ بہت پريشان تھیں۔

ووہان میں موجود پاکستانی طلبہ اب اہلِ خانہ کے لیے پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:43 0:00

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران جب ميری طبعيت خراب ہوئی تو يہ بات ميں نے سب سے چھپائی۔ روزانہ کی بنيادوں پر ہلاکتوں نے مجھے مزيد پريشان کر ديا۔ ميری حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ ٹينشن مزيد بڑھ گئی تھی۔ اسی دوران ہم چند دوستوں نے مل کر ايک ويڈيو پيغام حکومت پاکستان کے نام بھيجا تاکہ ہماری مشکلات کو سمجھے کے بعد ہميں جلد از جلد نکالا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ميں جلد از جلد يہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔ مجھے ايسا لگ رہا تھا کہ ميں کرونا وائرس کا شکار ہو چکی ہوں۔ ميں نے اپنی کسی بھی دوست سے رابطہ نہيں کيا کيونکہ ميں کسی اور کی زندگی کو داؤ پر نہيں لگانا چاہتی تھی۔ ميری کھانسی شدت اختيار کر چکی تھی۔ میں نے گلے پر ويکس بام کا مساج کرنا شروع کيا اور اينٹی بايوٹيک بھی ليں ليکن سانس لينا پھر بھی دشوار تھا۔ دوستوں کو کال کر کے بلانا چاہا ليکن ميرے حلق سے آواز ہی نہيں نکل رہی تھی۔ تب جا کر ميں نے اپنے گھر والوں کو ويڈيو کال ملا دی۔ ميری حالت ديکھ کر ميری والدہ کی طبيعت بہت زيادہ خراب ہوئی۔

حفصہ کے مطابق ايمرجنسی ايمبولينس کال مصروف تھی۔ يونيورسٹی انتظاميہ نے فورا يونيورسٹی اسپتال جانے کا کہا وہاں جا کر ميری حالت بہتر ہوئی۔ وہاں ميرے بہت سے ٹيسٹ ہوئے اور بلاخر يہ کنفرم ہو گيا کہ مجھ پر کرونا وائرس کا حملہ نہيں ہوا جس کی اطلاع بعد میں پاکستانی سفارت خانے نے ميرے والدين کو دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ميں اسپتال سے واپس اپنے کمرے ميں آگئی ليکن ميری حالت پھر بھی تسلی بخش نہيں تھی۔ ڈاکٹر نے ايڈمٹ ہونے کے لیے کہا ليکن ميں اپنے ٹيسٹ کے سلسلے ميں بہت سارے پيسے خرچ کر چکی تھی اور ميرے پاس بہت کم پيسے رہ گئے تھے۔ اے ٹی ايم بھی بند تھے۔ لہذا گھر والوں نے مجھے ايمرجنسی آن لائن پيسے بھيجوائے۔ جس کے بعد میں اسپتال ميں ايڈمٹ ہو گئی اور مجھے نگہداشت ميں رکھا گيا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ڈاکٹرز کے ساتھ بات چيت ميں بہت مشکل کا سامنا تھا اور زيادہ تر ٹرانسليٹر کے ذريعے ہی بات چيت ہو رہی تھی جس کے بعد ميری يونيورسٹی کے ڈين نے ايک استاد کا بندوبست کيا جنہوں نے ميری کيفيت ڈاکٹر کو سمجھانے ميں ميری بہت مدد کی۔ اس کے علاہ ميرا انشورنس کا مسئلہ بھی حل ہو گيا جس کے بعد مجھے دوائياں دی گئيں۔ مجھے برون کائٹس ہوا تھا۔ ميرے يونيورسٹی کے ساتھی بھی ڈر گئے تھے کہ کہيں اس کے بعد مجھے کرونا نہ ہو جائے۔ ميں نے کھانے پينے کی اشيا کے حوالے سے کافی مسائل کا سامنا کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ بہت زیادہ معاشی بوجھ محسوس کرنے کے بعد ہم نے سفارتخانے کو اپنے مسائل کے بارے میں بتایا جس کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستانی حکومت ہمارے لیے کچھ رقم بھیج رہی ہے مگر ہمیں پاکستانی حکومت سے واپس اپنے ملک لے کرجانے کی امید تھی۔ آخر اب یہاں یہ حالت ہے کہ ہمارے قریب دوسری یونیورسٹی کی عمارت کو کیبن اسپتال میں تبدیل کردیا گیا ہے اور ہماری عمارت کی ہوا اسی قریبی کیبن اسپتال کی کھڑکی سے ہو کر آ رہی تھی۔ اس طرف والی کھڑکیوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا مگر مریضوں کی تعداد کافی بڑھ چکی تھی جس کی وجہ سے کیبن اسپتال بنے تھے۔

حفصہ طیب نے کہا کہ ہم بہت خوفزدہ تھے ۔ یونیورسٹی نے ہمارے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی تھی اور مرکزی دروازے کو لاک کردیا تھا۔ تین دن بعد ہی ہمیں قریبی مارکیٹ سے کھانے پینے کی ضروری اشیا خریدنے کے لیے خصوصی اجازت ملتی تھی۔ ان حالات میں باہرنکلنا خود کو خطرے میں ڈالنا تھا۔ جس کے بعد سفارت خانے کی طرف سے دو افسران نے ہماری عمارت کا دورہ کیا۔ ہم میں سے کچھ طلبا نے چین میں موجود پاکستانی طلبا کی مشکلات اور پریشانیوں سے اُنہیں آگاہ کیا اور پاکستان جانے کے لیے کہا ۔

ان کے بقول اس ملاقات سے واپس آنے کے بعد تمام طلبا ہم پر برس پڑے اور میں ٹینشن میں آگئی اور پورا دن روتی رہی۔ میں مزید دو دن تک ڈیپریشن میں رہی۔ طلبا کے خیال میں ہم نے ملاقات میں ان کی صیح ترجمانی نہیں کی اور ہم اُن کے مسائل بہتر طریقے سے پیش نہیں کرسکے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی دن ہمیں یونیورسٹی کی طرف سے نوٹس میں بتایا گیا کہ ہم مارکیٹ سے سامان لانے کے لیے باہر نہیں جا سکتے اور یونیورسٹی خود ہمیں سامان مہیا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگلے چند دن میں ہمیں اطلاع ملی کہ ووہان میں سبزیوں کی قلت ہو گئی ہے اور ہمیں بمشکل یونیورسٹی کی طرف سے کچھ سبزیاں ملنے لگیں۔ ہمارے اساتذہ بھی بہت پریشان تھے مگر سب ہمت اور حوصلے سے جی رہے تھے۔ ہمیں ان تمام حالات میں یونیورسٹی سے کچھ بھی مانگنا بہت ہی بُرا لگتا تھا کیوں کہ مُشکل کی صورتحال تھی اور ہم سب وہاں ایک بوجھ بنے ہوئے تھے۔ چینی کھانا بھی ہمارے لیے استعمال کرنا مُشکل تھا۔ کچھ طلبا جو پہلے خود کھانا نہیں بناتے تھے اب شام کے کھانے کے علاوہ اپنے لیے کھانا تیار کرنے لگے اور یہ ان کے لیے کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔

حفصہ طیب نے بتایا کہ کچھ طلبا ایسے بھی تھے جن کے پاس کھانا بنانے کے لیے اپنا سامان موجود نہیں تھا اور یہ حالات ان کے لیے مزید مُشکل کا باعث بنے۔ حالات ایسے تھے کہ اپنے لیے نئی چیزیں بھی نہیں خرید سکتے تھے مگر بعد میں دوسرے ساتھیوں کے سامان میں ہی اپنے لیے کھانا تیار کر لیتے تھے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ تمام طلبا اپنے اپنے کمروں تک ہی محدود تھے اور اجتماع مکمل طور پر بند تھا۔ اب تو ہم نے کمرورں کے اندر بھی ماسک استعمال کرنا شروع کر دیے تھے۔ اسی دوران فروری کے وسط میں ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستانی حکومت ہمیں واپس پاکستان نہیں لے جانا چاہتی ہے کیوںکہ پاکستانی عوام ہم سے ڈرے ہوئے تھے اور سب لوگوں کے لیے ہم ایک وائرس تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو اس بات کا بہت دُکھ ہوا کہ آئیسولیشن کا دورانیہ مکمل کرنے کے باوجود بھی ہمیں خطرہ سمجھا جارہا تھا۔

ترکی میں کرونا وائرس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:49 0:00

حفصہ طیب نے بتایا کہ ہوبی کا صوبہ مکمل لاک ڈاﺅن تھا جبکہ دوسرے صوبوں سے پاکستانیوں نے واپس جانا شروع کردیا تھا۔ ہم لوگ اب بہت تھک چکے تھے ۔ ہمیں بتایا گیا کہ تقریبا دس مارچ تک وائرس کے حملے کا وقت ہے اور ہمیں اس کے لیے مزید احتیاط کی ضرورت ہے جس نے ہمیں اور بھی پریشان کردیا۔

وہاں رہنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس دوران طلبا کو ہائی ڈوز اسپرے کے بعد بدن میں الرجی ہونے لگی تھی۔ خود میرے گھر والے بہت زیادہ پریشان تھے اور پورا خاندان امی سے ہر بات چھپاتا رہا جب کہ باقی گھر والوں کو میں یہاں کے حالات سے آگاہ کرتی رہتی تھی اور وہ بہت زیادہ کوشش میں لگے رہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے ہمیں ووہان سے پاکستان واپس لایا جائے مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ خطرہ بہت زیادہ تھا اور میری امی بہت زیادہ پریشان تھیں۔ اس دوران میں اتنی زیادہ خوف میں مبتلا تھی کہ مجھے اپنے کمرے سے بھی خوف آنے لگا تھا۔ میں نے کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو اسپتال میں چلاتے دیکھا اور بہت ساری لاشیں بھی دیکھیں۔ یہ بہت ہی عجیب اور وحشت کا ماحول تھا اور بہت سی چیزیں مجھے بہت خوفزدہ کر رہی تھیں۔ میں خوف کی وجہ سے اپنے دوست کے کمرے تک بھی نہیں جاسکتی تھی اور نہ ہی گھر والوں کو زیادہ ٹیلی فون کرتی تھی۔ میں نے کافی مرتبہ خود کو بہت ہی اکیلا محسوس کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فروری کے آخری دنوں میں ہماری یونیورسٹی نے آن لائن کلاسسز شروع کر دیں۔ میں نے کلاسیں لینا شروع کیں اور اس کے ساتھ ساتھ خود کو مصروف بھی رکھا۔ اسی دوران حکومت پاکستان کی طرف سے ووہان کے ہر طالب علم کو 3500 چائنيز يوان فراہم کیے گئے۔ آخر ہم ناامید ہو چکے تھے کہ واپس پاکستان جانے کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔ ہم اپنے کمروں کے اندر وقت گزار رہے تھے۔

حفصہ طیب کے بقول آخر میں مارچ سے اچھی خبریں آنا شروع ہوئیں کہ وائرس پھیلنا رُک گیا ہے اور انہی خبروں نے ہمارے گھر والوں کو بہت سکون دیا۔ اب بھی ووہان میں مریض موجود ہیں مگر شاید وہ آخری مریض ہیں جن کا علاج جاری ہے اور آہستہ آہستہ وہ لوگ ٹھیک ہو کر اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔

کرونا وائرس: براہ مہربانی فاصلہ رکھیں!

<span dir="RTL">امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے علاقے سیاٹل میں واقع مختلف اسٹورز کے داخلی دروازوں پر بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں۔&nbsp;</span>
1/9 امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے علاقے سیاٹل میں واقع مختلف اسٹورز کے داخلی دروازوں پر بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں۔ 
ایک صارف سے دوسرے صارف تک کم از کم چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے کے لیے اسٹورز میں مختلف رنگوں سے لائنیں لگا دی گئی ہیں تاکہ درمیانی فاصلہ قائم رہے۔&nbsp;<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
2/9 ایک صارف سے دوسرے صارف تک کم از کم چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے کے لیے اسٹورز میں مختلف رنگوں سے لائنیں لگا دی گئی ہیں تاکہ درمیانی فاصلہ قائم رہے۔ 
 
 
جنوبی کوریا کے شہر ڈیگو کے ریلوے اسٹیشن پر موجود بینچوں پر بیٹھتے وقت بھی فاصلہ رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
3/9 جنوبی کوریا کے شہر ڈیگو کے ریلوے اسٹیشن پر موجود بینچوں پر بیٹھتے وقت بھی فاصلہ رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ 
 
اٹلی کی ایک سپر مارکیٹ کے باہر لوگ ایک دوسرے سے کم از کم 6 فٹ کی دوری پر قطار میں کھڑے ہیں۔<br />
<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
4/9 اٹلی کی ایک سپر مارکیٹ کے باہر لوگ ایک دوسرے سے کم از کم 6 فٹ کی دوری پر قطار میں کھڑے ہیں۔

 
 
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ٹرین کے مسافر ایک دوسرے سے دوری برقرار رکھتے ہوئے لائن میں کھڑے ہیں۔
<div>&nbsp;</div>
5/9 فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ٹرین کے مسافر ایک دوسرے سے دوری برقرار رکھتے ہوئے لائن میں کھڑے ہیں۔
 
انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں واقع ایک شاپنگ مال کی لفٹ میں ایک فرد سے دوسرے فرد کے درمیان فاصلے سے کھڑے ہونے کے لیے مختلف رنگوں سے نشاندہی کی گئی ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
6/9 انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں واقع ایک شاپنگ مال کی لفٹ میں ایک فرد سے دوسرے فرد کے درمیان فاصلے سے کھڑے ہونے کے لیے مختلف رنگوں سے نشاندہی کی گئی ہے۔
 
 
کرونا وائرس سے بچنے کے لیے فاصلہ رکھنے کی غرض سے امریکہ کے دفاعی ادارے پینٹاگون میں موجود کرسیوں کے درمیان فاصلہ رکھا گیا ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
7/9 کرونا وائرس سے بچنے کے لیے فاصلہ رکھنے کی غرض سے امریکہ کے دفاعی ادارے پینٹاگون میں موجود کرسیوں کے درمیان فاصلہ رکھا گیا ہے۔
 
 
اٹلی کے ایک اسٹور میں پیلے رنگ سے لائنیں لگائی گئی ہیں تاکہ صارفین ایک دوسرے سے دوری قائم رکھتے ہوئے خریداری کرسکیں۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
8/9 اٹلی کے ایک اسٹور میں پیلے رنگ سے لائنیں لگائی گئی ہیں تاکہ صارفین ایک دوسرے سے دوری قائم رکھتے ہوئے خریداری کرسکیں۔
 
 
چین کے شہر ووہان کے رہائشی علاقے میں واقع ایک اسٹور سے سبزیاں خریدنے کے لیے لوگ اپنی باری کے منتظر ہیں۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
9/9 چین کے شہر ووہان کے رہائشی علاقے میں واقع ایک اسٹور سے سبزیاں خریدنے کے لیے لوگ اپنی باری کے منتظر ہیں۔
 
 
Previous slide
Next slide

وہ کہتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کروں گی اور اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی اور چین کی حکومت کا بھی شکریہ ادا کروں گی جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہمارا خیال رکھا۔

انہوں نے کہا کہ دل بہت اُداس ہوتا ہے۔ ہمارے بہت سارے چینی دوستوں نے اسی سال اپنے پیاروں کو کھویا۔ ووہان شہر اتنے لمبے عرصے سے بالکل خاموش ہوگیا تھا اور آج کل ہمیں کچھ چین کے لوگ دوسرے صوبوں سے پھل اور سبزیاں بطور تحفہ بھیج رہے ہیں اور مُجھے چینیوں کی یہ سخاوت دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ یہ دُکھ بھی ہے کہ اب یہ وائرس دوسرے مُمالک سمیت پاکستان میں بھی پھیل رہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد از جلد سب ٹھیک ہوگا اور ہم اپنے والدین سے ملیں گے اور ووہان میں پھرسے نئی صبح کا آغاز ہوگا۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG