کیا پاکستان اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل آئے گا؟

دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا وفد اپنا دورۂ پاکستان مکمل کر کے واپس روانہ ہو گیا ہے۔ دورے کا مقصد انسدادِ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لیے پاکستانی اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے جون میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تدارک کے لیے ایکشن پلان پر عمل درآمد کو مکمل قرار دیتے ہوئے اپنے جائزہ مشن کو اسلام آباد بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔

عالمی تنظیم کے اس اعلان کے مطابق جائزہ مشن نے رواں ماہ پاکستان کا دورہ کیا اور اٹھائے گئے اقدامات اور مستقبل میں اس کے عمل درآمد کی استعدادِ کار کا جائزہ لیا۔

اگرچہ اس دورے کے بارے میں باقاعدہ طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم انگریزی روزنامہ 'ڈان' میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق جائزہ مشن نے نوٹ کیا ہے کہ انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے اہداف کی مالی معاونت سے نمٹنے کے 11 میں سے 10 اہداف پر پاکستان کے عمل درآمد کی سطح کم ہے، حالاں کہ ملک 40 میں سے 38 تیکنیکی سفارشات کی تعمیل کرچکا ہے۔

وائس آف امریکہ نے اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ سے رابطہ کیا تاہم ان کی جانب سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہوسکی ہیں۔

مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں پر پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے اپنے مقرر کردہ اہداف پر عمل درآمد کو تسلی بخش قرار دیاہے اور اسلام آباد آنے والے وفد کی جانب سے ایسا کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا ہے۔


ایف اے ٹی ایف اہداف پر عمل درآمد کے لیے قائم فیڈرل مانیٹرنگ یونٹ کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر لبنی فاروق کہتی ہیں کہ اسلام آباد آنے والے وفد نے پیرس میں اپنے ہیڈکوارٹرز میں رپورٹ جمع کرانی ہے، لہذٰا اس ے قبل جس رپورٹ کا حوالہ دیا جا رہا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ پرانی ہو۔

ایف اے ٹی ایف وفد کی پاکستان میں موجودگی اور اُن کی ممکنہ رپورٹ کے بعد اب سب کو انتظار ہے کہ آیا پاکستان اکتوبر میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں گرے لسٹ سے باہر نکل پائے گا یا نہیں۔

یہ سوال ایسے وقت میں اٹھایا جارہا ہے جب پاکستان کو داخلی طور پر انتشار کا سامنا ہے اور حالیہ عرصے میں صوبہ خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تیکنیکی اور سفارتی سطح پر ایف اے ٹی ایف اہداف پر عمل درآمد کے حوالے سے دنیا کو قائل کر لیا ہے۔ لہذٰا پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے میں بظاہر کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز سے منسلک دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سعد نذیر کہتے ہیں کہ پاکستان کے اہداف اور عمل درآمد کے حوالے سے تمام اعشاریے مثبت ہیں۔ دفترِ خارجہ سے لے کہ اسٹیٹ بینک تک تمام ادارے پر امید ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سعد نذیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی میں اضافے کی وجہ افغانستان کے حالات ہیں۔ اُن کے بقول افغان طالبان کے دعووں کے برعکس افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ افغان طالبان کی پورے افغانستان میں عمل داری نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کررہے ہیں لہذا دہشت گردی سے متاثرہ ملک کے ساتھ ہمدردی ہونی چاہیے نہ کہ اس پر پابندیاں لگائی جائیں۔

سعد نذیر نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے اور ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے سیاسی طور پر بھی راستہ ہموار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف تیکنیکی بلکہ سفارتی حمایت بھی حاصل کر لی ہے اور ایف اے ٹی ایف خود کہہ چکا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں۔

سعد نذیر کے بقول اگر پاکستان کو اکتوبر میں گرے لسٹ سے نہیں نکالا جاتا تو یہ دیوار سے لگانا ہوگا اور مزید اقدامات لینا پاکستان کے بس سے باہر ہو جائے گا۔

'دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کا ایف اے ٹی ایف سے تعلق نہیں بنتا'

معاشی امور کے تجزیہ نگار فرخ سلیم کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کا اثر ایف اے ٹی ایف پر نہیں پڑتا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے 2018 اور2021 کے دوران پاکستان کو 34 نکات پر مشتمل جو پلان آف ایکشن دیا، اس پر پوری طرح عمل کیا گیا۔

فرح سلیم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف دہشت گردوں کی معاونت روکنے کے لیے چار طرح کے اقدامات چاہتا ہے قانون سازی، اس پر عمل درآمد کے لیے ادارے، مقدمات اور سزائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے تین امور پر تو بہت پہلے سے عمل درآمد کرلیا تھا اور چوتھے نکتے سزائیں سنائے جانے پر بھی خاصی پیش رفت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی نگرانی کی فہرست میں ہے اور پاکستان کی سیاسی قیادت یہ کہتی رہی ہے کہ عالمی تنظیم کے ایکشن پلان پر عمل کر لیا گیا ہے۔