پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر امریکہ کی تشویش

رپورٹ کے مطابق حکومت اشتہارات کےذریعے بھی میڈیا کے اداروں پر دباؤ بڑھا رہی ہے جس کے ساتھ ناپسندیدہ صحافیوں کو نوکریوں سے بھی برخاست کیا جا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق سے متعلق سال 2019 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی ابتر ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد، غیر قانونی حراست، حکومت کی بے جا مداخلت، اظہار رائے پر پابندیاں، صحافیوں کے خلاف تشدد اور سنسر شپ اس سال بھی جاری رہی۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق اپنے اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان امریکہ کے سامنے یہ معاملہ اٹھائے گا۔

امریکی دفتر خارجہ کی انسانی حقوق رپورٹ برائے 2019 گزشتہ روز جاری کی گئی جس میں دنیا کے مختلف ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق اعداد وشمار اور صورت حال کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان سے متعلق کہا گیا ہے کہ ایسے کئی واقعات موجود ہیں جن میں پاکستانی سیکیورٹی حکام نے غیر قانونی طور پر شہریوں کو ہلاک کیا ہو۔

پولیس کے ہاتھوں شہریوں کا قتل

امریکی محکمہ خارجہ نے پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے لورالائی میں قتل ہونے والے کارکن ارمان لونی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ انہیں مبینہ طور پر پولیس حکام نے قتل کیا۔

اس کے علاوہ کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سینکڑوں افراد کے قتل میں ملوث راؤ انوار کو ضمانت پر رہا کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق کئی افراد کو لاپتہ کر دیا گیا۔ کراچی کے جنگ اخبار کے صحافی مطلوب موسوی اور اب تک نیوز کے مبشر نقوی کو غائب کر دیا گیا اور تاحال ان کا کچھ پتہ نہیں ہے۔

اپریل 2019 میں ایک اور صحافی رفاقت علی کو 14 ماہ تک قید میں رکھا گیا۔

فوجی افسر جرائم میں ملوث

اگست میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ایک میجر کو عمر قید کی سزا دی گئی جو نوشکی میں ایک بچے کے اغوا برائے تاوان میں ملوث تھا۔

رپورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے پی ٹی ایم کے لیے ٹائم از اپ کہا تھا، آنے والے مہینوں میں خڑکمر کے مقام پر 16 عام شہری ہلاک ہوئے۔ خڑکمر واقعہ کے بعد دو ارکان اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جبری گمشدہ افراد کے کمشن کو 2011 سے ستمبر 2019 تک 6372 کیسز رپورٹ کیے گئے۔ کمیشن نے 4140 کیسز بند کردیے جب کہ 2232 کیسز ابھی بھی موجود ہیں۔

پولیس حراست میں تشدد معمول

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام لوگوں پر پولیس حراست میں تشدد معمول کی بات ہے۔ لاہور میں پولیس کا ایک ذاتی تشدد سیل دریافت کیا گیا۔ اس سیل میں قیدیوں پر تشدد کرکے ان کے اہل خانہ سے رقوم وصول کی جاتی تھیں۔

فیصل آباد میں صلاح الدین نامی شخص کو اے ٹی ایم مشینیں توڑنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پولیس حراست میں قتل کردیا گیا۔ ایچ آر سی پی کے مطابق ایسے 82 کیسز گزشتہ سال سامنے آئے جن میں 29 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوئے۔

پاکستان میں جیلوں کی حالت زار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں 114 جیلوں میں جہاں 57 ہزار 742 قیدیوں کی گنجائش ہے وہاں اس وقت 77 ہزار 257 قیدی موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اندرونی تنازعات کے باعث بھی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گرد گروپ ابھی بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں۔ قبائلی علاقوں اور کراچی وغیرہ میں کئی افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔

آزادی اظہار پر قدغن

رپورٹ میں آزادی اظہار پر قدغن لگانے پر تنقید کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کو دھمکیاں، تشدد اور قتل کے ذریعے سیلف سینسر شپ پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوج کا ترجمان ادارہ آئی ایس پی آر اور پیمرا سنسر شپ کو فروغ دے رہے ہیں۔ قومی مفاد کے نام پر حکومت اور فوج کے خلاف تنقید کو زبردستی روکا جارہا ہے۔

پاکستان میں بھارتی مواد دکھانے پر پابندی ہے۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر کنٹرول کے لیے ٹوئٹر سے رابطہ کیا کہ وہ ان پر تنقید کرنے والے اکاؤنٹس کو بند کریں۔

میڈیا پر پابندیوں کی وجہ سے انہیں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے انٹرویوز دکھانے پر پابندی ہے جن میں آصف علی زرداری اور مریم نواز کے انٹرویوز چلتے ہوئے روک دیے گئے۔

پیمرا کی طرف سے ٹی وی چینلز کو ہدایت نامے جاری کیے گئے اور نہ ماننے کی صورت میں کسی بھی چینل کو بند کردیا گیا ۔ ریڈیو فری یورپ کو وزارت داخلہ کے کہنے پر بند کردیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز، سیاسی جماعتوں، دہشت گردوں اور دیگر گروپس کی طرف سے میڈیا کے اداروں، صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ خواتین صحافیوں کو بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بعض صحافیوں کو اغوا کیا۔ قبائلی یا دور دراز علاقوں میں موجود صحافیوں کو مزید مشکلات اور سیلف سینسر شپ کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور میں صحافی رضی دادا کو سوشل میڈیا پر ان کی لگائی جانے والی پوسٹس کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔

اخبارات کی ترسیل میں مشکلات

بعض صحافتی اداروں کو اخبارات کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ اور دی نیوز اخبار کو تقسیم کاروں کے ذریعے روکا گیا کہ وہ یہ دونوں اخبار فروخت نہ کریں۔ جیو چینل کو اس کے مقررہ نمبر پر نہ دکھانے کی ہدایت کی گئی۔

حکومت اشتہارات کے ذریعے بھی میڈیا کے اداروں پر دباؤ بڑھا رہی ہے جس کے ساتھ ناپسندیدہ صحافیوں کو نوکریوں سے بھی برخاست کیا جا رہا ہے۔ غیر حکومتی عناصر کی طرف سے میڈیا پر دباؤ میں کمی آئی ہے لیکن یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں راؤ انوار کی طرف سے مبینہ طور پر قتل کیے جانے والے 444 افراد کی علامتی قبروں کی نمائش کو حکام نے زبردستی بند کروا دیا۔

پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود

مہاجرین کےحوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ ان مہاجرین کو اب تک باضابطہ مہاجر کا درجہ نہیں دیا گیا اور ایک سال میں 1234 مہاجرین کو حراست میں لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن کے خلاف قوانین موجود ہیں اور کئی سیاستدانوں اور بیوروکریٹس پر کرپشن کے الزامات موجود ہیں۔ ان میں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سلیکٹڈ احتساب کے ذریعے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔

پاکستان میں اقلیتی گروپس کے خلاف بھی پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں اور بلوچستا ن میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی کو کچھ علاقوں تک محدود کردیا گیا ہے جو ان کی آزادانہ نقل و حرکت اور تعلیم و روزگار کے حصول میں رکاوٹ ہے۔

کرپشن

ملک میں موجود کرپشن کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بعض اوقات حقیقی واقعات کی محض رپورٹ کروانے کے لیے پولیس کو ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔

پاکستان میں جوڈیشل سسٹم میں رشوت کی شکایات عام ہیں۔ پاکستانی کی لوئر کورٹس کرپشن زدہ ہیں جن پر اعلیٰ عدالتوں کے ججز کا اثر و رسوخ ہے۔ سیاسی جماعتوں کےخلاف جو تحقیقات کی جاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ انہیں سیاسی طور دباؤ میں لانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ قوانین موجود ہیں لیکن کرپشن کے الزامات میں سزائیں نہیں ہو سکیں۔

بچوں اور خواتین کے حقوق

پاکستان میں بچوں اور خواتین کے حقوق کی پامالی پر بھی رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خیرپور سندھ میں چودہ سالہ بچی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ ملتان میں ایک شخص کو بیوی، دو بچوں اور خاندان کے چھ افراد کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز بڑی تعداد میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں بچیوں کو ونی اور سوارہ بھی کیا جاتا ہے جس میں کسی معاملہ کے حل کے لیے بچیوں کو دے دیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ خواتین کو اگرچہ پارلیمنٹ میں بذریعہ قانون سازی لایا گیا ہے لیکن ابھی ان حقوق کے حوالے سے بہت سا کام ہونے کی ضرورت ہے۔

ہیومن رائٹس کمشن کا کیا کہنا ہے؟

ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان کے ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اکثر حکومتی ادارے اور اہل کار ہی انسانی حقوق کی پامالی میں شامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی میں مشکلات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی حلقوں کا زیادہ اثر و رسوخ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے جمہوری ادارے اس قدر ترقی نہیں کر پا رہے جس قدر ہونی چاہیے۔ جمہوری اداروں کی کمزوری کی وجہ سے بھی بہت سے مشکلات سامنے آتی ہیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ اس رپورٹ میں بیشتر ان ہی باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ماضی میں اخبارات میں رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔ لیکن اب آزادی اظہار رائے پر جس طرح پابندیاں لگ رہی ہیں اصل صورت حال بھی سامنے آنے نہیں دی جا رہی۔