رسائی کے لنکس

logo-print

الحدیدہ پر حملے کی صورت میں 250000 افراد کی جانیں جا سکتی ہیں: اقوام متحدہ


فائل

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام سے وابستہ اداروں نےسعودی قیادت والے اتحاد کی جانب سے یمن کی بندرگاہ والے شہر، الحدیدہ پر ممکنہ حملے کا انتباہ دیا ہے، جس سے ممکنہ طور پر ڈھائی لاکھ افراد کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

ابھی تک حوثی زیر کنٹرول الحدیدہ کی بندگاہ پر حملہ نہیں کیا گیا۔ تاہم، اس بندرگاہ پر سعودی قیادت والی فوج کی جانب سے حملے کا خوف بڑھتا جا رہا ہے، جو لاکھوں یمنی شہریوں کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔

انسانی امور کے رابطے کے دفتر کے ترجمان، ژان لارک نے کہا ہے کہ یمن کے لیے انسانی ہمدردی کے کام کی رابطہ کار، لیزا گرانڈے کے خیال میں حملےیا حدیدہ پر قبضے کی صورت میں لاکھوں بے گناہ شہری اثر انداز ہوں گے۔

بقول اُن کے ''اقوام متحدہ اور اُس کے ساجھے داروں کا اندازہ ہے کہ حدیدہ کے قرب و جوار میں 600000 کے قریب شہری مقیم ہیں''۔

اُنھوں نے بتایا کہ انسانی ہمدردی کی نوعیت سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں نے ایک متبادل منصوبہ تیار کیا ہے۔ طویل مدت تک صورت حال خراب رہنے کی صورت میں 250000 افراد اپنا سارا متاع حیات کھو سکتے ہیں، یہاں تک کہ اُن کی زندگی کو خطرہ درپیش ہوسکتا ہے''۔

اقوام متحدہ نےکہا ہے کہ یمن کو دنیا کا بدترین انسانی بحران درپیش ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب نے مارچ 2015ء میں یمنی حکومت کی مدد کے لیے حوثی باغیوں پر بم حملوں کا آغاز کیا۔ تب سے، اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، 10000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG