رسائی کے لنکس

logo-print

یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں دراڑ پڑنے کا شائبہ


عدن: نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کی گریجوئیشن پریڈ

عالمی افق پر طویل مدت سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات لازم و ملزوم خیال کیے جاتے ہیں۔ تاہم، حالیہ دنوں کے دوران چند ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جن سے آپسی دوری کا تاثر ابھرتا ہے۔

جمعرات کے روز یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا ہے کہ اس نے عدن میں فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں 40 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عدن کے بندرگاہ والے شہر پر کنٹرول کی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔

یمن کے صدر عبد ربو منصور ہادی کی فوجوں اور علیحدگی پسند عبوری جنوبی کونسل کے جنگجوؤں نے یمن کی پیچیدہ لڑائی میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ دونوں فریق سعودی اور متحدہ عرب امارات کی قیادت والے اتحاد کے ڈھیلے ڈھالے اتحادی ہیں، جو ملک کے شمالی علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں اور حوثی باغیوں سے نبردآزما ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق، یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے جمعرات کے روز ایک ٹوئٹر پیغام میں الزام لگایا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے عدن اور اس کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ صوبہ ابیان کے دارلحکومت زنزبار پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں عدن کے 40 جانباز ہلاک جب کہ 70 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

ساتھ ہی، یمن کے معاون وزیر خارجہ، محمد الہدرامی نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ’’ان واضح ماورائے عدالت ہلاکتوں کا ذمہ دار ہم متحدہ عرب امارات کو سمجھتے ہیں‘‘۔

انھوں نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ ’’اس غیر قانونی اور بغیر جواز کی فوجی جارحیت کے خلاف قانونی حکومت کا ساتھ دے‘‘۔

ادھر، اس معاملے پر متحدہ عرب امارات یا سعودی عرب نے فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

گذشتہ ہفتے، متحدہ عرب امارات نے یمن کی حکومت کا یہ دعویٰ مسترد کیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ عدن میں ’’مسلح بغاوت کا وہی کلی طور پر ذمہ دار ہے‘‘۔ سال 2015 میں جب حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا، ہادی کی حکومت نے عدن کو اپنا عارضی دارالحکومت قرار دیا تھا۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہمسایہ ملک ہیں، جو مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے خطے کا حصہ ہیں اور جن کے سیاسی اور ثقافتی بندھن یکساں ہیں۔

رائٹرز کی خبر کے مطابق، مصر سے سوڈان اور قرنِ افریقہ کے خطے میں، اپنے مالی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے، دونوں ملک اپنی کوششوں میں قریب تر اور مربوط رہے ہیں۔ یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنی فوجی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے علاقے کے سیاسی منظر نامے پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔

خبر کے مطابق، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا اتحاد ڈھیلا پڑتا جا رہا ہے، جب کہ اس سے قبل اپنے مشترک مخالف، ایران سے نمٹنے کے لیے، دونوں ملک ایکساتھ چلتے رہے ہیں، یہاں تک کہ اس ضمن میں انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل کی۔

تاہم، حقائق پر نظر رکھنے والے ماہر، ذرائع کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس ماہ، مکہ کے اپنے محل میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے غیر رواجی قدم اٹھاتے ہوئے، اپنے قریب ترین عرب ساتھی، متحدہ عرب امارات کے خلاف ’’انتہائی خفگی‘‘ کا اظہار کیا۔ اپنی نوعیت یا یہ پہلا ثبوت خیال کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بالترتیب اصل حکمراں ولی عہد محمد بن سلمان اور شیخ محمد بن زید النھیان ہیں۔

بین الاقوامی امور پر نگاہ رکھنے والے کہتے ہیں کہ اگر متحدہ عرب امارات اور سعودی تعلقات میں فرق آتا ہے تو اس کے اثرات باہمی تعلقات سے کہیں دور جائیں گے۔

ایسی دوری کا ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی جانب سے ڈالے جانے والے ’’انتہائی دباؤ‘‘ کے معاملے کو دھچکا لگے گا؛ اسرائیل فلسطین امن کوششیں متاثر ہوں گی؛ جب کہ دیگر تنازعات پر گہرا اثر پڑے گا۔ دونوں ملک قریبی ساتھی رہے ہیں جن کا اثر و رسوخ خطے کے لیے اور تیل کی عالمی رسد کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ دونوں ملکوں میں دوری کے تاثر کا ایک سبب یمن کی تباہ کن لڑائی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG