رسائی کے لنکس

یمن: سکیورٹی فورسز اور قبائلی ملیشیا کے درمیان لڑائی


(فائل فوٹو)

یمن میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور ایک طاقتور قبائلی رہنما کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔

خبر رساں ایجنسیوں نے عینی شاہدین کے حوالے سے کہا ہے کہ دارالحکومت صنعا بدھ کے روز بھی فریقین کے مابین ہونے والی فائرنگ کی آوازوں سے گونجتا رہا۔ اس سے قبل گزشتہ روز دونوں دھڑوں کے درمیان لڑائی میں 38 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے کہا ہے کہ ان کے اور قبیلہ حشید کے سربراہ شیخ صادق الاحمر کے حامیوں کے مابین جاری لڑائی کے باوجود ان کا ملک خانہ جنگی سے دوچار نہیں ہوگا۔

منگل کے روز حشید قبیلے کے حامی مسلح افراد نے صنعا کی کئی عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے جواب میں علی عبداللہ صالح کے حامی دستوں کی جانب سے قبیلہ کے سردار اور حزبِ مخالف کے اہم رہنما کے گھر پر مارٹرگولوں سے حملے کیے گئے تھے۔

دارالحکومت کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی لڑائی میں ہلاک ہونے والے 24 افراد کا تعلق قبائلی سردار کے حامیوں سے ہے۔ سرکاری حکام نے لڑائی میں 14 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

بااثر قبائلی سردار کی جانب سے اپنے حامیوں کو سرکاری افواج کے ساتھ لڑائی میں مصروف کرنے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یمن میں گزشتہ چار ماہ سے جاری حکومت مخالف تحریک میں شدت آگئی ہے۔

منگل کے روز علاقائی ممالک کی تنظیم 'خلیج تعاون کونسل' نے یمن میں سرکاری افواج اور قبائلی ملیشیا کے درمیان جاری لڑائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

چھ ملکی گروپ ’ جی سی سی‘ کی جانب سے تنازعہ کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں فریقین نے ایک معاہدہ پر اتفاق کیا تھا جس کی رو سے صدر صالح کو اپنے اختیارات ایک نائب کو سونپ کر عہدے سے مستعفی ہوجانا تھا۔

تاہم صدر صالح کی جانب سے مسلسل تیسری بار معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کے بعد تنظیم نے اپنی مصالحانہ کوششیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG