رسائی کے لنکس

logo-print

زلفی بخاری کا نام ’اِی سی ایل‘ سے نکال دیا گیا


اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی، زلفی بخاری کا نام ’اِی سی ایل‘ سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے وزیر اعظم عمران خان کے مشیر کا نام اِی سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر پہلے سے محفوظ فیصلہ سنایا۔

فیصلہ دینے سے قبل، عدالت عالیہ نے فریقین کے دلائل سنے۔

نیب زلفی بخاری کے خلاف آف شور کمپنی رکھنے اور آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں تحقیقات کر رہی ہے، جب کہ وہ متعدد بار نیب کے روبرو پیش بھی ہو چکے ہیں۔

زلفی بخاری کا نام ’اِی سی ایل‘ میں شامل ہونے سے متعلق اس وقت معلوم ہوا جب وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خان کے ساتھ عمرہ ادائیگی کے لیے بیرون ملک جا رہے تھے کہ ائیرپورٹ پر حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ ان کا نام نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے۔

اس وقت اگرچہ تحریک انصاف کی حکومت نہ تھی اور نگران حکومت کام کر رہی تھی، لیکن اس کے باوجود زلفی بخاری کا نام ایک مرتبہ کے لیے ای سی ایل سے خارج کیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔

اس معاملے پر اس وقت کے نگران وزیر داخلہ اعظم خان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے متوقع وزیر اعظم کے کہنے پر زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالا۔

زلفی بخاری وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں اور دوہری شہریت کے حامل ہیں۔

ان کے خلاف سپریم کورٹ میں دہری شہریت رکھتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر بننے سے متعلق کیس بھی دائر ہے، جس کی سماعت جاری ہے۔

زلفی بخاری پر پانامہ میں آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام ہے؛ اور اس سلسلہ میں انہیں ان کے والد سمیت نیب طلب کیا جا چکا ہے، جہاں انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG