رسائی کے لنکس

logo-print

حوثی باغیوں نے یمن میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا


امریکہ ایم کیو 9 ماڈل کا ڈرون یمن میں القاعدہ اور داعش کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے منگل کی شام کو ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔

عہدے دار نے، جس نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی، بتایا کہ اگرچہ ڈرون گرانے والے حوثی تھے لیکن انہیں یہ صلاحیت ایران نے دی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈرون گرانے کے لیے زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل استعمال کیا گیا تھا۔

ڈرون گرانے کا تازہ ترین واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا ہے کہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینتھ فرینک مککنزی تجارتی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ایک اتحادی فورس بنانے کے لیے علاقے میں موجود ہیں۔

بحرین، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے قائم کی جانے والی فورس میں شامل ہو چکے ہیں۔

یہ فورس برطانیہ اور سوئیڈن کے پرچم بردار بحری جہازوں کو خلیج گلف میں ایران کی جانب سے پکڑے جانے کے بعد قائم کیا گیا ہے۔

امریکہ ایران پر یہ الزام بھی لگا چکا ہے کہ اس نے خلیج اومان میں آئل ٹینکرز پر حملے کیے تھے اور متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکرز کو تباہ کرنے کے لیے بارودی سرنگیں نصب کی تھیں۔ تاہم ایران ان الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔

منگل کو یمن میں امریکی ڈرون گرائے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل جون میں بھی ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے ایک امریکی ڈرون گرایا تھا۔

ایم کیو 9 قسم کے یہ ڈرون پائلٹ کے بغیر پرواز کرتے ہیں اور انہیں ریموٹ سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ طیارے اہداف پر حملوں اور جاسوسی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

امریکہ یہ ڈرون یمن میں القاعدہ اور داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پچھلے سال امریکہ نے یمن میں 36 فضائی حملے کیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG