رسائی کے لنکس

یمن : حکومت مخالف قبائلی رہنما کی گرفتاری کے احکامات جاری


دارالحکومت صنعا کا ایک منظر (فائل فوٹو)
دارالحکومت صنعا کا ایک منظر (فائل فوٹو)

مغربی نشریاتی اداروں نے یمن کے سرکاری حکام اور عینی شاہدین کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ قبائلی ملیشیا اور سرکاری افواج کے درمیان بدھ کی شب اور جمعرات کو علی الصبح ہونے والی لڑائی میں مزید 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے حزبِ مخالف سے تعلق رکھنے والے اس قبائلی رہنما کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں جن کے حامیوں اور سرکاری افواج کے درمیان رواں ہفتے کے آغاز سے شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

یمن کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جمعرات کے روز جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں سیکیورٹی فورسز کو قبیلہ حشید کے سربراہ شیخ صادق الاحمر کو حراست میں لینے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

صدر صالح کی حامی افواج اور حشید قبیلہ کے مسلح افراد کے درمیان دارالحکومت صنعا میں پیر کے روز سے جاری مسلح تصادم میں اب تک 70 کے لگ بھگ عام شہری، فوجی اور قبائلی جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

دریں اثناء صادق الاحمر نے صدر صالح پر یمن کو خانہ جنگی کا شکار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ عرب ٹیلی ویڑن 'الجزیرہ' کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے قبائلی سردار نے دیگر عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ صدر صالح پر اقتدار سے علیحدہ ہونے کے لیے دباؤ بڑھائیں۔

اُدھر مغربی نشریاتی اداروں نے یمن کے سرکاری حکام اور عینی شاہدین کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ قبائلی ملیشیا اور سرکاری افواج کے درمیان بدھ کی شب اور جمعرات کو علی الصبح ہونے والی لڑائی میں مزید 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل یمن کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ دارالحکومت میں واقع اسلحہ کے ایک ذخیرے میں ہونے والے دھماکے کے باعث 28 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم امریکی خبر رساں ایجنسی 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے کہا ہے کہ یمنی حزبِ مخالف کا وزارتِ دفاع کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ بیان کردہ ہلاکتیں سرکاری فورسز کی جانب سے ایک رہائشی علاقے پر کی گئی شدید بمباری کے نتیجے میں ہوئیں۔

صنعا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح شہر کئی شدید دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں سے گونجتا رہا۔ فریقین میں جاری شدید لڑائی کے باعث دارالحکومت میں بجلی کی ترسیل کا نظام بھی متاثر ہوا ہے جب کہ شہر کے ہوائی اڈے کو بند کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حزبِ مخالف کے مسلح کارکنوں نے سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سبا' کے دفتر سمیت شہر کی کئی سرکاری عمارات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

صنعا میں گزشتہ چار روز سے جاری لڑائی کے باعث کئی رہائشی گاڑیوں کے ذریعے شہر سے نقل مکانی کرگئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی یمن میں تعینات اپنے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس بلالیا ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ یمن کی سیکیورٹی کی صورتِ حال وہاں جاری دہشت گردانہ سرگرمیوں اور بدامنی کے باعث خاصی خراب ہوچکی ہے۔

ادھر یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے اقتدار سے رضاکارانہ طور پر علیحدہ ہونے سے ایک بار پھر انکار کردیاہے۔

بدھ کے روز برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' سے گفتگو میں صدر صالح نے اپنے 33 سالہ اقتدار کے خاتمے کے لیے کی جانے والی امریکی کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ وہ "بیرونِ ملک سے آئے احکامات تسلیم نہیں کرتے"۔

دارالحکومت میں جاری جھڑپوں کے نزدیکی مقام پر ہزاروں افراد کی جانب سے صدر صالح سے اقتدار سے فوری علیحدگی کا مطالبہ کرنے کیلیے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG