رسائی کے لنکس

سعودی اتحاد کے فضائی حملوں سے یمن میں 136 افراد ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ


صنعا میں سعودی فوجی اتحاد کے فضائی حملوں کے بعد تباہی کا ایک منظر، اکتوبر 2017

سعودی فوجی اتحاد کے تحت یمن میں کیے جانے والے فضائی حملوں میں 6 دسمبر سے اب تک کم از کم 136 عام شہری اور غیر فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

فضائی حملوں کے دوران یمن میں ہلاکتوں کی یہ تفصیلات منگل کے روز جنیوا میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے کے ترجمان نے جاری کیں۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سعودی فوجی اتحاد یمن جانے والے بحری جہازوں پر کڑی پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے 80 لاکھ یمنی باشندے قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یمن کا انحصار بڑے پیمانے پر درآمد کی جانے والی خوراک، ایندھن اور ادویات پر ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق عالمی ادارے کے ترجمان روپڑٹ کول ول نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ہمیں یمن میں سعودی اتحاد کی جانب سے سابق صدر علی عبداللہ کی 4 دسمبر کو ہلاکت کے بعد فضائی حملوں میں اضافے سے شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر گہری تشویش ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ 13 دسمبر کو صنعا کے ضلع شوب کی ایک جیل پر فضائی حملے میں کم از کم 45 قیدی ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی طرح 15 دسمبر کو حدیدہ کے ایک فارم ہاؤس پر فضائی بمباری سے 14 بچے اور 6 بالغ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے عہدے داروں نے تصدیق کی ہے کہ صنعا، صعدہ، حدیبیہ اور تیز کے علاقوں میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 87 افراد زخمی بھی ہوئے۔

منگل کے روز سعودی ائیر ڈیفنس سسٹم نے دارالحکومت ریاض کے جانب فائر کیے جانے والے ایک بیلسٹک میزائل کا راستہ روک کر اسے راستے میں ہی تباہ کر دیا۔ فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ ہوثیوں نے یہ حملہ ایران کی مدد سے کیا تھا۔

سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے یمن پر نافذ کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یہ ملک 6 نومبر سے عملی طور پر محاصرے میں ہے۔ تاہم 25 نومبر سے پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے امدادی بحری جہازوں کو آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ جس کے بعد عالمی ادارہ خوراک وہاں کافی مقدار میں خوراک پہنچا چکا ہے جو 18 لاکھ افراد کی دو مہینوں کی ضروريات کے لیے کافی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG