زیرِ حراست افراد پر تشدد کے تدارک کا بل سینیٹ سے منظور، کیا عمل درآمد ہو پائے گا؟

سینیٹ میں منظور ہونے والے اس بل میں نہ صرف تشدد کی جامع تعریف واضح کی گئی ہے بلکہ تشدد کے واقعات میں ملوث پانے جانے والے اہلکاروں کے لیے جرمانے کے ساتھ مختلف سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے پاکستان کی سینیٹ میں زیرِ حراست افراد کے خلاف تشدد اور ہلاکت کی روک تھام کے بل کی متفقہ منظوری کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک عرصے سے حکومت سے اقوامِ متحدہ کے تشدد کے خلاف کنونشن کے تحت ایک قانون وضع کرنے کا مطالبہ کرتی آ رہی تھیں جس میں نہ صرف زیرِ حراست تشدد کی جامع تعریف بیان کی گئی ہو بلکہ اس مجوزہ قانون کے تحت تشدد کے ایسے واقعات کو جرم قرار دے کر ان کا سدِ باب کیا جا سکے۔

پاکستان کی سینیٹ نے اس سلسلے میں دورانِ حراست افراد کے خلاف تشدد اور ہلاکت کی روک تھام اور سزا کا بل منظور کر لیا ہے۔

اس بل کا مسودہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شری رحمٰن نے ایوان میں پیش کیا تھا۔

اب یہ بل پاکستان کی قومی اسمبلی کو بھیج دیا جائے گا۔ اگر قومی اسمبلی اس بل کو اسی شکل میں منظور کر لیتی ہے تو یہ باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے اس بل کی سینیٹ سے منظوری کے بعد ایک ٹوئٹ میں اسے ایک جامع بل قرار دیا جو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں مبینہ تشدد کے واقعات کے روک تھام میں معاون ہو گا۔

پیر کو سینیٹ میں منظور ہونے والے اس بل میں نہ صرف تشدد کی جامع تعریف واضح کی گئی ہے بلکہ تشدد کے واقعات میں ملوث پانے جانے والے اہلکاروں کے لیے جرمانے کے ساتھ مختلف سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

اس بل کے تحت کوئی بھی اہلکار دورانِ حراست تشدد یا جنسی تشدد کے جرم کا مرتکب ہوگا یا ایسی کسی جرم کی سازش میں ملوث پایا گیا تو اسے عمر قید کے ساتھ ساتھ 30 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ سرکاری اہل کار جو ایسے واقعات کی روک تھام کے ذمے دار ہیں اگر وہ ایسے واقعات میں جان بوجھ کر ملوث پائے گئے اور ان کی غفلت کی وجہ سے ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو انہیں کم ازکم سات برس قید اور 10 لاکھ جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

انسانی حقوق کے غیر سرکاری اداری ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ اور قانون دان حنا جیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بل کا خیر مقدم کیا ہے۔

حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ اس بل میں تشدد کی جامع تعریف کی گئی ہے جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔ تاہم حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فوجداری قانون میں تشدد کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں ہے۔

ان کے بقول اگرچہ اب ایک مخصوص مجوزہ قانون میں اس کی تعریف وضع کر دی گئی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے فوجداری قانون میں بھی اس تعریف کو شامل کرنا بہتر ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت زیرِ حراست تشدد کا نشانہ بننے والوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص بھی ایسے کسی واقعے کا مدعی بن سکتا ہے اور یہ معاملہ متعلقہ حکام اور مقامی سیشن کورٹ کے جج کے سامنے لا سکتا ہے۔

انہوں نے اس بل کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ملک میں انسانی حقوق کے سرکاری ادارے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے کردار کا بھی تعین کیا گیا ہے تاکہ تشدد کے ایسے واقعات کی روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے۔

حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ قانون کی افادیت اپنی جگہ لیکن اس مجوزہ قانون کے تحت متعلقہ سیشن جج تشدد کے واقعے کی تفتیش وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے بھی کروا سکتا ہے۔

حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ قانون کی افادیت اسی وقت بہتر ہو سکتی ہے جب ایف آئی اے کی استعداد کار اور ساکھ بہتر کرنے کے لیے اصلاحات بھی وضع کی جائیں گی تاکہ ان کے بقول یہ ادارہ مؤثر اور غیر جانب دارانہ طور پر ایسے واقعات کی تفتیش کر سکے۔

حنا جیلانی کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون کا دائرہ کار ان اداروں کے اہلکاروں تک بڑھانے کے ضرورت ہے جو بعض اوقات مبینہ طور پر بغیر کسی قانونی کارروائی کے مشتبہ افراد کو حراست میں رکھنے کے ساتھ ساتھ ان پر تشدد کے ذمے دار ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں زیرِ حراست افراد پر تشدد اور اموات کے واقعات کے بارے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار منظر عام پر نہیں آئے ہیں لیکن ایسے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں اور بہت کم واقعات میں متاثرہ افراد یا ان کا خاندان سامنے آتا ہے۔

آٹھ برس قبل لاہور میں مبینہ طور پر پولیس کی زیرِ حراست رہنے والے ایک شخص مراد (فرضی نام) نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی پولیس کی حراست میں گزرے ان تین دنوں کو یاد کر کے کانپ جاتے ہیں۔

مراد کو ایک مکان کی خرید و فروخت میں مبینہ فراڈ کے معاملے میں پولیس نے حراست میں لے کر سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دورانِ حراست پولیس نے مدعی کی ملی بھگت سے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ الٹا لٹکا کر بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

مراد کا کہنا تھا کہ دوران حراست انہیں تین روز تک مبینہ طور پر ذہنی اذیت دینے کے ساتھ ساتھ انہیں سونے بھی نہیں دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مدعی مقدمہ کے ساتھ ساتھ معاملات طے ہونے کے بعد انہیں پولیس کی حراست سے رہائی ملی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا خوف اب بھی ان کے ذہن پر سوار رہتا ہے اور اسی وجہ سے وہ لاہور چھوڑ کر کسی اور شہر میں منتقل ہو گئے۔

مراد نے تشدد کی روک تھام کے مجوزہ قانون پر خوشی کا اظہار کیا لیکن ان کے تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں کہ شاید اس کے باوجود زیرِ حراست تشدد کو روکنا شاید آسان نہ ہو۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول اگرچہ پولیس کی زیرِ حراست تشدد کے مبینہ واقعات کی روک تھام کے لیے پہلے سے بعض قوانین موجود ہیں لیکن ان واقعات کو روکنے کے لیے نہ صرف انصاف کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے بلکہ جواب دہی کے عمل کو بھی موثر بنانا ہو گا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل نے ایک ٹوئٹ میں سینیٹ میں مذکورہ بل کی متفقہ منظوری کے اقدام کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ قومی اسمبلی بھی یہ بل منظور کر لے گی۔