ترکی کی یورپ میں اثرورسوخ بڑھانےکی کوششیں

یورپی یونین میں ترکی کے روایتی حلیفوں اوربعض دوسرے ملکوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ترکی، یورپی یونین میں رکنیت کا خواہشمند ہے لیکن یورپی ملکوں نے سرد مہری کا جورویہ اختیار کیا ہے، اس پر ترکی ناراض ہے۔

اس مہینے کے شروع میں استنبول میں یورپی یونین کے عہدے داروں کے ساتھ ترکی کےکئی اہم اجلاس ہوئے، لیکن یورپی یونین میں اس کی رکنیت کا معاملہ اب تک کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ اس کے باوجود، ترکی نے علاقے میں اپنا سیاسی اثرورسوخ بڑھانےکی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

استنبول میں یورپی یونین کے دو اعلیٰ عہدے دار، ترکی کی رکنیت کے سلسلے میں اہم مذاکرات کے لیے ترکی کے وزیرِ خارجہ سے ملے تو ماحول بظاہر بہت خوشگوار تھا۔ لیکن اصلیت کچھ اور ہے- یورپی یونین میں ترکی کے روایتی حلیفوں اوربعض دوسرے ملکوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ترکی، یورپی یونین میں رکنیت کا خواہشمند ہے لیکن یورپی ملکوں نے سرد مہری کا جورویہ اختیار کیا ہے، اس پر ترکی ناراض ہے۔

گذشتہ مئی میں ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے خلاف ترکی کے ووٹ سے امریکہ کو مایوسی ہوئی ہے۔ حال ہی میں، ترکی نے اپنے کئی عشرے پرانے اتحادی اسرائیل سے گذشتہ مہینے امدادی بحری بیڑے پر حملہ کرنے پر معافی کا مطالبہ کیا۔ اس حملے میں آٹھ ترک باشندے اور ایک ترکی نژاد امریکی شہری ہلاک ہوا تھا۔

لیکن یہ مسلمان ملک جو مشرق اورمغرب میں پھیلا ہوا ہے، اپنا سیاسی اثر و رسوخ یورپ کی سرحدوں کے پارپھیلا رہا ہے۔ صدر عبداللہ گل اور وزیر اعظم رجب طیب اردگان کی حکومت بڑے منظم طریقے سے مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کے ساتھ سیاسی تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان ملکوں میں ایران، عراق اور شام شامل ہیں۔ ترکی، علاقائی تنازعات میں بھی ، جنھیں تجزیہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی سرد جنگ کا نام دیا ہے، ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے ۔

یورپ میں آج کل ترکی کی معیشت کا چھٹا نمبر ہے اور وہ بڑی تیزی سے دنیا کے نقشے پر ایک با اثر ملک کی حیثیت سے ابھر رہا ہے۔ گذشتہ ماہ، ترکی کے چوٹی کے سفارتکاروں نے واشنگٹن کا دورہ کیا اور اپنے امریکی ہم منصبوں کو اپنے سیاسی مقام اور روز افزوں اہمیت کا احساس دلایا۔ ترک وزیرِ اعظم کے مشیرِ اعلیٰ، ابراہیم کالن نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی کے رویے میں اس احساس و اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے کہ سرد جنگ کے بعد کے عہد میں دنیا کو نئی حقیقتوں کا سامنا کرنا چاہیئے۔

اے کے اے پارٹی کے ایک رکن، ڈاکٹر سوات کینک لیگولو کہتے ہیں کہ ’’ہم سمجھتے ہیں اور ممکن ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ اسے ہماری سادہ لوحی سمجھیں، کہ فرانس اور جرمنی نے مغربی یورپ میں جو کچھ حاصل کیا ہے، ہم مشرقِ وسطیٰ، قفقاز ، بحر اسود، اور بلقان کے علاقے میں وہی سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں انسانوں، تصورات، اور اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہے‘‘۔

امریکہ میں ترکی کے سفیر نے کہا کہ ترک سفارتکاروں کا واشنگٹن کے حالیہ دورے کا مقصد یہ تھا کہ امریکی قانون سازوں کو ترکی کی خارجہ پالیسی کے بدلتے ہوئے رجحان سے آگاہ کیا جائے۔ ترکی کی اس نئی پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ مغرب سے اور خاص طور پر یورپ سے منہ موڑ رہا ہے اور ایران اور شام جیسے ملکوں کے ساتھ سیاسی شراکت داری قائم کرنے کےلیے مشرق کی طرف دیکھ رہا ہے۔ مغربی ملکوں کے لیے یہ تبدیلی تشویش کا باعث ہے۔

لیکن ترک وزیرِ اعظم کے مشیر اعلیٰ، ابراہیم کالن کہتے ہیں کہ ترکی اس کے سوا اور کچھ نہیں کر رہا ہے کہ یورپی ملک اچھے ہمسائے کی جس پالیسی پر عمل کرتے ہیں، ترکی اپنے علاقے میں اسی پالیسی پر عمل کر رہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ترکی مشرق وسطیٰ میں امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع پیدا کر رہا ہے۔

ابراہیم کالن کا کہنا ہے کہ ’’جہاں تک اقدار کا تعلق ہے، ہمیں اس میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔ جب ہمارے یورپی اور امریکی اتحادی روس اور چین جیسے ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی اسی قسم کی کوششیں کرتے ہیں، تو اسے بین الاقوامی امن کے لیے عظیم کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کو اب بھی یہ حقیقت تسلیم کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ دنیا کے دوسرے ملک بھی ہماری طرف سے اسی احترام کے مستحق ہیں۔ ہم اپنی خارجہ پالیسی میں اپنے علاقے میں یہی کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

ترکی کے اس اعتماد کی ایک معقول وجہ موجود ہے۔ اس کی معیشت اب دنیا میں سولہویں سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کی مجموعی قومی پیداوار کی مالیت تقریباً 750 ارب ڈالر ہے۔ صر ف یہی نہیں، ترکی اب دنیا کے 30 سے زیادہ ملکوں کو50 کروڑ ڈالر کی سالانہ امداد دیتا ہے جس سے اسے دنیا میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

ابراہیم کالن کا اصرار ہے کہ ترکی کی یہ نئی حکمت عملی، اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی حقیقتوں کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق ’’ہمیں اب بھی اس اندازِ فکر پر قابو پانا ضروری ہے کہ عالمی سیاست کا محور یورپ ہے، یعنی یہ تصور کہ انسانی تاریخ کا آغاز یورپ میں ہوا اور اس کا مرکز اب بھی یورپ ہی ہے اور ضمناً کہیں کہیں اسلامی دنیا، چین، عثمانی ترکوں کا بھی ذکر آ جاتا ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنا ضروری ہے ‘‘۔

اس نئے عالمی نظام میں، چین، بھارت، اور برازیل جیسے ترقی پذیر ملکوں کو زیادہ سیاسی اور اقتصادی طاقت حاصل ہو رہی ہے جب کہ ایسا لگتا ہے کہ روایتی عالمی طاقتیں، دنیا کے اسٹیج پر اپنا کچھ اثر و رسوخ کھو رہی ہیں۔